Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’آرمی چیف کے آنے تک لاشیں نہیں دفنائیں گے‘، کوئٹہ میں تین روز سے دھرنا جاری

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے مطابق ’حکومت شہدا کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی‘ (فوٹو: اے پی پی)
کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں اتوار کی شام مسلح افراد کے حملے میں چار مقامی افراد کی ہلاکت کے خلاف مقتولین کے لواحقین ، علاقہ مکینوں اور سیاسی جماعتوں کا مشترکہ احتجاجی دھرنا منگل کو تیسرے  روز بھی جاری ہے۔
دھرنے کے شرکا نے  اعلان کیا ہے کہ جب تک آرمی چیف کوئٹہ نہیں آتے اور انہیں مطالبات کی منظوری اور اس عملدرآمد  کی یقین دہانی  نہیں کراتے  تب تک لاشوں کو نہیں دفنایا جائےگا۔
اس حملے میں آٹھ زخمی بھی ہوئے تھے۔
مقامی لوگوں کے مطابق حملہ آور جاتے ہوئے 11 افراد کو اپنے ساتھ لے گئے تھے تاہم حکام نے سات افراد کے اغوا کی تصدیق کی ہے۔
حکام کے مطابق حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کارروائی شروع کی جس کے دوران چار سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے جبکہ چار حملہ آوروں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے تاہم اغوا ہونےوالے افراد کو تاحال بازیاب نہیں  کرایا جاسکا ہے۔
یہ واقعہ کوئٹہ شہر سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہنہ اوڑک کے علاقے کلی ببری میں پیش آیا۔
اس کو اپنے باغات، چشموں اور قدرتی حسن کی وجہ سے کوئٹہ کے شہریوں میں ایک معروف تفریحی مقام سمجھا جاتا ہے۔
یہ علاقہ کوئٹہ کے شمال مشرق میں واقع ہے اور ایک جانب ہرنائی جبکہ دوسری جانب زیارت کے پہاڑی سلسلوں سے جڑا ہوا ہے۔ یہاں زیادہ تر کاکڑ قبیلہ آباد ہے۔

حملہ کیسے ہوا؟

حکام اور مقامی افراد کے مطابق مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد اتوار کی شام قریبی پہاڑی علاقوں سے اتر کر کلی ببری پہنچی اور علاقے کو محاصرے میں لے کر حملہ کیا۔
ہنہ اوڑک کے رہائشی علی جان کے مطابق  ’حملہ آور شام قریباً چار بجے علاقے میں داخل ہوئے، چند روز قبل ہونے والے ایک اور واقعے کے بعد مقامی لوگ پہلے ہی محتاط تھے اس لیے حملے کی اطلاع ملتے ہی قریبی دیہات کے افراد وہاں پہنچنا شروع ہو گئے۔‘

گاؤں ہنہ اوڑک کوئٹہ شہر سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے (فوٹو: فیس بک، ہنہ اوڑک)

علی جان نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد دو سو سے زائد معلوم ہوتی تھی اور انہوں نے مختلف سمتوں سے فائرنگ شروع کر دی۔
’وہ پہاڑوں سے نیچے آئے اور مقامی لوگوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ ان کے پاس جدید ہتھیار تھے، جن میں کلاشنکوف، جی تھری رائفلیں، لائٹ مشین گنز اور راکٹ لانچر شامل تھے  جبکہ مقامی افراد پستول، کلاشنکوف جیسے محدود وسائل کے ساتھ ان کا مقابلہ کر رہے تھے۔‘
ان کے بقول ’فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔‘
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے چار افراد کی ہلاکت اور آٹھ کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تمام متاثرین ہنہ اوڑک کے مقامی رہائشی ہیں۔
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت نقیب اللہ، محمد اشرف، یونس خان اور گلریز کے ناموں سے ہوئی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حملہ آور واپس جاتے ہوئے 11 افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔
ان کے مطابق اغوا ہونے والوں میں ثنا اللہ ولد حاجی محمد اکبر، امیر جان، خدائے رحیم، عرفان اللہ، مصور خان، محمد داؤد، مطیع اللہ، ثناء اللہ ولد سردار محمد، عبدالنافع، سیف الرحمان اور وزیر محمد شامل ہیں۔
تاہم صوبائی وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ حکومت کے پاس ابتدائی طور پر سات افراد کے اغوا کی اطلاعات ہیں۔

ہنہ اوڑک میں زیادہ تر کاکڑ قبیلہ آباد ہے (فوٹو: فیس بک، ہنہ اوڑک)

پیر کو سوشل میڈیا پر لاپتہ افراد میں سے بعض کی لاشیں ملنے کی اطلاعات گردش کرتی رہیں جن کی صوبائی وزیر داخلہ نے تردید کی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے میڈیا معاون شاہد رند نے کہا کہ جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

سکیورٹی آپریشن اور فورسز کی تعیناتی

حکام کے مطابق حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پہاڑی علاقوں کی جانب فرار ہو گئے۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد فرنٹیئر کور، پولیس، انسداد دہشت گردی فورس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں پر مشتمل بھاری نفری علاقے میں بھیجی گئی اور بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا گیا۔ کارروائی کے دوران چار اے ٹی ایف اہلکار زخمی ہوئے جبکہ چار دہشت گرد مارے گئے۔
حکومتی ترجمان شاہد رند کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پیر کو اس معاملے سے متعلق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جب تک علاقے کو مکمل طور پر کلیئر نہیں کیا جاتا وہاں کومبنگ اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری رہے گا۔
ان کے مطابق ’آپریشن میں ایف سی، بلوچستان پولیس، اے ٹی ایف، سی ٹی ڈی اور اسپیشل آپریشن ونگ کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔‘

احتجاج، دھرنا اور متاثرین کے مطالبات

حملے کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین اور مقامی آبادی نے احتجاج شروع کردیا۔ انہوں نے تدفین سے انکار کرتے ہوئے ایئرپورٹ روڈ پر دھرنا دے دیا جو پیر کو بھی جاری رہا۔

کوئٹہ میں متاثرین کا تین روز سے دھرنا جاری ہے (فوٹو:سکرین شاٹ)

دھرنے کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک کا نظام متاثر ہوا جبکہ نواں کلی، عالمو چوک، سمگلی روڈ، خیزی ، مغربی بائی پاس اور دیگر مقامات پر ٹریفک جام کی صورت حال پیدا ہو گئی۔
احتجاج میں مختلف سیاسی جماعتوں، تاجروں، وکلا، ڈاکٹروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ جمعیت علمائے اسلام، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا۔
جے یو آئی کے سینیٹر مولانا عبدالواسع، سابق سینیٹر حافظ حمداللہ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے عبدالکبیر افغان، پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عادل بازئی، سالار خان، نور خان خلجی اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرے سمیت دیگر رہنماؤں نے دھرنے سے خطاب کیا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملوں کا مقصد مقامی آبادی کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنا ہے اور حکومت کو شہریوں کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
پیر کو دھرنے کے مقام پر متاثرہ خاندانوں، ہنہ اوڑک عوامی کمیٹی اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ مطالبات کی منظوری تک میتوں کی تدفین نہیں کی جائے گی اور دھرنا جاری رہے گا۔
اجلاس کے بعد اعلان کیا گیا کہ بدھ کی شام چار بجے دھرنے کے مقام پر جلسہ عام منعقد کیا جائے گا جس میں سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔
مقتولین کے لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک اعلیٰ سطح پر انہیں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی اور مغوی افراد کو بازیاب نہیں کرایا جاتا۔
ایک مقتول کے رشتہ دار محمد اعظم کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان حکومت پر ہمیں یقین نہیں انہوں نے ہم سے  پہلے بھی وعدے کئے مگر عمل نہیں کیا اس لیے اب آرمی چیف  کی آمد کے بغیر اپنا دھرنا ختم نہیں کریں گے اور لاشیں نہیں دفنائیں گے۔‘

بلوچستان میں کئی ماہ سے امن و امان کی صورت حال خراب چلی آ رہی ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)

آل پارٹیز کے اجلاس کے بعد پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ زیرے نے اردو نیوز کو بتایا کہ ہنہ اوڑک عوامی کمیٹی کے چیئرمین مولوی رحمت اللہ کی زیر صدارت اجلاس میں تین بنیادی مطالبات سامنے رکھے گئے۔
ان میں حملے کے بعد لاپتہ ہونے والے افراد کی فوری بازیابی، ہنہ اوڑک اور دیگر متاثرہ علاقوں کو مسلح گروہوں سے پاک کرنا اور مذاکرات کے لیے بااختیار ریاستی نمائندوں کی آمد شامل ہیں۔
نصراللہ زیرے کا کہنا تھا کہ مظاہرین صرف ایسے  افراد سے بات کریں گے جن کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار ہو۔وہ بے اختیار حکومتی عہدے دار نہ ہو۔
مقامی افراد اور متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے علاقے میں مسلح افراد کی موجودگی اور ممکنہ خطرات سے پہلے ہی حکام کو آگاہ کیا تھا تاہم بروقت کارروائی نہ ہونے کے باعث مقامی آبادی کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

’محمد اشرف کی عید کے بعد شادی تھی‘

احتجاج میں شریک ہنہ اوڑک کے رہائشی محمد اعظم نے بتایا کہ حملے میں ان کے بھائی محمد اشرف  کی موت ہوئی۔ ایک چچازاد بھائی شدید زخمی ہے جبکہ ایک پھوپھی زاد بھائی کو اغوا کیا گیا ہے اور دو دن گزرنے کے باوجود اس کے بارے میں کسی کو علم نہیں۔
ان کے مطابق محمد اشرف کی عمر تقریباً 32 سال تھی اور عید کے بعد ان کی شادی ہونے والی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ
’میرے بھائی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے اور اپنے کمرے کو تیار کر رہے تھے۔ جب حملے کی اطلاع ملی تو وہ گھر سے باہر نکلے اور شہید ہو گئے۔‘

’مسلح افراد کئی ماہ سے پہاڑوں میں موجود تھے‘

محمد اعظم کا کہنا تھا کہ علاقے میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے مسلح افراد کی نقل و حرکت دیکھی جا رہی تھی اور مقامی افراد نے متعدد مرتبہ حکام کو اس بارے میں آگاہ کیا تھا۔
ان کے بقول’شروع میں یہ لوگ گاؤں والوں کے پاس آتے تھے اور صرف یہ پوچھتے تھے کہ کیا فورسز آپ کو تنگ کرتی ہیں یا نہیں۔ بعد میں انہوں نے اپنی موجودگی بڑھائی، مقامی لوگوں سے کھانا مانگنا شروع کیا اور انہیں ہراساں کرنے لگے۔‘
ہنہ اوڑک کے ایک اور رہائشی باچا خان کے مطابق مسلح افراد کئی ماہ سے قریبی پہاڑوں میں موجود تھے اور وقتاً فوقتاً گاؤں آکر مقامی لوگوں کو خوفزدہ کرتے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی افراد کی جانب سے مزاحمت شروع ہونے کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ ان کے مطابق 28 جون کو بھی کلی ببری میں مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ’اس رات تقریباً 11 بجے بجلی بند ہونے کے بعد درجنوں مسلح افراد پہاڑوں سے نیچے آئے اور گاؤں پر حملہ کیا۔ اطلاع ملتے ہی قریبی علاقوں سے لوگ پہنچے اور حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، تاہم وہ اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے واپس پہاڑوں کی طرف چلے گئے۔‘

سکیورٹی اقدامات میں تاخیر پر سوالات

محمد اعظم کے مطابق اس سے پہلے واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے ہنہ اوڑک کراس پر احتجاج کیا تھا اور علاقے میں آپریشن کا مطالبہ کیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومتی وفد نے اس وقت علاقے کو مسلح گروہوں سے پاک کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی  تاہم اس پر عمل نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے حکومت پر اعتماد کیا لیکن اس نے وعدے پر عمل نہیں کیا۔ ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے اور دہشت گرد دوبارہ حملہ آور ہوئے۔‘
حملے کے بعد مقامی افراد یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر علاقے میں خطرات کی اطلاعات پہلے موجود تھیں تو موثر اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟
پیر کو وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران جب صوبائی وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ علاقے میں چیک پوسٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھاتاہم انتظامی وجوہات کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی۔
انہوں نے کہاکہ ’ہنہ اوڑک کے لوگوں کا مطالبہ جائز تھا۔ اگر کہیں دہشت گردی کا خطرہ موجود ہو تو اس کا مقابلہ کرنا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اب علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ چوکی قائم کر دی گئی ہے۔‘
وزیر داخلہ کے مطابق متاثرین کے مطالبات کا جائزہ لینے اور ان سے ملاقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

’ہمیں آباؤ اجداد کی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے ‘

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ہنہ اوڑک جو کبھی کوئٹہ کا ایک پرامن اور تفریحی مقام سمجھا جاتا تھا اب عدم تحفظ کا شکار ہے۔
علاقائی کمیٹی کے رکن عجب خان کاکڑ نے کہا کہ علاقے میں مختلف مسلح گروہ سرگرم ہیں جن کی وجہ سے مقامی آبادی خوف کا شکار ہے۔
ان کے بقول ’ہنہ اوڑک ایک پرامن اور سیاحتی علاقہ تھا لیکن دانستہ طور پر اسے نو گو ایریا بنایا جا رہا ہے۔ حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ ہم اپنے ہی علاقوں میں آزادانہ آمد و رفت نہیں کر سکتے۔‘
عجب خان کاکڑ کے مطابق واقعے سے قبل مقامی نمائندوں نے کمشنر کوئٹہ اور دیگر حکام سے ملاقات کر کے ایک پرانی اور غیر فعال سکیورٹی چوکی بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
’ہم نے پہلے ہی حکام کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا تھا۔ اگر بر وقت کارروائی کی جاتی تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔‘
ہنہ اوڑک کے رہائشی علی جان کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے آباؤ اجداد کی زمینیں  چھورنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔
’ہم اسی مٹی کے لوگ ہیں اپنے آباؤ اجداد کی زمین نہیں چھوڑیں گے۔‘
صوبائی وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو نے کہا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔
’حملہ آور مقامی آبادی کو نقل مکانی پر مجبور کرنا چاہتے ہیں تاہم وہاں کے لوگ اپنی زمین چھوڑنے کے لیے تیار نہیں اور انہوں نے بہادری سے مقابلہ کیا۔‘
ہنہ اوڑک اور نواں کلی سے رکن صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ مقامی لوگوں نے حملہ آوروں کا بہادری سے مقابلہ کیا۔
ان کے بقول ’بلوچستان میں مسلح گروہوں کے سامنے اس نوعیت کی عوامی مزاحمت کی یہ پہلی مثال ہے۔ مقامی آبادی نے واضح کردیا ہے کہ وہ دہشتگردوں کے سامنے سرنڈر نہیں کرے گی۔‘

وزیراعلیٰ کا اعلان

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمیوں کی عیادت کے بعد کہا کہ ’حکومت شہدا کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور شہدا کے اہلخانہ کو مالی امداد فراہم کی جائے گی جبکہ ان کے بچوں کی 16 سال تک تعلیم، سکالرشپس اور مکمل کفالت حکومت کرے گی۔‘

شیئر: