Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سپین میں کم عمر لڑکیوں کی سمگلنگ کا نیٹ ورک،’جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا‘

سپین میں پولیس کے مطابق اس نے ایک ایسے مجرمانہ گروہ کے خلاف کارروائی کی ہے جس پر الزام ہے کہ وہ گرین کیناریا کے نگہداشت مراکز میں رہنے والی بغیر سرپرست تارکین وطن کم عمر لڑکیوں کو ورغلا کر سپین کے مرکزی علاقوں اور فرانس منتقل کرتا تھا۔
حکام کے مطابق بعض کم عمر لڑکیوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ ماہ مراکش سے سپین کے خودمختار علاقے سیوتا میں بڑے پیمانے پر سرحد عبور کیے جانے کے واقعے کے بعد یورپ بھر میں غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
اس واقعے کے نتیجے میں سینکڑوں بغیر سرپرست کم عمر مہاجر بچے سیوتا میں پھنس گئے تھے۔
سپین کی پولیس فورس گارڈیا سیول کے مطابق تحقیقات اس وقت شروع ہوئیں جب گرین کیناریا میں حکام کی تحویل میں رہنے والی ایک تارکین وطن لڑکی فرانس سے واپس سپین آئی اور اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اسے ملازمت کا جھانسہ دے کر بھرتی کیا گیا تھا۔
تحقیقات کے دوران ایسے کئی دیگر واقعات بھی سامنے آئے جن میں نگہداشت مراکز سے لڑکیاں اپنے ذاتی شناختی دستاویزات کے بغیر نکلیں اور بعد میں ان کے سپین کے مرکزی علاقوں کے لیے فضائی سفر سے تعلق کے شواہد ملے۔
گارڈیا سیول کے مطابق یہ گروہ ان کم عمر لڑکیوں کی بے بسی اور معاشی حالات سے فائدہ اٹھاتا تھا۔ انہیں کینری جزائر سے نکلنے میں مدد کی پیشکش کی جاتی، جعلی شناختی یا سفری دستاویزات فراہم کی جاتیں اور فضائی و زمینی سفر کا انتظام کیا جاتا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ’اس تمام کارروائی کا مقصد انہیں جزائر سے نکال کر سپین کے مرکزی علاقوں اور بعد ازاں فرانس منتقل کرنا تھا، جہاں مبینہ طور پر بعض لڑکیوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔‘

کم عمر بچوں میں سے بہت سے سیوتا کی سڑکوں پر کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہیں: فوٹو اے ایف پی

گارڈیا سیول نے بتایا کہ کارروائی کے دوران دو متاثرہ لڑکیوں کو بازیاب کرا لیا گیا جبکہ مزید چار کم عمر لڑکیوں کو جزائر سے باہر منتقل ہونے سے روک دیا گیا۔
اس کیس میں ایک کم عمر ملزم سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ گرین کیناریا میں پانچ مختلف مقامات پر چھاپے بھی مارے گئے۔
سپین کی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 30 اور 31 جولائی کو تقریباً 72 ہزار تارکین وطن نے غیر معمولی اور جان لیوا انداز میں سیوتا کی سرحد عبور کی، جن میں سے تقریباً 70 ہزار بعد ازاں مراکش واپس چلے گئے۔

سیوتا کے واقعے کے بعد یورپ بھر میں غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے: فائل فوٹو اے ایف پی

سپین کی وزیر برائے نوجوانان و اطفال سیرا ریگو نے گزشتہ جمعہ کو بتایا تھا کہ مراکش سے ہونے والی اس بڑے پیمانے کی آمد کے بعد سیوتا میں 1,342 بغیر سرپرست کم عمر تارکین کا اندراج کیا گیا ہے۔
امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ ان کم عمر بچوں میں سے بہت سے سیوتا کی سڑکوں پر کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہیں، جس کے باعث انہیں بدسلوکی اور استحصال جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔

شیئر: