انڈیا میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات، بس ریپ کیس کی یاد تازہ ہوگئی
انڈیا میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات، بس ریپ کیس کی یاد تازہ ہوگئی
جمعہ 25 ستمبر 2026 17:30
حال ہی میں دہلی میں 16 سال کی ایک لڑکی ریپ کے بعد مُردہ حالت میں ملی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا میں ریپ کے حالیہ واقعات نے خواتین کی حفاظت پر بحث کو دوبارہ جنم دیا ہے۔ سخت قوانین اور سزاؤں کے باوجود جنسی تشدد میں کمی نہیں آئی۔ نئی دہلی میں طلبہ نے احتجاجی مارچ کیا اور مزید مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق تین افراد نے پولیس اہلکاروں کا رُوپ دھار کر 17 سال کی لڑکی کو عوامی پارک میں اجتماعی ریپ کا نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ 2012 کے مشہور کیس کی یاد دلاتا ہے، جب ایک 23 سالہ طالبہ کو بس میں اجتماعی ریپ اور قتل کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد سخت قوانین متعارف کرائے گئے، لیکن کارکنان کے مطابق یہ ناکافی ہیں۔
خواتین کے حقوق کی کارکن یوگیتا بھیانا نے کہا کہ اصل مسئلہ ذہنیت کی تبدیلی ہے۔ اب بھی یہ سوچ موجود ہے کہ اگر عورت رات گئے گھر سے باہر ہے یا کسی مرد کے ساتھ نظر آئے تو یہ اس کی غلطی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں روزانہ اوسطاً 80 ریپ کیسز درج ہوئے، جو 2012 کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ کارکنان کا کہنا ہے کہ اصل تعداد کہیں زیادہ ہے کیونکہ بدنامی کے خوف سے متاثرہ خواتین اکثر رپورٹ درج نہیں کراتیں۔
دہلی اور دیگر علاقوں میں واقعات
حال ہی میں دہلی میں 16 سالہ کی ایک لڑکی ریپ کے بعد مُردہ حالت میں ملی، جبکہ ایک اور 17 سالہ لڑکی کو بس ڈرائیور اور کنڈکٹر نے بارش کے دوران لفٹ دینے کے بہانے ریپ کا نشانہ بنایا۔ بہار میں بھی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں ایک نوعمر لڑکی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
ہر کیس نے عوامی غم و غصے، گرفتاریوں اور سیاسی مذمت کو جنم دیا۔ 2012 کے بعد حکومت نے قوانین سخت کیے، اجتماعی ریپ کے لیے کم سے کم 20 سال قید اور بار بار جرم کرنے والوں کے لیے سزائے موت مقرر کی گئی۔
اصل مسئلہ نفاذ میں
وکیل شلپی جین کے مطابق مسئلہ قانون میں نہیں بلکہ نفاذ میں ہے۔ پولیس اور عدالتیں بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔ ایک پولیس سٹیشن لاکھوں لوگوں کو سنبھالتا ہے جس سے تحقیقات متاثر ہوتی ہیں۔
صنفی حقوق کی کارکن پونم متریجا کے مطابق قانونی اصلاحات اکیلے مسئلہ حل نہیں کر سکتیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا میں ریپ کے مقدمات میں سزا کی شرح قریباً ایک چوتھائی ہے۔ 2024 میں عدالتوں میں زیرِ سماعت دو لاکھ سے زیادہ کیسز میں سے 10 فیصد سے بھی کم مکمل ہوئے۔ ایک اوسط کیس کو سات سے آٹھ سال لگتے ہیں اور اگر سپریم کورٹ تک جائے تو 20 سال۔ اس تاخیر سے مجرم قانون کا خوف کھو دیتے ہیں اور متاثرہ خواتین امید کھو دیتی ہیں۔
سماجی رویے اور عدم مساوات
صنفی حقوق کی کارکن پونم متریجا کے مطابق قانونی اصلاحات اکیلے مسئلہ حل نہیں کر سکتیں۔ یہ مسئلہ سماجی رویوں اور عدم مساوات میں جڑا ہوا ہے۔ ثقافتی ممنوعات اور سیاسی مزاحمت نے آگاہی پروگراموں کو کمزور کیا ہے۔
متریجا نے کہا کہ روک تھام جرم سے پہلے گھروں، سکولوں، کمیونٹیز، ڈیجیٹل جگہوں اور پولیس نظام میں شروع ہونی چاہیے۔