Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جولائی 2026 میں ریکارڈ توڑ گرمی سے 90 کروڑ افراد متاثر، کون کون سے ممالک شامل ہیں؟ 

مضبوط اور جدید موسمیاتی ادارے رکھنے والے ممالک فرانس اور سپین نے بھی ریکارڈ توڑ گرمی کی تصدیق کی (فائل فوٹو: اے پی)
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے اعدادوشمار نے اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’2026 میں قریباً 90 کروڑ آبادی والے علاقوں میں جولائی سب سے گرم مہینہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان علاقوں میں ساحِل، وسطی امریکہ، فرانس اور سپین شامل ہیں۔‘
تفصیلی تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ 33 ممالک میں جولائی کا درجۂ حرارت (ریکارڈ مُرتب کرنے کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد سے) اب تک کا سب سے زیادہ گرم مہینہ رہا۔
مضبوط اور جدید موسمیاتی ادارے رکھنے والے دو یورپی ممالک فرانس اور سپین نے بھی اپنے الگ الگ تجزیوں کے ذریعے ریکارڈ توڑ گرمی کی تصدیق کی۔ 
دوسری جانب کم آمدنی والے بہت سے ممالک میں موسمیاتی اعدادوشمار تفصیل سے شائع نہیں کیے جاتے۔ اسی لیے اے ایف پی نے عالمی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے یورپی کوپرنیکس پروگرام کے اعدادوشمار کا آزادانہ تجزیہ کیا۔
یہ ڈیٹاسیٹ مختلف ممالک کے زیرِانتظام سیٹلائٹس، زمین، سمندر اور فضا میں موجود موسمیاتی سٹیشنوں کے مشاہدات اور موسمیاتی ماڈلنگ کو یکجا کرتا ہے۔ اس میں 1970 سے اب تک دنیا بھر کے ہر گھنٹے کے موسمیاتی اعدادوشمار کا ریکارڈ شامل ہے۔
ساحِل کے علاقے میں اوسط سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ گرمی
قریباً 90 کروڑ متاثرہ افراد میں سے قریباً 40 کروڑ افراد افریقہ میں رہتے ہیں، جن میں زیادہ تر ساحِل کے علاقے میں آباد ہیں۔
ساحِل (Sahel) میں موریطانیہ، برکینافاسو، نائیجریا، نائیجر، چاڈ، سوڈان اور اریٹریا اور سینیگال کے علاقے شامل ہیں۔ 
مغربی اور شمالی افریقہ کے نیم خشک خطے میں واقع 10 ممالک میں جولائی کے ماہانہ درجۂ حرارت کا ریکارڈ ٹُوٹ گیا۔ ان میں موریطانیہ، نائجر اور برکینافاسو شامل ہیں۔

ساحِل کے ممالک بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے حوالے سے دنیا کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

مشرقی افریقہ میں بھی سوڈان، کینیا اور ایتھوپیا نے جولائی میں گرمی کے نئے ریکارڈز قائم کیے۔
خطِ استوا کے قریب واقع ممالک میں درجۂ حرارت میں تبدیلی عموماً معتدل علاقوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ اس کے باوجود چاڈ اور سوڈان میں جولائی کا درجہ حرارت 1981 سے 2010 کی اوسط کے مقابلے میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن نیٹ ورک (ڈبلیو ڈبلیو اے) کے سائنس دانوں نے جنوری میں خبردار کیا تھا کہ 2015 کے بعد شدید گرمی کے واقعات کے امکانات قریباً 10 گنا بڑھ گئے ہیں۔
سائنس دانوں کی جانب سے گرمی میں اس اضافے کو انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی سے منسوب کیا تھا۔
ساحِل کے ممالک بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے حوالے سے دنیا کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں۔ ان میں سے بہت سے ممالک پہلے ہی مسلح تنازعات، غذائی قِلت اور وسیع پیمانے پر غُربت جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔

شیئر: