صدر ٹرمپ کے خفیہ طور پر طیارہ بدلنے کے عمل نے سوالات اٹھا دیے
صدر ٹرمپ کے خفیہ طور پر طیارہ بدلنے کے عمل نے سوالات اٹھا دیے
بدھ 12 اگست 2026 6:49
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بظاہر ایرانی حملے کے پیش نظر طیارہ بدلنے کے عمل نے امریکی سکیورٹی طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ ایک خفیہ کارروائی تھی جس میں جہاز کے پرواز کرنے سے قبل مبینہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایئر فورس ون سے اتار کر ایک کیٹرنگ ٹرک میں بٹھا دیا گیا، جبکہ جہاز صرف صحافیوں اور معاونین کو لے کر روانہ ہوا۔
واشنگٹن پوسٹ نے پیر کو رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے 8 جولائی کو ترکی میں صدارتی طیارے سے خفیہ طور پر باہر نکل کر اپنی سکیورٹی ٹیم کے منصوبے کے تحت قتل کی سازش سے بچنے کی کوشش کی۔
کچھ سفر کرنے والے میڈیا نمائندوں نے اس بات پر غصہ ظاہر کیا کہ انہیں نادانستہ طور پر بطور ’ڈیکوئے‘ استعمال کیا گیا، جبکہ دیگر نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے دھوکہ دہی اور رابطے کی کمی پر شکایت کی۔ ٹرمپ نے صدارتی طیارے میں کیمروں اور فوٹوگرافروں کے سامنے سوار ہونے کا مظاہرہ کیا، جبکہ اے ایف پی کی تصاویر میں سامنے اور پیچھے دو سپلائی کنٹینرز ہائیڈرولک لفٹ پر دکھائی دیے۔
لیکن پھر مبینہ طور پر وہ فوراً جہاز سے نکل کر ایک کارگو کنٹینر میں داخل ہوئے اور قریب کھڑے ایک چھوٹے امریکی فضائیہ کے طیارے میں سوار ہوگئے۔
تقریباً ایک درجن صحافی، جو ایئر فورس ون کے علیحدہ حصے میں صدر تک رسائی کے بغیر سفر کر رہے تھے، اس تبدیلی سے بے خبر رہے اور ایران کے خطرے کے باوجود ترکی سے روانہ ہوگئے۔
کندھے سے فائر ہونے والے میزائل کا خطرہ؟
ایک نامعلوم وائٹ ہاؤس رپورٹر نے کہا کہ ’جب آپ وائٹ ہاؤس میں کام کرتے ہیں تو آپ کا کام صدر کا دفاع کرنا ہوتا ہے، یہ میرا کام نہیں۔ میرا کام صدر کو کور کرنا ہے۔ رپورٹرز خطرات مول لیتے ہیں، لیکن صدر کی خاطر نہیں۔‘
وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے امریکہ کو ایئر فورس ون پر ممکنہ کندھے سے فائر کیے جانے والے میزائل حملے کے بارے میں بریفنگ دی تھی، اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت اعلیٰ حکام جہاز پر موجود رہے۔
ٹرمپ نے اس وقت دعویٰ کیا کہ نیا جہاز برطانیہ میں امریکی فوجیوں کے لیے بھیجا جا رہا ہے تاکہ وہ اسے دیکھ سکیں (فوٹو: اے ایف پی)
جہاز پر موجود میڈیا نے اطلاع دی کہ سیکرٹ سروس نے ٹیک آف کے دوران کھڑکیوں کے پردے نیچے کرنے کا حکم دیا جو جنگی علاقوں کے علاوہ غیر معمولی ہدایت ہے۔
سینیٹ کے ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے منگل کو مطالبہ کیا کہ کانگریس کو ’صدر کے خلاف ایرانی خطرات اور ترکیہ سے نکلنے کے لیے کیے گئے غیر معمولی اقدامات‘ پر بریفنگ دی جائے۔
ٹرمپ کا نیٹو سربراہی اجلاس کا سفر پہلے ہی سوالات کا باعث بنا تھا جب وہ قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے ایک لگژری بوئنگ 747 پر پہنچے، جسے امریکی صدر کے لیے دوبارہ تیار کیا گیا تھا۔
لیکن مبینہ طور پر اس میں میزائل مخالف سکیورٹی نظام نصب نہیں تھا اور پرانا ایئر فورس ون دوبارہ استعمال میں لایا گیا۔
ٹرمپ نے اس وقت دعویٰ کیا کہ نیا جہاز برطانیہ میں امریکی فوجیوں کے لیے بھیجا جا رہا ہے تاکہ وہ اسے دیکھ سکیں۔
برطانیہ میں ایک مختصر قیام کے بعد وہ قطر کے تحفے میں دیے گئے جہاز پر واپس آئے اور واشنگٹن کے لیے روانہ ہوئے۔
ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ وہ جہاز جس پر وہ ترکی سے خفیہ طور پر فوجی پرواز کے بعد سوار ہوئے تھے ’زیادہ خطرے میں تھا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
اس وقت ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ صحافیوں کو کھڑکیوں کے پردے کیوں نیچے کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’کیونکہ آپ شاید ایک خطرناک پرواز پر ہیں ان بدعنوان لوگوں کی وجہ سے جن سے ہمیں نمٹنا پڑتا ہے۔ اگر میں گیا، تو آپ بھی جائیں گے۔ ٹھیک ہے؟‘
ٹرمپ کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیون چیونگ نے ایک بیان میں کہا کہ ’امریکہ کے بہت سے دشمن ہیں جو ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اور ہم ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کرتے ہیں۔‘
سنہ 2000 میں بل کلنٹن نے انڈیا سے پاکستان جاتے ہوئے آخری لمحے میں صدارتی طیارہ بدلا تھا، جس میں ایک ڈیکوئے جہاز سیکرٹ سروس ایجنٹس کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ جو بائیڈن کا 2023 کا یوکرین کا دورہ بھی سخت راز داری میں ہوا تھا جس میں طویل سفر طیارے اور ٹرین کے ذریعے کیا گیا، اگرچہ ایک رپورٹر اور فوٹوگرافر ان کے ساتھ تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ وہ جہاز جس پر وہ ترکی سے خفیہ طور پر فوجی پرواز کے بعد سوار ہوئے تھے ’زیادہ خطرے میں تھا۔‘
ٹرمپ نے واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے بعد رپورٹرز کو بتایا کہ ’میرا خیال ہے کہ وہ زیادہ خطرے میں تھا کیونکہ غالباً وہی جہاز تھا جسے وہ نشانہ بناتے۔‘