Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں کے بعد ملبے تلے زندہ افراد کی تلاش جاری، ہلاکتیں 188 ہوگئیں

اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ ٹام فلیچر نے کہا کہ 126 برسوں میں وینزویلا میں آنے والا یہ سب سے طاقتور زلزلہ ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
وینزویلا میں دو طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں کم از کم 188 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو لواحقین اور امدادی کارکن زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے کے لیے بے تاب کوششیں کرتے رہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق بدھ کی شب شمالی وینزویلا میں ایک منٹ کے وقفے سے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلے آئے، جن سے عمارتیں زمین بوس ہو گئیں، دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں اور ہزاروں افراد گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔
قومی اسمبلی کے سربراہ جارج روڈریگیز کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 188 تک پہنچ چکی ہے جبکہ 1,520 افراد زخمی ہیں۔ جمعرات کو بھی طاقتور آفٹر شاکس محسوس کیے جاتے رہے۔
دارالحکومت کاراکاس کے شمال میں واقع ریاست لا گوائیرا سب سے زیادہ متاثر ہوئی، جہاں لوگ ملبے کے ڈھیروں میں اپنے پیاروں کو تلاش کرتے اور ان کے نام پکارتے دکھائی دیے۔
ایک رہائشی انتونیو برمودیز نے بتایا کہ ان کی رہائشی عمارت منہدم ہو گئی ہے اور ملبے کے نیچے 11ویں منزل کی ایک نوجوان خاتون جینیفر زندہ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’وہ جواب دے رہی ہیں، لیکن ہمارے پاس کوئی اوزار نہیں، ہم اس کی مدد نہیں کر سکتے۔‘
برمودیز کے مطابق ایک اور مقام پر ایک باپ اور اس کا بیٹا کدال اور سریا استعمال کرکے ملبے کے بڑے بڑے ٹکڑے ہٹا رہے تھے تاکہ خاندان کے دو دیگر افراد تک پہنچ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ’وہ اب بھی زندہ ہیں، لیکن ہم مزید کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم انہیں کہہ رہے ہیں کہ اپنی آواز زیادہ استعمال نہ کریں اور آہستہ آہستہ سانس لیں تاکہ ان کی جان بچی رہے۔‘
اے ایف پی کے صحافیوں نے لا گوائیرا میں ایک سپر مارکیٹ میں لوٹ مار کے واقعات بھی دیکھے۔
ساحلی شہر بجلی سے محروم ہے اور بہت سے لوگ رات سڑکوں پر یا اپنے لاپتا عزیزوں کی تلاش میں گزارتے رہے۔
مقامی رہائشی یلس ماریس بلانکو نے کہا، ’ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم زندہ ہیں، لیکن بہت سے لوگ اپنے خاندان کے افراد کے ملبے تلے پھنس جانے کے باعث شدید اذیت میں ہیں۔‘

عالمی امدادی ٹیمیں روانہ

عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے جمعرات کو لا گوائیرا کا دورہ کیا، جسے آفت زدہ علاقہ قرار دیا جا چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے وینزویلا کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ ٹام فلیچر نے کہا کہ 126 برسوں میں وینزویلا میں آنے والا یہ سب سے طاقتور زلزلہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ’بڑے پیمانے پر اجتماعی کوششوں‘ کی ضرورت ہوگی۔
امدادی سرگرمیوں کو مزید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ لا گوائیرا میں واقع بین الاقوامی ہوائی اڈہ شدید نقصان کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ، سپین، فرانس، پرتگال اور میکسیکو سمیت کئی ممالک نے ماہرین اور ریسکیو ٹیمیں روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
چین، انڈیا، برازیل اور ایران نے بھی مدد کی پیشکش کی ہے، جبکہ پوپ لیو چہاردہم نے ابتدائی طور پر ایک لاکھ یورو امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بحرین کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ’ہم پوری حکومتی سطح پر ردعمل دے رہے ہیں۔ یہ کارروائی بڑی، تیز اور مؤثر ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ امریکی فوج امدادی سرگرمیوں میں اہم لاجسٹک کردار ادا کرے گی۔

شیئر: