Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا انڈین ایکٹر عمران ہاشمی پاکستانی ڈرامے ’بلبلے‘ کا کردار ’محمود صاحب‘ نبھائیں گے؟

عمران ہاشمی کی آئندہ فلم ’آوارہ پن ٹو‘ ریلیز ہو گی (فائل فوٹو: یوٹیوب)
بالی وُڈ کے مشہور اداکار عمران ہاشمی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے مداحوں کو وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آنے والی بائیوپک میں ’محمود صاحب‘ کا کردار ادا نہیں کر رہے بلکہ انہیں اس کردار کی پیشکش تک نہیں کی گئی۔
عمران ہاشمی کی جانب سے ’ایکس‘ پر کی جانے والی اس پوسٹ کو پاکستانی صارفین میں کافی توجہ مل رہی ہے۔
عمران ہاشمی دراصل انڈین میڈیا میں سامنے آنے والی ان خبروں پر وضاحت دے رہے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ انہیں انڈین فلمساز اور اداکار محمود علی کی زندگی پر بننے والی فلم میں مرکزی کردار کے لیے منتخب کرلیا گیا ہ
کئی صارفین نے ’محمود صاحب‘ کا نام پڑھ کر فوری طور پر مقبول پاکستانی کامیڈی ڈرامہ سیریل ’بلبلے‘ کے معروف کردار محمود صاحب، یعنی محمود اسلم، کو یاد کرلیا۔
محمود صاحب کے کردار نبھانے کے متعلق ایکس پوسٹ پر کسی نے عمران ہاشمی کو کہا کہ ’آپ محمود صاحب کا کریکٹر کر بھی نہیں سکتے‘ تو کسی نے اداکار کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ’آپ تو بالکل چھا جاتے۔‘
جیا نامی صارف نے پوچھا کہ ’مومو والا محمود صاحب۔‘
ایک دوسرے اکاؤنٹ نے ردعمل میں پوچھا کہ ’وہ جو آپ نے کرنی تھی وہ محمود صاحب کی بائیو پک تھی؟‘
ایک صارف نے لکھا کہ ’میں نے سوچا کہ آپ بلبلے والے محمود صاحب کی بات کر رہے ہیں۔‘
عبداللہ نے لکھا کہ ’آپ محمود صاحب کے کردار میں بالکل چھا جاتے۔ سچ میں، یہ ان کا ہی نقصان ہے۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ ’محمود صاحب کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔‘
فیضان ریاض نے لکھا کہ ’ایک دوسرا محمود صاحب نہیں ہو سکتا۔‘

عمران ہاشمی نے دراصل بات کیا کی تھی؟

عمران ہاشمی دراصل انڈین میڈیا میں سامنے آنے والی ان خبروں پر وضاحت دے رہے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ انہیں انڈین فلمساز اور اداکار محمود علی کی زندگی پر بننے والی فلم میں مرکزی کردار کے لیے منتخب کرلیا گیا ہے۔
عمران ہاشمی کا ’محمود صاحب‘ سے تعلق ’بلبلے‘ کے کردار سے نہیں بلکہ فلمساز محمود علی کی بائیوپک سے ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانیوں کے لیے ’محمود صاحب‘ کا مطلب گزشتہ تقریباً 17 برس سے بلبلے کے محمود صاحب ہی ہیں، جن کا کردار مشہور پاکستانی اداکار محمود اسلم نے نبھایا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہونے والی اس دلچسپ غلط فہمی نے ایک بار پھر دکھا دیا کہ ایک ہی نام، لیکن دو ملکوں میں اس سے جڑی یادیں کتنی مختلف ہوسکتی ہیں۔

شیئر: