گروپ کیپٹن عاصم قتل کیس: ملزم سعد عباسی 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل
پیر 6 جولائی 2026 16:19
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے گروپ کیپٹن عاصم طارق قتل کیس کے مرکزی ملزم سعد عباسی کو 14 روز کے لیے شناخت پریڈ پر جوڈیشل لاک اپ بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
پیر کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو پابند کیا ہے کہ ملزم کو شناخت پریڈ کی کارروائی مکمل کر کے 20 جولائی کو دوبارہ پیش کیا جائے۔
سماعت کے دوران کیس کے تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر راجا نوید عدالت میں پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت پراسیکیوٹر راجا نوید نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعے کے دو چشم دید گواہ بھی موجود ہیں۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے ملزم کو شناخت پریڈ پر جوڈیشل لاک اپ بھیجنے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے ملزم سے استفسار کیا کہ ’کیوں کیا ہے یہ کام؟‘ اس پر ملزم سعد عباسی نے جواب دیا کہ ’میں لڑکی کے ساتھ تھا، بندہ آکر ہمیں ڈسٹرب کر رہا تھا۔‘
ملزم کے اس بیان پر جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’ڈسٹرب کیا؟ کیا اچھا کام کر رہے تھے جو ڈسٹرب کیا؟‘
بعدازاں عدالت نے ملزم کو شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل لاک اپ منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کارروائی مکمل ہونے پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جبکہ ملزم کو 20 جولائی کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا بھی حکم جاری کیا۔
ملزم کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج
دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے ملزم سعد عباسی کے خلاف تھانہ مارگلہ میں قتل اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایف آئی آر کمانڈنٹ ایئر ہیڈکوارٹرز کی مدعیت میں درج کرائی گئی ہے، جس کے متن کے مطابق ملزم جائے وقوعہ پر ایک لڑکی کو ہراساں کر رہا تھا کہ فضائیہ کے افسر گروپ کیپٹن عاصم طارق نے اسے اس غیرقانونی فعل سے روکا۔
ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا ہے کہ روکنے پر ملزم طیش میں آگیا اور ایئر فورس کے افسر کو دھمکیاں دیتا ہوا اپنی موٹرسائیکل پر سوار ہو کر وہاں سے نکل گیا۔
تاہم ملزم نے کچھ دُور جا کر یُو ٹرن لیا، واپس آیا اور افسر کی گاڑی کے پاس کھڑے ہو کر اُن پر سیدھا فائر کیا، جس کے نتیجے میں گروپ کیپٹن عاصم طارق موقعے پر ہی دم توڑ گئے۔
ملزم کو کیسے گرفتار کیا گیا تھا؟
واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے پاکستانی فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل کے مرکزی ملزم سعد عباسی کو واقعے کے 9 گھنٹوں کے اندر گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی پولیس سید علی ناصر رضوی کا کہنا تھا کہ ’یہ واقعہ اسلام آباد پولیس کے لیے ایک غیر معمولی کیس تھا، جس کی تفتیش کے لیے 11 خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر انہیں مختلف تحقیقاتی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔‘
’ان ٹیموں میں ڈیجیٹل سرویلنس، سیلولر ٹیکنالوجی، پرائیویٹ اور سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لینے اور مینوئل چھاپے مارنے والے دستے شامل تھے۔‘
انہوں نے مزید بتایا تھا کہ ’تفتیش کے دوران اسلام آباد اور راولپنڈی کے 275 سیف سٹی کیمروں کے علاوہ 100 سے زائد نجی کیمروں کی فوٹیج کا معائنہ کیا گیا، جبکہ 137 فون کالز کا ڈیٹا (سی ڈی آرز) بھی حاصل کیا گیا۔‘
جدید ’اے آئی‘ ٹیکنالوجی سے ملزم کے سُراغ میں آسانی
علی ناصر رضوی کا کہنا تھا کہ ملزم کی سُراغ رسانی میں اے آئی ٹیکنالوجی نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کے تجزیے کی مدد سے ملزم کے لباس، اس کی موٹرسائیکل کی نقل و حرکت اور واردات کے بعد ملزم کی جانب سے شرٹ تبدیل کرنے کی تصدیق کی گئی۔
’پولیس ٹیمیں لاہور، میانوالی اور ایبٹ آباد روانہ کی گئیں‘
آئی جی اسلام آباد کا مزید کہنا تھا کہ ’حاصل شواہد کی بنیاد پر ملزم کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کا سُراغ لگایا گیا، جس سے اس کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی سامنے آیا۔‘
’پولیس کو معلوم ہوا کہ ملزم ایک ماہ قبل ایک خاتون کو اغوا کر کے میانوالی لے گیا تھا، تاہم وہ معاملہ خاندانوں نے آپس میں ہی حل کر لیا تھا اور پولیس تک نہیں پہنچ پایا تھا۔‘
اُنہوں نے اپنی گفتگو کے دوران بتایا تھا کہ ’ملزم کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا جس کی وجہ سے ایک ٹیم وہاں روانہ کی گئی، جبکہ ایک اور ٹیم میانوالی بھیجی گئی۔‘
’تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ ملزم نے ’سکائی ویز‘ بس سروس کے ذریعے لاہور کا ٹکٹ بھی بُک کروا رکھا ہے، جس پر ایک ٹیم فوری طور پر لاہور بھی روانہ کی گئی۔‘
علی ناصر رضوی نے کا کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ جُڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں ملزم کی گرفتاری کے لیے 13 مختلف مقامات پر چھاپے بھی مارے گئے۔‘
’ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنا موبائل فون بند کر کے سِم نکال دی تھی اور انٹرنیٹ پر اپنی لوکیشن چُھپانے کے لیے متبادل آئی پی ایڈریس کا استعمال کر رہا تھا، تاہم جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس کا پیچھا جاری رکھا گیا۔‘
پولیس تفتیش کے مطابق ’ملزم واردات کے بعد لاہور کے لیے روانہ ہوا تھا، تاہم وہ راستے میں ہی بس سے اُتر کر واپس کھنہ پُل میں واقع اپنی رہائش گاہ پر پہنچ گیا تھا جہاں سے اُس کو گرفتار کیا گیا۔‘