Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ نقد رقم اور دھمکیوں کے ذریعے تارکینِ وطن کو افریقی ممالک میں کیسے ’ڈمپ‘ کر رہا ہے؟

یہ سلسلہ پہلے متعدد افریقی ممالک پر امریکی ویزا پابندیوں کی دھمکیوں سے شروع ہوا۔ اس کے بعد واشنگٹن نے دنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کو افریقہ کے مختلف ممالک بھیجنا شروع کر دیا، اور کئی مواقع پر ان ممالک کی حکومتوں کو مالی مراعات بھی فراہم کی گئیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق کمبوڈیا سے تعلق رکھنے والے 43 سالہ فیپ روم کو افریقی ملک ایسواتینی کی بدنام زمانہ ہائی سکیورٹی جیل میں منتقل کر دیا گیا، جہاں بادشاہ مسواتی سوم کی سخت گیر حکومت قائم ہے۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، ’میں سمجھ ہی نہیں سکا کہ مجھے افریقہ کیوں بھیجا جا رہا ہے، جبکہ میں تو کمبوڈین ہوں۔‘
کچھ دیگر افراد کو جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا بھیجا گیا، جبکہ بعض کو جنگ زدہ جنوبی سوڈان منتقل کیے جانے کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے دو سابق عہدیداروں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن مخالف پالیسیوں کے تحت امریکہ افریقی ممالک پر ویزا پابندیوں اور دیگر دباؤ کے ذریعے انہیں مجبور کر رہا ہے کہ وہ تیسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو قبول کریں۔
وکلاء کا کہنا ہے کہ ملک بدر کیے گئے افراد کو ایک ایسے’قانونی خلا‘ میں دھکیل دیا گیا ہے، جہاں انہیں ایسے ممالک میں بغیر کسی مقدمے یا الزام کے قید رکھا جا رہا ہے جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور جہاں انہیں نہ ہونے کے برابر قانونی حقوق حاصل ہیں۔
حتیٰ کہ نسبتاً مستحکم جمہوری ملک گھانا بھیجے گئے افراد کے ساتھ بھی بدسلوکی کی گئی اور بعد ازاں پڑوسی ملک ٹوگو کی سکیورٹی فورسز نے انہیں سفری دستاویزات کے بغیر چھوڑ دیا۔
امریکی سینیٹرز اور غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کی مکمل یا جزوی سفری پابندیوں کا سامنا کرنے والے 39 ممالک میں سے تقریباً دو تہائی افریقی ہیں، جبکہ واشنگٹن کے ساتھ مبہم نوعیت کے ملک بدری معاہدے کرنے والے ممالک میں بھی تقریباً نصف افریقی ریاستیں شامل ہیں۔
سابق امریکی حکام کے مطابق، تیسرے ممالک میں تارکینِ وطن کو بھیجنے کا منصوبہ ٹرمپ کے سخت گیر امیگریشن مشیر اسٹیفن ملر اور ہوم لینڈ سکیورٹی کونسل کی سوچ کا نتیجہ ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ان الزامات پر کوئی ردعمل نہیں دیا، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے صرف اتنا کہا کہ ’ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں پر عمل درآمد ہماری اولین ترجیح ہے۔
محکمہ خارجہ نے مزید کہا کہ’ہم غیر قانونی اور بڑے پیمانے پر ہونے والی امیگریشن کے خاتمے اور امریکہ کی سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم پر قائم ہیں۔

سرکاری سطح پر ’انسانی اسمگلنگ؟‘

ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران بڑے پیمانے پر ملک بدری کی پہلی لہر کا مرکز وسطی اور جنوبی امریکہ تھے۔ پناہ گزینوں کو پاناما بھیجا گیا، جبکہ کم از کم 250 وینزویلا کے باشندوں کو، جن پر گینگ سے تعلق رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جن میں سے بہت سے الزامات کمزور شواہد پر مبنی تھے اور قانونی کارروائی بھی مکمل نہیں کی گئی تھی، ایل سلواڈور کی بدنام زمانہ دہشت گردی قیدی مرکز منتقل کر دیا گیا۔
ڈیموکریٹس سینیٹرز کے مطابق، اب افریقہ ملک بدری کی دوسری بڑی منزل بن چکا ہے، جہاں واشنگٹن ایک طرف ویزا پابندیوں کا دباؤ استعمال کر رہا ہے اور دوسری جانب استوائی گنی جیسے ممالک کو لاکھوں ڈالر کی مالی امداد کی پیشکش بھی کر رہا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، افریقہ کی آخری مطلق العنان بادشاہت ایسواتینی نے 51 لاکھ ڈالر کے بدلے 160 ملک بدر افراد کو قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق روانڈا نے بھی 250 افراد کے لیے 75 لاکھ ڈالر کے امدادی معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکہ میں مقیم وکیل ٹِن تھانہ نگوین نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’یہ سرکاری ذرائع سے کی جانے والی جدید دور کی انسانی سمگلنگ کے مترادف ہے۔‘

تشدد کے خدشات کے باوجود ملک بدری

صدر ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں نہ صرف ملک بدر کیے جانے کے دائرہ کار میں نمایاں توسیع کی گئی بلکہ امریکہ آنے کے قانونی راستے بھی بڑی حد تک بند کر دیے گئے۔
گزشتہ ماہ امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے اس فیصلے کی توثیق کی جس کے تحت 36 سال پرانے اس ضابطے کو ختم کر دیا گیا تھا، جو تقریباً ساڑھے تین لاکھ ہیٹی کے باشندوں کو گینگ تشدد سے متاثرہ اپنے وطن واپس بھیجے جانے سے تحفظ فراہم کرتا تھا۔
گزشتہ ایک سال کے دوران اے ایف پی کی جمع کردہ گواہیوں کے مطابق، رات کی تاریکی میں ملک بدری کی پروازوں پر سوار کیے گئے بہت سے افراد کو اقوام متحدہ کے تشدد کے خلاف کنونشن (CAT)  یا دیگر قانونی تحفظ حاصل تھے۔
انہیں جہاز میں سوار ہونے کے بعد ہی بتایا گیا کہ انہیں ملک بدر کیا جا رہا ہے، جبکہ منزل کے بارے میں بھی کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں، وکلاء سے رابطہ ممکن نہیں تھا، اور مزاحمت کرنے والوں میں سے بعض کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
اگرچہ ایسے افراد کو پناہ گزینوں جیسے مضبوط قانونی حقوق حاصل نہیں تھے، لیکن جنہیں تشدد کے خدشے یا ’ملک بدری کی روک‘ (Withholding of Removal)  کے تحت تحفظ ملا تھا، ان کے خلاف ملک بدری کے احکامات برقرار رہتے تھے۔ ماضی میں اس کے باوجود وہ امریکہ میں قانونی طور پر رہنے اور کام کرنے کے اہل ہوتے تھے۔
23 سالہ خالد، جن کا کہنا ہے کہ وہ مشرقی افریقہ میں تشدد سے بچ کر فرار ہوئے تھے، 2024 میں میکسیکو کے راستے امریکہ پہنچے۔ ایک امریکی جج نے انہیں ملک بدری سے تحفظ دیتے ہوئے امریکہ میں نئی زندگی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔
تاہم رواں سال جنوری میں انہیں کسی بھی سفری دستاویز کے بغیر استوائی گنی بھیج دیا گیا، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اکثر تنقید کی زد میں رہتا ہے، اور اب وہ ایک پیچیدہ اور بے یقینی کی صورت حال میں پھنس چکے ہیں۔
ہسپانوی زبان بولنے والے وسطی افریقی ملک استوائی گنی کی حکومت نے انہیں بتایا کہ وہ وہاں قیام نہیں کر سکتے۔ مئی کے آخر میں انہیں ان کے آبائی ملک بھیجنے کی کوشش کی گئی، لیکن وہاں کے سرحدی حکام نے سفری دستاویزات نہ ہونے کے باعث انہیں واپس لوٹا دیا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین  کے مطابق، وہ دوبارہ استوائی گنی میں موجود ہیں، جہاں نہ وہ ملک چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی پناہ کی درخواست دے سکتے ہیں، کیونکہ وہاں ایسا کوئی نظام موجود نہیں۔
اے ایف پی کے مطابق، اسی طرح کے حالات کا شکار ایک اور مشرقی افریقی شخص نے خودکشی کی دھمکی بھی دی۔
خالد نے اپنی ملک بدری کی نگرانی کرنے والے امریکی حکام کے بارے میں کہا،’انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم زندہ ہیں یا نہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ انہیں اس کی کوئی پروا بھی نہیں۔‘

امریکی خاندان بکھر گئے

امریکی امیگریشن وکیل میریڈتھ یون نے کہا، ’میں کسی ایسے امیگریشن وکیل کو نہیں جانتی جس نے ان مؤکلوں کو، جنہیں تشدد کے خلاف کنونشن  یا ملک بدری سے تحفظ حاصل ہو چکا تھا، یہ مشورہ دیا ہو کہ ’خبردار رہیں، آپ کو کسی تیسرے ملک بھی بھیجا جا سکتا ہے۔‘ اس وقت تو انہیں یہی کہا جاتا تھا کہ ’آپ مقدمہ جیت گئے ہیں۔
تاہم ٹرمپ انتظامیہ اب یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ چونکہ یہ قانونی تحفظ صرف افراد کو ان کے آبائی ملک واپس بھیجے جانے سے روکتا ہے، اس لیے انہیں دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک بھیجا جا سکتا ہے، جن میں استوائی گنی اور گھانا بھی شامل ہیں، جہاں سے بعض افراد کو فوری طور پر ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دیا گیا۔
ایک اور امیگریشن وکیل الما ڈیوڈ، جن کے متعدد مؤکل جنوبی سوڈان، ایسواتینی، کیمرون اور جمہوریہ کانگو بھیجے جا چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ امریکی ادارہ برائے امیگریشن و کسٹمز انفورسمنٹ ایسے افراد کو، جنہیں ملک بدری سے تحفظ حاصل ہے، بشمول وہ افراد جنہیں صنفی تشدد کے باعث تحفظ دیا گیا تھا،’آسان ہدف‘سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’آئی سی ای کے لیے ایسے افراد کو کسی تیسرے ملک بھیجنا انتظامی اور عملی لحاظ سے نسبتاً آسان ہوتا ہے۔
افریقہ بھیجے گئے بعض دیگر افراد کئی دہائیوں سے امریکہ میں مقیم تھے۔ کیوبا میں پیدا ہونے والے پلمبر روبرٹو موسکیرا، جو بچپن سے فلوریڈا میں رہ رہے تھے، اپنی بیٹی مونیکا کے مطابق ’ٹرمپ کے بہت بڑے حامی‘ بھی تھے۔
نوعمری میں ایک گینگ جھگڑے کے دوران ایک شخص کی ٹانگ میں گولی مارنے کے جرم میں قید ہونے کے بعد ان کی مستقل رہائش کی حیثیت ختم کر دی گئی تھی۔
تاہم اے ایف پی سے فرضی نام کے تحت گفتگو کرنے والی ان کی خاندانی دوست ایڈا نے بتایا، ’جب روبرٹو جیل سے باہر آئے تو انہوں نے اپنی زندگی مکمل طور پر بدل دی۔ انہوں نے شادی کی، چار خوبصورت بیٹیوں کے باپ بنے، اور گینگ تشدد کے خلاف آواز بلند کرنے لگے، جس نے کبھی انہیں جرائم کے راستے پر دھکیلا تھا۔
لیکن نہ ان کی زندگی میں یہ مثبت تبدیلی اور نہ ہی ٹرمپ سے ان کی وابستگی انہیں افریقہ بھیجے جانے سے بچا سکی۔
سالانہ حاضری کے موقع پر آئی سی ای اہلکاروں نے انہیں حراست میں لے لیا، جس کے بعد کئی ہفتوں تک ان کا کوئی پتہ نہ چلا۔ حکومت نے ان کے اہلِ خانہ کو بتایا کہ انہیں کیوبا بھیج دیا گیا ہے، حالانکہ کیوبا شاذ و نادر ہی اپنے شہریوں کو واپس قبول کرتا ہے۔
بعد میں ایڈا نے امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی اس وقت کی ترجمان ٹریشیا میک لافلن کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کی گئی ایک تصویر میں اپنے دوست کو پہچانا۔
ان کی بیٹی کے مطابق، محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے غلط طور پر انہیں ’قاتل‘ قرار دیا اور انہیں ’بدترین مجرموں میں سے ایک‘ کہا۔
روبرٹو موسکیرا کو ایسواتینی، جو پہلے سوازی لینڈ کہلاتا تھا، کی بدنام زمانہ انتہائی سخت حفاظتی جیل میں منتقل کر دیا گیا، جہاں ایک سال گزرنے کے باوجود انہیں بغیر کسی مقدمے کے قید رکھا گیا ہے۔
ایڈا کے مطابق، جب اہلِ خانہ نے ویڈیو کال پر انہیں دیکھا تو ان کے بال جھڑ چکے تھے اور وہ بہت زیادہ کمزور ہو چکے تھے۔

امریکہ نے ’ذمہ داری سے ہاتھ جھاڑ لیے

عدالتی دستاویزات کے مطابق، گھانا بھیجے گئے افراد کو بغیر کسی الزام کے ایک دور افتادہ فوجی اڈے پر خفیہ طور پر رکھا گیا۔ بعض کو بغیر سفری دستاویزات کے ٹوگو میں چھوڑ دیا گیا، جبکہ دیگر، جن میں گیمبیا سے تعلق رکھنے والا ایک ابیلنگی شخص بھی شامل تھا، واپس ان کے آبائی ملک بھیج دیے گئے۔
چونکہ گیمبیا میں ہم جنس پرستی جرم ہے، اس لیے مذکورہ شخص کو روپوش ہونا پڑا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سابق عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا،’جب ایک بار یہ لوگ امریکہ کی تحویل سے باہر نکل جاتے ہیں تو پھر ان کے ساتھ جو چاہیں کیا جا سکتا ہے۔ انتظامیہ نے گویا اپنی ذمہ داری سے ہاتھ جھاڑ لیے تھے۔
وکیل میریڈتھ یون کے مطابق، واشنگٹن افریقی ممالک کو ایسے افراد کی ملک بدری کے لیے استعمال کر رہا ہے جنہیں امریکہ خود قانونی طور پر براہِ راست واپس نہیں بھیج سکتا۔
انہوں نے کہا، ’امریکہ ان حکومتوں کو ان افراد کی پروسیسنگ کے لیے رقم فراہم کر رہا ہے تاکہ بعد میں انہیں ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا جا سکے۔ یہ ’چین ریفولمنٹ ہے، جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی عمل ہے۔

ویزا کے ذریعے ’بلیک میلنگ

اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سابق عہدیدار نے بتایا کہ جب ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی شہریوں پر ویزا پابندیاں عائد کرنے یا انہیں مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا تو مختلف ممالک کو کچھ شرائط پوری کرنے کا کہا گیا تاکہ وہ ان پابندیوں سے بچ سکیں۔
ان میں سے بعض شرائط متنازع نہیں تھیں، جیسے کہ مطلوب مجرموں سے متعلق معلومات کا تبادلہ، اپنے شہریوں کو ویزا کی مدت سے زیادہ قیام نہ کرنے کی ترغیب دینا، اور ان شہریوں کی واپسی کے لیے امریکہ سے تعاون کرنا جنہیں ملک بدر کیا جانا تھا۔
تاہم، جلد ہی واضح ہو گیا کہ پابندیوں سے بچنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ تھا کہ یہ ممالک تیسرے ممالک کے ملک بدر افراد کو قبول کریں۔
سابق عہدیدار نے کہا،’میں کسی ایک ایسے ملک کو نہیں جانتا جو تیسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے ملک بدر افراد یا امریکی سرحد پر آنے والے پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے معاہدے کے علاوہ کسی اور اقدام کے ذریعے اس فہرست سے نکلنے میں کامیاب ہوا ہو۔
مغرب مخالف فوجی حکومت کے زیرِ انتظام برکینا فاسو نے امریکہ سے ملک بدر کیے گئے افراد کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
اکتوبر میں، جب امریکہ نے اچانک دارالحکومت واگاڈوگو میں اپنے سفارت خانے میں ویزا درخواستوں پر کارروائی روک دی، تو برکینا فاسو کے وزیر خارجہ کاراموکو ژاں میری ٹراورے نے سوال کیا، ’کیا یہ ہم پر دباؤ ڈالنے کا طریقہ ہے؟ کیا یہ بلیک میلنگ ہے؟
انہوں نے مزید کہا، ’جو بھی ہو، برکینا فاسو عزت و وقار کی سرزمین ہے، کسی کے ملک بدر افراد کو رکھنے کی جگہ نہیں۔‘ اس کے کچھ ہی عرصے بعد ان کے ملک پر سفری پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
نائجیریا کے ایک سابق سرکاری عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ جب گزشتہ سال ابوجا نے وینزویلا کے شہریوں کو قبول کرنے کی امریکی درخواست مسترد کی تو ’ہم جانتے تھے کہ اس کے نتائج ضرور سامنے آئیں گے۔‘ اس کے فوراً بعد ویزا پابندیاں نافذ کر دی گئیں۔
تاہم، محکمہ خارجہ کے دونوں سابق عہدیداروں کے مطابق، متعدد افریقی ممالک نے امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے کو ترجیح دی۔
گھانا کی جانب سے مغربی افریقی ملک بدر افراد کو قبول کیے جانے کے کچھ ہی عرصے بعد واشنگٹن نے اس پر عائد ویزا پابندیاں ختم کر دیں اور اس کی کوکو اور زرعی برآمدات پر عائد 15 فیصد ٹیرف بھی واپس لے لیا۔
اس کے باوجود استوائی گنی کو امریکہ کے ساتھ ملک بدری کا معاہدہ کرنے کے باوجود سفری پابندیوں سے نجات نہ مل سکی۔

قانونی خلا

یہ تمام معاہدے خفیہ رکھے گئے ہیں اور نہ تو ملک بدر کیے گئے افراد کی تعداد ظاہر کی گئی ہے اور نہ ہی ان ممالک کے نام جنہوں نے انہیں قبول کیا۔
امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ ارکان کی تحقیقات کے مطابق دنیا بھر میں کیے گئے 25 معاہدوں میں سے کم از کم نو افریقی حکومتیں ملک بدر افراد کو قبول کر چکی ہیں یا ایسا کرنے پر آمادہ ہو چکی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ’ممالک پر ٹیرف، ویزا پابندیوں یا امداد میں کٹوتی کی دھمکیوں کے ذریعے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
غیر منافع بخش تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق، تصدیق شدہ یا مبینہ معاہدوں میں سے تقریباً 40 فیصد افریقی ممالک کے ساتھ کیے گئے ہیں، یعنی 34 میں سے 14 ممالک۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وکلاء کو بھی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے مؤکل کہاں رکھے گئے ہیں۔
وکیل ٹِن تھانہ نگوین نے بتایا کہ جنوبی سوڈان بھیجے گئے ان کے مؤکلوں کے بارے میں انہیں صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ ’کسی نامعلوم مقام‘ پر ہیں اور ’مسلح فوجیوں کی نگرانی میں رکھے گئے ہیں۔
تمام ملک بدر افراد ایسے نہیں تھے جنہیں اپنے وطن بھیجے جانے سے قانونی تحفظ حاصل تھا، تاہم ان میں سے بعض کو بھی ان کے آبائی ملک کے بجائے تیسرے ممالک بھیج دیا گیا۔

کوئی نرمی نہیں

وکیل نگوین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ان ممالک کو واضح پیغام دے رہی تھی جو امریکہ سے تعاون کرنے پر آمادہ نہیں تھے: اگر آپ اپنے شہریوں کے لیے سفری دستاویزات جاری نہیں کریں گے تو پھر دیکھیے ہم آپ کے شہریوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔
آئی سی ای نے نگوین کے الزامات کی تردید نہیں کی، بلکہ اے ایف پی کو جاری بیان میں کہا کہ تیسرے ممالک کے ساتھ ملک بدری کے معاہدے ’امریکہ اور اس کے شہریوں کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
عدالتی مخالفت کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی پالیسی میں کوئی نرمی نہیں دکھائی۔
ایل سلواڈور سے تعلق رکھنے والے تارک وطن کلمار ابریگو گارشیا، جو ٹرمپ کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کی پالیسی کی علامت بن چکے ہیں، کو غلطی سے ایل سلواڈور بھیجے جانے کے بعد اب یوگنڈا، ایسواتینی، گھانا یا لائبیریا بھیجے جانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اگرچہ مئی میں ایک امریکی جج نے ان کے خلاف فوجداری مقدمہ خارج کر دیا، لیکن وہ اب بھی ملک بدری کے خطرے سے دوچار ہیں۔
ایک اور مقدمے میں، جب امریکی جج نے قرار دیا کہ ایک خاتون کو جمہوریہ کانگو بھیجنا غیر قانونی ہے کیونکہ کانگو کی حکومت نے مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی، تو امریکی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث انہیں واپس امریکا لانا بھی خطرناک ہوگا۔

غیر ملکیوں سے نفرت‘پر مبنی پالیسی

محکمہ خارجہ کے ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ تیسرے ممالک میں ملک بدری کے کئی مختلف پروگرام شروع کیے گئے تھے۔ ایک پروگرام ان افراد کے لیے تھا جنہیں ان کے آبائی ممالک واپس لینے سے انکار کر رہے تھے، دوسرا زیر التوا پناہ گزین درخواستوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے، جبکہ تیسرا ان افراد کے لیے تھا جو جرائم میں سزا کاٹ چکے تھے۔
تاہم، ان کے مطابق اس پالیسی کے پیچھے کوئی واضح نظریہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا، ’اس کی بنیاد صرف غیر ملکیوں سے نفرت (زینوفوبیا) تھی۔
جب ایک امریکی جج نے امریکی شہری سے شادی کرنے والے نائجیرین گرین کارڈ ہولڈر بینجمن کو تشدد کے خدشے کے باعث قانونی تحفظ دینے کا حکم دیا تو وہ اپنے خاندان سے دوبارہ ملنے کے منتظر تھے۔
انہوں نے فراڈ کی سازش کے مقدمے میں دو سال قید کاٹی تھی، جس کے بعد ان کے خلاف ملک بدری کی کارروائی شروع ہوئی، تاہم جج نے نائجیریا کی سیاست میں ان کی سابقہ سرگرمیوں کے باعث انہیں قانونی تحفظ کا مستحق قرار دیا۔ اس کے باوجود انہیں گھانا بھیج دیا گیا۔
بینجمن اور دیگر ملک بدر افراد کو دارالحکومت کے باہر ایک فوجی اڈے پر رکھا گیا، جہاں مسلسل مچھروں کی بہتات کے باعث کئی افراد بیمار ہو گئے۔
ستمبر میں اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بینجمن نے بتایا کہ جب وکلاء کی جانب سے ان کی رہائی کے لیے دباؤ بڑھا تو انہیں اور دیگر افراد کو سرحد پر لے جا کر بغیر کسی دستاویز کے ٹوگو میں چھوڑ دیا گیا، جہاں حالات ’انتہائی خراب‘ تھے۔
بینجمن نے کہا، ’میں نے اپنے جرم کی سزا کاٹ لی تھی، لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے جج کے احکامات کی خلاف ورزی کی۔

شیئر: