سُر، تال، لے اور ردھم کا خوبصورت آہنگ، یہ ہے طائف کا ’المجرور‘
جیسے ہی طار کے ڈھول کی تھاپ، طائف کے چوراہوں میں گونجنی شروع ہوتی ہے، ایک دوسرے کے سامنے صف آراء ہم لباس فنکاروں کی دو قطاریں ہم آواز ہو کر اُن چوراہوں کو شاعری، گائیکی، دھنوں اور نغمگی سے بھرپور ماحول میں بدل دیتے ہیں۔
پہلی قطار جو بول گنگناتی اور جو دھن بجاتی ہے، اگلی بار دوسری قطار ویسے ہی بول اور وہی دھن بجانے لگتی ہے۔
گیت گنگنانے والوں اور دھنیں بجائے والوں کا روایتی لباس، سُر، تال، لے اور ردھم کے خوبصورت آہنگ کو اپنے رنگوں سے اور بھی حسین بنا دیتا ہے۔ یہ المجرور ہے۔ طائف گورنریٹ کے قدیم ترین فنی مظاہروں میں سے ایک۔
المجرور کے فن کی جڑیں شادیوں سے بھی جڑی ہوئی ہیں اور معاشرتی رسوم و رواج سے بھی۔ اور یہ قدیم روایت اب تہواروں کی زینت بھی بنتی ہے اور یہاں کے رہائشیوں اور سیاحوں کے لیے ثقافتی ایونٹس کا ایک حصہ بھی ہوتی ہے۔
اس فن کا مخصوص پہلو، صرف دھن میں پوشیدہ نہیں ہے بلکہ شاعری، ردھم، جسمانی حرکات اور لباس سب مل کر اِس خوش الحانی اور غِنائیت سے سجے ہوئے اِس مظاہرے کو ترتیب دیتے ہیں۔ آوازیں لفظوں کو راستہ دکھاتی ہیں تو ڈھول کی تھاپ، رفتار کا تعین کرتی ہے اور قطاریں اس خوبصورت مظاہرے کے لیے موزوں اور فنی ساخت کا کام کرتی ہیں۔
پرفارمنس کے آغاز پر شرکا ایک دوسرے کے سامنے قطاریں بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کبھی پہلی اور کبھی دوسری قطار، اشعار گنگناتی اور دھنیں سناتی ہے۔ ہر نئے شعر اور ڈھول کی ہر تھاپ پر غِنائیت، آہنگ کے ذریعے ایک نیا روپ اختیار کر لیتی ہے۔

دف اور طبلہ بجانے والے فنکار، اِس دلکش منظر کے عین وسط میں کھڑے ہوتے ہیں جبکہ پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے والے ایک منظم اور متعین ترتیب کے ساتھ وہ حرکات متعارف کرانا شروع کرتے ہیں جن سے دف اور طبلہ بجانے والے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، یہ فن طائف کی مقامی یادداشت کا ایک حصہ بن گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عہدِ گزشتہ میں لوگ خوشیاں کس طرح منایا کرتے تھے، اجتماعات کیسے ہوتے تھے اور شاعری اور گیت ایک دوسرے کو کیسے سنائے جاتے تھے۔
سعید بن علی السفیانی نے، جو المجرور کو بہت پسند کرتے ہیں، سعودی پریس ایجنسی کو بتایا کہ یہ فن طائف کی تاریخ میں رچ بس چکا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ فن، تاریخی طور پر دھوم دھام سے خوشیان منانے اور سماجی مواقع پر منعقد ہونے والی تقریبات کے لیے وقف تھا۔ لیکن اپنی دھنوں، ردھم والی جسمانی حرکتوں اور عملی مظاہرے کی ترکیبوں کے ساتھ ساتھ اگلی نسلوں کو منتقل ہوتا رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ گورنریٹ کے روایتی لوک ورثے کی مختلف شکلوں میں یہ فن آج تک محفوظ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اِس فن میں استاد کا درجہ حاصل کرنے کے لیے سیکھنے والے کو اس کے مختلف عناصر، خصوصی اصطلاحات اور مختلف حصوں سے بخوبی واقفت ہونا پڑتا ہے۔

نوجوان لوک اجتماعات میں شرکت کر کے، فنِ مجرور کو آگے لے جانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ وہ اِس فن کی باریکیوں کو تجربہ کار فنکاروں سے سیکھ کر اس روایت کو اگلی نسل تک منتقل کر رہے ہیں۔
اپنی فنی قدروقیمت کے علاوہ، المجرور کے مظاہرے، طائف کے روایتی اجتماعات کی یاد تازہ کر دیتے ہیں اور اُس رشتے اور سماجی رابطوں کا ایک اظہار ہیں جس نے ماضی میں معاشرتی زندگی کی تشکیل کی تھی۔