Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے‘: ٹرمپ سے اختلاف کے بعد فرانسیسی صدر کی جارجیا میلونی کی میزبانی

فرانسیسی صدر کے دفتر سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی، جو حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد خبروں میں رہیں، جمعرات کو فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں سے ملاقات کرنے والی ہیں تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپ کی نمایاں دائیں بازو کی رہنماؤں میں شمار ہونے والی جارجیا میلونی فرانسیسی رویرا کے تفریحی مقام انتیب پہنچیں، جہاں ایمانویل میکخواں کے ساتھ ان کی پہلی دوطرفہ سربراہی ملاقات ہوئی۔
منگل کی دوپہر شروع ہونے والے مذاکرات 2021 میں سٹریٹجک اتحاد کے معاہدے کے نفاذ کے بعد فرانس اور اٹلی کے درمیان ہونے والا پہلا سربراہی اجلاس ہے، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو فرانس اور جرمنی کے تعلقات کے مساوی سطح تک پہنچا دیا ہے۔
فرانسیسی ایوانِ صدر کے مطابق،’یہ اجلاس فرانس اور اٹلی کے درمیان کئی اہم شعبوں، خصوصاً دفاع، جوہری توانائی اور خلائی تعاون میں شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔‘ یہ بات بحیرۂ روم کے کنارے واقع 19ویں صدی کی شاندار رہائش گاہ ولا ایلین روک میں ہونے والے مذاکرات سے قبل کہی گئی۔
یورپ نواز اعتدال پسند ایمانویل میکخواں اور دائیں بازو کے اتحاد کی سربراہ جارجیا میلونی کے درمیان تعلقات ماضی میں اکثر کشیدہ رہے ہیں، تاہم دونوں نے اختلافات خاص طور پر گزشتہ سال جون میں روم میں ہونے والی طویل ملاقات کے بعد کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اپریل میں آبنائے ہرمز کے تحفظ سے متعلق سربراہی اجلاس کے لیے پیرس میں ہونے والی ملاقات کے دوران میلونی سرخ رنگ کی الفا رومیو میں ایلیزے محل پہنچیں۔ جہاں فرانسیسی صدر نے ان کا پرتپاک انداز میں استقبال کیا، جس پر میلونی بظاہر حیران رہ گئیں۔
اس موقع کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

شیئر: