Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں: انڈین وزارتِ خارجہ

انڈین وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ہم مغربی ایشیا کے تنازعے میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انڈین وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ’وہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مابین حال ہی میں ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔‘
منگل کو دارالحکومت نئی دہلی میں نیوز بریفنگ کے دوران میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے زور دیا کہ انڈیا اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔‘
ترجمان نے مزید کہا کہ ’حال ہی میں ہونے والے معاہدے کے حوالے سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم مغربی ایشیا کے تنازعے میں ہونے والی پیش رفت پر مسلسل گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘
’جہاں تک اس مخصوص معاہدے کا تعلق ہے، ہم اس کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں، بالخصوص اپنی قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے، اور ساتھ ہی علاقائی استحکام، امن اور سلامتی سے متعلق امور کو بھی مدِنظر رکھ رہے ہیں۔‘
رندھیر جیسوال کا کہنا تھا کہ ’انڈیا اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کرے گا۔‘
معاہدہ مکہ کیا ہے؟
یاد رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانے اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کے لیے جمعہ 7 اگست کو ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعے کو سعودی عرب کا دورہ کیا، جہاں قصر صفا، مکہ میں ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے دونوں رہنماؤں کا استقبال کیا۔
بعد ازاں مکہ مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مابین دوطرفہ و سہ فریقی تعلقات، دفاعی تعاون اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و بین الاقوامی امور کا جائزہ لیا گیا۔

 سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے جمعہ 7 اگست کو ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

مشترکہ اعلامیے کے مطابق تینوں ممالک کے تاریخی تعلقات، اسلامی اخوت، مشترکہ تزویراتی مفادات اور دیرینہ دفاعی تعاون کو مدنظر رکھتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان، صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا، کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ بازدار قوت کو مؤثر بنانا اور خطے سمیت دنیا میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔
معاہدے کی اہم شق کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف ہونے والا مسلح حملہ تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ دفاعی تعاون کے تمام شعبوں میں اشتراک اور ہم آہنگی کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
اعلامیے کے مطابق ’یہ معاہدہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے تاریخی تعلقات، اسلامی اخوت، مشترکہ تزویراتی مفادات اور دفاعی تعاون کی بنیاد پر طے پایا ہے۔‘
’اس معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا، خطے اور اس سے باہر امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینا اور مشترکہ خوش حالی کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔‘

 

شیئر: