Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایرانی دھمکی کے بعد جہاز تبدیل، ٹرمپ انقرہ سے خفیہ فوجی طیارے میں روانہ ہوئے

وائٹ ہاؤس کی جانب یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ صدر ایئر فورس ون میں سفر کر رہے ہیں (فوٹو: اے پی)
ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد امریکی صدر نے ایک خفیہ فوجی جہاز میں سفر کیا جبکہ وائٹ ہاؤس نے یہی ظاہر کیا تھا کہ وہ ایئر فورس ون میں روانہ ہوئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے واشنگٹن پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے مہینے صدر ترکیہ سے ایک خفیہ فوجی جہاز میں روانہ ہوئے تھے جبکہ اس سے قبل ایران نے امریکی صدر کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔
رپورٹ کے مطابق جہاز تبدیل کرنے کا یہ اقدام اسی وجہ سے اٹھایا گیا تھا جبکہ ظاہر یہی کیا گیا کہ وہ امریکہ کے صدارتی جہاز میں ہی سفر کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے قطر کی جانب سے دیے گئے جہاز میں انقرہ گئے تھے تاہم واپسی کے لیے اسی جہاز کو استعمال نہیں کیا بلکہ ایک پرانے ایئر فورس طیارے کے ذریعے واپس پہنچے۔
اس کے بعد نئے جہاز کی سکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
نیٹو اس طیارے کا پہلا بین الاقوامی سفر تھا جبکہ طیارے کی تیزی سے کی گئی تزئین و مرمت، لاگت اور سکیورٹی سے متعلق پہلے بھی سوالات اٹھ رہے تھے۔
یہ سفر ایک ایسے وقت میں ہوا تھا جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بہت زیادہ تھی جبکہ ترکیہ ایران کے پڑوس میں ہی واقع ہے۔
انقرہ سے روانگی سے قبل صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ وہ سفر کے لیے ایک پرانا چھوٹا ایئر فورس استعمال کریں گے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے یہی ظاہر کیا تھا کہ صدر ٹرمپ ایئر فورس ون میں سفر کر رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

اس کے بعد وہ کیمروں کے سامنے ایئر فورس ون میں سوار ہوئے تاہم اس کے بعد ان کو ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے ایئر پورٹ پر ہی موجود ایک اور جہاز پر لے جایا گیا۔
رپورٹ میں اس واقعے سے واقفیت رکھنے والے عہدیداروں کا حوالہ دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی صدر ٹرمپ کو لاحق خطرے کے باعث کی گئی۔
اس سے قبل 2000 میں بھی ایسی ہی کارروائی کی گئی تھی جب صدر بل کلنٹن نے پاکستان جانے کے لیے ایک بغیر شناخت کے سرکاری طیارے کا استعمال کیا تھا جبکہ اصل طیارہ ایئر فورس ون سامنے رکھا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق جہاز میں سفر کرنے والے صحافیوں کو بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ اس میں موجود نہیں ہیں، ان کو پریس کیبن کے کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
بعد میں جب صحافیوں کی جانب سے صدر سے متعلق پوچھا گیا کہ کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی تو ان کا کہنا تھا کہ کیونکہ وہ ایک خطرناک سفر تھا۔
وہ سی 32 اے طیارہ رات قریباً 10 بج کر 20 منٹ پر برطانیہ پہنچا جبکہ اس کے ساتھ ہی اڑان بھرنے والے پرانے ایئر فورس ون نے چند منٹ بعد لینڈنگ کی۔

شیئر: