Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جدہ کا الطیبات میوزیم: علاقائی ملبوسات کے تحفظ کا ثقافتی نخلستان

میوزیم میں مختلف علاقوں کے روایتی و تاریخی ملبوسات کو رکھا گیا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
جدہ میں قائم الطیبات سٹی میوزیم آف سائنس اینڈ نالج میں سعودی ثقافتی پویلین میں قومی ورثے کو پیش کیا جا رہا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق میوزیم میں موجود پویلین تعلیمی اور سیاحتی حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جہاں سعودی عرب کے مختلف علاقوں کے روایتی و تاریخی ملبوسات ڈسپلے کیے گئے ہیں۔
قدیم حجازی طرزِ تعمیر کا وسیع وعریض کمپلیکس 12 عمارتوں پر مشتمل ہے جہاں 365 سے زائد نمائشی کارنر موجود ہیں۔ اس کا بڑا حصہ قدیم علاقائی ملبوسات اور دستکاریوں کے لیے مخصوص ہے۔
مغربی ریجن اور اہل حجاز کے روایتی ملبوسات میں خواتین کے ’الزبون‘ (سر ڈھانپنے والا مخصوص رومال) جبکہ مردوں کے ’الدقلہ‘ (اوور کوٹ کی طرز کا لباس جس پر کشیدہ کاری بھی کی جاتی ہے)، ویسکوٹ اور حجازی عمامہ کے مختلف انداز کو اجاگر کیا گیا ہے۔
میوزیم میں سعودی ونگ کے دیگر حصوں میں وسطی اور مشرقی ریجن کے ثقافتی ورثے کو نمایاں کیا گیا ہے جہاں سنہری زری کے دھاگوں سے کشیدہ کاری کیا جانے والا الاحسا کا روایتی ’بشت‘ اور تاریخی جلابیات توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں۔

جنوبی ریجن کے ملبوسات اپنی شوخ رنگت والی بناوٹ اور متاثرکن ڈیزائنوں کے باعث منفرد حیثیت رکھتے ہیں جن میں ’المجنب‘ کشیدہ کاری سے مزین لباس، خوشبودار ہار اور روایتی چاندی کے زیورات شامل ہیں۔
شمالی ریجن کی نمائندگی ’المحوثل‘ اور صحرائی ماحول کے مطابق تیار کی جانے والی بھاری بھر کم عبائیوں کے ذریعے کی گئی ہے۔

عجائب گھر کے سپروائزر یوسف محمد کیکی نے بتایا کہ ’نمائش میں پیش کیے جانے والے ملبوسات محض کپڑے ہی نہیں بلکہ یہ گہری تاریخ اور سماجی روایت کے عکاس ہیں جو ہر ریجن کی طرزِ حیات، پیشوں اور موسمی حالات کی بھی نمائندگی کرتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میوزیم کا مقصد دہائیوں سے محفوظ نایاب نوادرات کے ذریعے نئی نسل اور غیرملکی سیاحتی وفود کو قومی ورثے کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔‘

 

شیئر: