ریڈ سی میوزیم نے ’دی سنکن ٹریژرز‘ نمائش 15 اگست تک بڑھا دی
نمائش سمندر کی تہہ میں تاریخی دریافتوں کو اجاگر کرتی ہے۔ ( فوٹو: ایس پی اے)
جدہ کے تاریخی علاقے میں واقع ریڈ سی میوزیم، اپنی عارضی نمائش ’دی سنکن ٹریژرز: دی میری ٹائم ہیریٹج آف دی ریڈ سی‘ کو 15 اگست 2026 تک توسیع دے کر اپنی ثقافتی اور تعلیمی آفرز کو مضبوط کر رہا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق یہ عارضی نمائش ’باب البنط‘ میں جاری ہے، جو ایک جامع تعلیمی اور بصری تجربہ فراہم کرتی ہے اور مملکت کے ساحلوں کے قریب سمندر کی تہہ میں تاریخی دریافتوں کو اجاگر کرتی ہے۔
یہ نمائش بحیرۂ احمر کو ایک اہم ثقافتی اور تہذیبی راہداری کے طور پر دوبارہ متعارف کراتی ہے، جس نے طویل عرصے تک جزیرہ عرب کو ایشیا، افریقہ اور بحیرۂ روم سے جوڑے رکھا اور صدیوں کے دوران تجارت، ثقافتی تبادلے اور انسانی روابط کو فروغ دیا۔
وزیٹرز کو ریڈ سی کے اس تاریخی ورثے سے آگاہی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے، جو صدیوں پر محیط بحری سفر، تجارت اور تہذیبی تبادلوں کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔
نمائش، وزیٹرز کو ایک جامع علمی اور بصری تجربہ فراہم کرتی ہے، جس میں سمندر برد ہونے والے جہازوں کے ملبے، سمندری خزانے اور مرجانی چٹانوں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

نمائش میں اصل آثارِ قدیمہ، جدید بصری پیشکشیں اور انٹرایکٹو ٹیکنالوجیز استعمال کی گئی ہیں، جو ریڈ سی کو ایک ایسے تہذیبی اور ثقافتی راستے کے طور پر پیش کرتی ہیں، جس نے جزیرہ نما عرب، ایشیا، افریقہ اور بحیرہ روم کے درمیان روابط کو فروغ دیا۔
نمائش، چار بنیادی حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ ’ بحیرۂ احمر کا راہداری نظام‘ ہے، جہاں بحری سفر کے طریقوں کے تجارتی راستوں پر اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
دوسرا حصہ ’جہاز پر زندگی‘ کے عنوان سے ہے، جس میں ملاحوں کی روز مرہ زندگی، جہاز رانی کے آلات اور تجارتی سامان کی تفصیلات شامل ہیں۔

تیسرا حصہ ’جہازوں کے ملبے: ایک سفرسے یادگار تک‘ کے عنوان سے ہے، جو ڈوب جانے والے جہازوں کے تاریخی آثار میں تبدیل ہونے کے عمل کو بیان کرتا ہے۔
آخری حصہ ’مستقبل کے لیے دریافت‘ پر مشتمل ہے، جس میں سمندری ورثے کے تحفظ کے لیے جاری تحقیق، دستاویزی کام اور بحالی کی کوششوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔

سمندری تاریخ کے حوالے سے متعدد نادر نوادرات شامل ہیں، جن میں جہاز رانی کے آلات، تاریخی سکے، چینی مٹی اور مٹی کے برتنوں کے نمونے اور بحیرۂ احمر کے ساحلوں کے قریب دریافت ہونے والے تاریخی جہازوں کے ملبے سے حاصل شدہ اشیا شامل ہیں۔
نمائش سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق مملکت کے اس عزم کی بھی عکاسی ہے جس کے تحت ثقافتی اور قدرتی ورثے کے تحفظ، اور سعودی عجائب گھروں کوعلم، مکالمے اور پائیدار ثقافتی تجربات کے مراکز کے طور پر فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
