انڈیا: چوری کے ڈر سے دفنائی گئی لاکھوں کی رقم کو دیمک چاٹ گئی
انڈیا: چوری کے ڈر سے دفنائی گئی لاکھوں کی رقم کو دیمک چاٹ گئی
پیر 10 اگست 2026 10:24
کسان کو کئی روز کے بعد وہ جگہ ملی جہاں رقم دفنائی گئی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا میں ایک کسان چوری ہونے کے ڈر سے لاکھوں کی رقم زمین میں دفنانے کے بعد ’درست مقام‘ بھول گیا اور اس کے بعد جو ہوا اس نے ان کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسکا دی۔
ٹریبیون انڈیا کی رپورٹ کے مطابق واقعہ راجستھان کے علاقے پرچپادرا میں پیش آیا۔ ایک کسان منگی لال میگھوال نے پچھلے برس ایک پلاٹ بیچا تھا جس کے بدلے اسے پانچ لاکھ روپے کی رقم ملی، مگر انہیں خدشہ تھا کہ کہیں کوئی ان کو چوری نہ کر لے یا پھر گھر والے خرچ نہ کر دیں۔
اس کا حل ان کے ذہن میں یہ آیا کہ رقم کو چھپا دیا جائے، ایک رات وہ نوٹوں سے بھرا شاپر لے کر اپنے کھیت میں پہنچے اور کسی کو بتائے بغیر ایک جگہ پر اسے زمین میں دفن کر دیا جبکہ ساتھ ہی نشانی کے لیے ایک لکڑی بھی گاڑ دی۔
تاہم چند روز بعد وہ لکڑی وہاں موجود نہیں تھی مگر ان کا خیال تھا کہ ضرورت پڑنے پر اس جگہ کو ڈھونڈ ہی لیں گے۔
گھر والے ان سے پوچھتے رہے کہ رقم کہاں ہے اور وہ یہی کہتے کہ وہ محفوظ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس کا یہ خیال اس وقت خام ثابت ہوا جب وہ گھر میں کوئی ضرورت پڑنے پر رقم نکالنے کے لیے گئے اور کئی جگہ کھدائی کرنے کے بعد بھی درست مقام کو نہ پا سکے۔
انہیں یہ خدشہ بھی لاحق ہوا کہ کہیں کسی نے رقم نکال نہ لی ہو مگر یہ امید بھی کہ درست جگہ ملنے پر وہ مل ہی جائے گی۔
بہرحال انہوں نے اپنے بیٹوں کو بتا دیا اور وہ بھی اس کھوج میں ان کے ساتھ شامل ہو گئے مگر تلاش کرنے میں ناکام رہے۔
اس پر فیصلہ کیا گیا کہ ٹریکٹر منگوا کر پورے کھیت کو کھودا جائے، کرائے پر ٹریکٹر کا انتظام کرنے کے بعد جب ڈھونڈنا شروع کیا تو ایک جگہ سے شاپر کے کچھ بوسیدہ ٹکڑے برآمد ہوئے، اسی مقام پر مزید کھدائی کی گئی، شاپر تو مل گیا لیکن اس کے اندر نوٹوں کے بچے کھچے حصے موجود تھے اور باقی کو دیمک چاٹ گئی تھی۔
کسان منگی لال کو رقم کے محض ٹکڑے ملے کیونکہ ان کو دیمک کھا چکی تھی (فوٹو: ٹریبیون انڈیا)
باقی ماندہ رقم بھی ناقابل استعمال ہو چکی تھی، جس سے غریب خاندان کو مزید پریشانی میں دھکیل دیا۔
اس واقعے کی ویڈیو اس وقت انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہے جس میں ایک مرد اور خاتون دکھائی دے رہے ہیں، وہ ایک پلاسٹک کے ٹب کے پاس بیٹھے ہیں جس کے اندر نوٹوں کے ٹکڑے پڑے ہیں اور مرد کے چہرے سے پریشانی عیاں ہے جبکہ خاتون نے چہرہ ڈھانپ رکھا ہے۔
یہ بتائے جانے کے باوجود بھی کہ نوٹ استعمال کے قابل نہیں ہیں، منگی لال کو امید ہے کہ خراب ہونے کے باوجود یہ نوٹ تبدیل ہو جائیں اور ان کی محنت کی کمائی واپس آ جائے گی۔