Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کا غزہ پلان حماس کے غیرمسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کے انخلا سے مشروط

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر ٹرمپ نے 30 جولائی 2025 کو ہونے والی جنگ بندی میں اہم پیشرفت ہوئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ جنگ کے خاتمے کے نئے منصوبے میں حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ اسرائیل بھی اپنی فوجیں نکالے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حماس نے ان شرائط کی ماننے پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم اسرائیل نے مسترد کر دیا ہے۔
اس کا کہنا ہے حماس کے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے تک غزہ سے فوج نہیں نکالی جائے گی۔
صدر ٹرمپ کا نیا منصوبہ کیا ہے؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 30 جولائی 2025 کو ہونے والی جنگ بندی میں مذاکرات کے بعد اہم پیشرفت کا دعویٰ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حماس اور غزہ میں موجود دیگر مسلح گروہوں نے ان کے ’بورڈ آف پیس‘ کی جانب سے پیش کیے گئے 15 نکاتی منصوبے کو قبول کر لیا ہے اور غیر مسلح ہونے پر تیار ہیں۔
2025 میں ہونے والی اس جنگ بندی سے پُرتشدد واقعات میں کمی آئی لیکن اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور نہ مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیا جا سکا ہے اور یہ دونوں نکات ہی قاہرہ میں کئی ماہ سے جاری بورڈ آف پیس اور حماس کے درمیان مذاکرات کا مرکز رہے ہیں۔
اس نئے منصوبے کا مقصد پہلے سے موجود جنگ بندی کو آگے بڑھانا ہے۔ اس کے تحت اسرائیل غزہ سے اپنی فوجیں واپس بلائے گا جبکہ دو سال کی اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے باعث تباہ ہونے والے غزہ کو امریکہ کی حمایت یافتہ نئی فلسطینی حکومت کے تحت بحال کیا جائے گا۔
غزہ کے روڈ میپ کے مزید اہم نکات
منصوبے کے مطابق اسرائیل اور حماس غزہ میں تمام فوجی کارروائیاں فوری طور پر روک دیں گے۔
بورڈ آف پیس کی جانب سے جاری کیے گئے متن کے مطابق غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلا حماس سمیت تمام مسلح گروہوں کے غیر مسلح ہونے سے مشروط ہو گا۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غزہ کے انتظام کے لیے ایک نئی ٹیکنوکریٹ حکومت بنائی جائے گی جسے ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن‘ کے طور سے جانا جائے گا۔
یہ حکومت شہری امور سنبھالنے کے ساتھ ساتھ بھاری ہتھیاروں، اسلحہ بنانے کے مراکز، ذخیروں اور سرنگوں کو محفوظ طور پر ختم کرنے کے کام کی نگرانی بھی کرے گی۔
منصوبے میں ’انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس‘ کا بھی ذکر ہے جو ان علاقوں میں سکیورٹی سنبھالے گی جہاں سے اسرائیل فوج واپس جائے گی۔
اس کے علاوہ یہ فورس نئی فلسطینی پولیس کو تربیت بھی دے گی اور غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل میں بھی مدد دے گی۔
اسرائیل اور حماس کا موقف
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کا نیا منصوبہ موجودہ شکل میں قبول نہیں تاہم اس بارے میں واشنگٹن کے ساتھ تجاویز کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حماس کے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی فوج واپس نہیں جائے گی۔
دوسری جانب حماس نے اس مںصوبے کی حمایت کی ہے تاہم بورڈ آف پیس کی جانب سے ایکس پر کی گئی اس پوسٹ پر احتجاج کیا جس میں کہا گیا تھا کہ غیر مسلح ہونے کے معاملے سے ہلکے ہتھیاروں جیسے بندوقوں کو نکال دیا جائے جبکہ اسرائیلی فوج بھی تبھی نکلے گی جب حماس پوری طرح غیر مسلح ہو جائے۔

شیئر: