Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں سے ہلاکتیں 235 ہو گئیں، 4300 زخمی

کاراکاس کے شمال میں صوبہ لا گوائرا کے ایک شہر میں رہائشی بے بسی سے ایک کمسن بچی کی چیخیں سنتے رہے (فوٹو: روئٹرز)
وینزویلا کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ زلزلے کے نتیجے اب تک کم از کم 235 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً 43 سو زخمی ہیں۔
 امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ان دو زلزلوں کی شدت 7.2 اور 7.5 تھی، جو بدھ کی رات شمالی وینزویلا میں ایک منٹ سے بھی کم وقفے میں آئے۔ جمعرات کو بھی طاقتور آفٹر شاکس محسوس کیے گئے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق وزیرِ صحت کارلوس الواراڈو نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 235 تک پہنچ گئی ہے جبکہ تقریباً 43 سو افراد زخمی ہیں۔
ریسکیو کی کوششیں سست روی کا شکار رہیں، اور کئی گھنٹوں بعد بھی لاشیں ملبے کے نیچے نظر آ رہی تھیں، جبکہ کچھ پھنسے اور زخمی افراد کے لیے وقت ختم ہو گیا۔
کاراکاس کے شمال میں صوبہ لا گوائرا کے ایک شہر میں، رہائشی بے بسی سے ایک کمسن بچی کی چیخیں سنتے رہے جو کئی گھنٹوں تک مدد کے لیے پکارتی رہی۔ 48 سالہ رہائشی دانی ریزو نے کہا کہ ’ہمیں لوگوں کی ضرورت ہے تاکہ ہم اسے باہر نکال سکیں۔‘ تاہم کچھ دیر بعد مقامی باشندوں نے بتایا کہ بچی دم توڑ گئی۔
لا گوائرا کے ایک اور مقام پر تین افراد کو ایک منہدم عمارت کے ملبے میں زندہ سنا گیا۔ ایک رہائشی انتونیو برمیوڈیز نے کہا کہ ’وہ ابھی زندہ ہیں، لیکن ہم کچھ نہیں کر سکتے، ہمارے پاس کوئی اوزار نہیں، کوئی طریقہ نہیں کہ مدد کر سکیں۔‘
عالمی ریسکیو ٹیمیں روانہ
ایک ریسکیو ورکر نے اے ایف پی کو بتایا کہ حالات نہایت نازک ہیں، تربیت یافتہ عملے کی کمی اور تکنیکی مسائل شدید ہیں۔ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے جمعرات کو لا گوائرا کا دورہ کیا جسے آفت زدہ علاقہ قرار دیا گیا۔

چین، برازیل اور حتیٰ کہ جنگ زدہ ایران نے بھی مدد کی پیشکش کی (فوٹو: روئٹرز)

دنیا بھر سے مدد کی پیشکشیں آنے لگی ہیں۔ سوئٹزرلینڈ، سپین، فرانس، پرتگال اور میکسیکو نے ماہرین اور ریسکیو ٹیمیں وینیزویلا بھیجنے کا اعلان کیا۔ امریکہ نے کہا کہ وہ دو جنگی جہاز، ٹرانسپورٹ طیارے اور ہیلی کاپٹر بھیج رہا ہے، ساتھ ہی 150 ملین ڈالر کی امداد فراہم کر رہا ہے۔
واشنگٹن وینیزویلا میں گہری دلچسپی رکھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب امریکی افواج نے جنوری میں صدر نکولس مادورو کو معزول اور گرفتار کیا۔
چین، برازیل اور حتیٰ کہ جنگ زدہ ایران نے بھی مدد کی پیشکش کی، جبکہ پوپ لیو چہار دہم نے ابتدائی طور پر ایک لاکھ یورو کی امداد بھیجی۔

 

شیئر: