’گردے نکالنے کے لیے عارضی آپریشن تھیٹر‘، غیرملکی خواتین کیس میں ’باس‘ کون؟
’گردے نکالنے کے لیے عارضی آپریشن تھیٹر‘، غیرملکی خواتین کیس میں ’باس‘ کون؟
پیر 6 جولائی 2026 15:22
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں دو غیرملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کے مقدمے کی تفتیش جیسے جیسے آگے بڑھ رہی ہے اس واردات کے مبینہ ’باس‘ کا کردار مزید واضح ہوتا جا رہا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق یہ شخص قتل، اغوا اور انسانی اعضا کی غیرقانونی پیوند کاری جیسے سنگین جرائم میں پہلے سے ملوث رہا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے مختلف میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں بتایا کہ دو غیرملکی خواتین کے اغوا کا منصوبہ 25 سال کے ایک نوجوان نے بنایا جس کے بعد اس کے دوست اور جاننے والے اس میں شامل ہوتے چلے گئے اور ان میں کرائے پر کمرے اور گھر دینے والے پورٹل ’ایئر بی این بی‘ پر ایک گھر کا کیئر ٹیکر بھی شامل تھا۔
ان کے مطابق ملزمان کا کہنا تھا کہ ’ہم سارے پڑھے لکھے لوگ ہیں شاید ہم سے اس لیول کی حرکت نہ ہو سکے۔ اس مرحلے پر وحید طاہر (باس) نامی شخص اس منصوبے کا حصہ بنا اور اپنے ساتھ تین ساتھی، ایک رسی اور اسلحہ لے کر آیا۔‘
فیصل کامران کے مطابق اس پورے واقعے میں مجموعی طور پر 8 افراد ملوث پائے گئے اور تمام کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غیرملکی خواتین کا مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کروایا گیا بیان، پولیس کے پاس موجود شواہد اور میڈیکل سیمپلز ایسے ثبوت ہیں جنہیں جھٹلایا نہیں جا سکتا اور پہلے دن سے اس کیس کو نہایت ذمہ داری سے دیکھا جا رہا ہے۔
’باس‘ کون ہے؟
ڈی آئی جی کے مطابق ملزمان نے 15 لاکھ ڈالر تاوان طلب کیا اور خواتین کو جسم کاٹ کر پھینکنے کی دھمکیاں دی گئیں (فوٹو: پنجاب پولیس)
اردو نیوز کو معلوم ہوا ہے کہ مبینہ ’باس‘ کا مکمل نام میاں وحید طاہر ہے جس کا تعلق اوکاڑہ سے ہے جہاں اس کی فیملی مقیم ہے، تاہم وہ خود لاہور میں رہائش پذیر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملزم لاہور کے مختلف علاقوں میں ٹھکانے بدل بدل کر رہائش اختیار کرتا رہا۔
پولیس ریکارڈ میں دس مقدمات
اردو نیوز کے پاس موجود مقدمات کی نقول کے مطابق پنجاب پولیس کے آفیشل ریکارڈ میں وحید طاہر کا نام مجموعی طور پر دس مقدمات میں درج ہے۔ ان میں سے چار مقدمات میں اسے بطور ملزم نامزد کیا گیا ہے، تین میں وہ بطور مدعی جبکہ تین میں بطور گواہ شامل رہا ہے۔
جن مقدمات میں وہ ملزم نامزد ہے ان میں ایک مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت تھانہ باٹاپور میں درج کیا گیا ہے۔ باقی مقدمات میں سے چار جوہر ٹاؤن، ایک اسلام پورہ، ایک گارڈن ٹاؤن، ایک کاہنہ اور دو ڈیفنس اے میں درج ہیں۔
تھانہ باٹاپور میں درج مقدمے کی تفصیل کے مطابق یہ مقدمہ جون 2020 میں ایک مقتول کے بھائی کی مدعیت میں درج ہوا تھا۔ مدعی نے خود کو تقی پور گاؤں کا رہائشی بتایا ہے۔
انہوں نے پولیس کو بتایا کہ اس کے بھائی کو صابر نامی شخص کام دلوانے کے بہانے ورغلا کر لے گیا تھا۔ مدعی کے مطابق ’جب میں نے بھائی کو کال کی تو انہوں نے بتایا کہ صابر نامی شخص اسے کام دلوانے کے لیے لایا ہے۔ اس کے بعد سے بھائی کے نمبر پر کال نہیں مل رہی تھی۔‘
مقدمے کے متن کے مطابق 28 جون 2020 کو جب مدعی نے بھائی کے نمبر پر رابطہ کیا تو جناح ہسپتال کی پولیس چوکی سے بتایا گیا کہ ان کے بھائی کی نعش ہسپتال لائی گئی ہے۔ ہسپتال پہنچنے پر مدعی کو معلوم ہوا کہ مقتول کے پیٹ پر پٹی بندھی ہوئی تھی جس کے بعد انکشاف ہوا کہ نامعلوم افراد نے مقتول کا ایک یا دونوں گردے نکال لیے تھے۔
اس مقدمے کے قریب ڈھائی سال بعد دسمبر 2022 میں وحید طاہر کو براہ راست ایک مقدمے میں نامزد کیا گیا جس میں مزید دس نامعلوم افراد بھی شامل کیے گئے۔
جن مقدمات میں وحید طاہر ملزم نامزد ہیں ان میں ایک مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت تھانہ باٹاپور میں درج کیا گیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 420، 342 اور 506-بی کے تحت تھانہ اسلام پورہ میں درج کیا گیا۔
لاہور کے تھانہ گارڈن ٹاؤن میں درج مقدمہ ’دی ٹرانسپلانٹیشن آف ہیومن آرگنز اینڈ ٹشوز ایکٹ 2010‘ کے تحت درج کیا گیا ہے جو براہ راست انسانی اعضا کی غیرقانونی پیوند کاری سے متعلق ہے۔
یہ مقدمہ دسمبر 2023 میں پاکپتن کی تحصیل عارف والا کے ایک رہائشی کی مدعیت میں درج ہوا۔ مدعی کے مطابق اسے صحت کارڈ پر علاج کروانے کا جھانسہ دے کر اس کا گردہ نکال لیا گیا۔
ستمبر 2024 میں تھانہ کاہنہ میں درج مقدمے میں بھی وحید طاہر کو نامزد کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج ہوا جس میں مرکزی ملزم نے تفتیش کے دوران پولیس کے سامنے انکشاف کیا کہ وحید طاہر اور دو دیگر ساتھیوں نے تھانہ کاہنہ کی حدود میں ایک مکان کرائے پر لے کر وہاں گردے تبدیل کرنے کے لیے عارضی آپریشن تھیٹر قائم کر رکھا تھا۔
اردو نیوز کے پاس موجود ان تمام مقدمات کی نقول کے مطابق تھانہ باٹاپور کے ابتدائی مقدمے میں وحید طاہر کو براہ راست نامزد نہیں کیا گیا تھا بلکہ نامعلوم افراد کا ذکر تھا، بعد میں تفتیش کے دوران اس کا نام مقدمے میں شامل ہوا۔
ذرائع کے مطابق حالیہ کیس میں دونوں غیرملکی خواتین پر تشدد کرنے والے افراد وحید طاہر کے گن مین بتائے جاتے ہیں۔
الزام ہے کہ وحید طاہر نے خواتین کو دھمکی دی کہ اگر 15 لاکھ ڈالر ادا نہ کیے گئے تو ان کے تمام انسانی اعضا نکال کر فروخت کر دیے جائیں گے۔ اس حوالے سے خواتین نے مجسٹریٹ کے سامنے 164 کا بیان بھی ریکارڈ کروایا ہے۔