سرفراز بگٹی نے مسلم لیگ ن کے صوبائی وزیر عبدالرحمان کیتھران کو برطرف کر دیا، وجہ کیا بنی؟
پیر 6 جولائی 2026 12:55
زین الدین احمد -اردو نیوز، کوئٹہ
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے دو روز قبل سردار عبدالرحمان کھیتران کی برطرفی کی سمری گورنر کو بھجوائی تھی (فوٹو: اے پی پی)
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران کو برطرف کرتے ہوئے صوبائی کابینہ سے نکال دیا ہے۔
سرکاری ذرائع نے اردو نیوز کو تصدیق کی ہے کہ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن (ایس اینڈ جی اے ڈی) نے گورنر بلوچستان کی منظوری کے بعد برطرفی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے دو روز قبل آئین کے آرٹیکل 132 کی ذیلی شق 3 کے تحت سردار عبدالرحمان کھیتران کی برطرفی کی سمری منظوری کے لیے گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل کو ارسال کی تھی۔
منظوری ملنے کے بعد محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی نے انہیں وزارت سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
سردار عبدالرحمان کھیتران کے پاس محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا قلمدان تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور سردار عبدالرحمان کھیتران کے درمیان پچھلے کچھ عرصے سے مختلف سیاسی اور انتظامی معاملات پر اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔
سردار عبدالرحمان کھیتران نے نئے اضلاع اور ڈویژنوں کے قیام سے متعلق فیصلوں خصوصاً ویسٹ ڈیرہ بگٹی، کوہلو اور بارکھان کے اضلاع پر مشتمل نئے تشکیل دیے گئے کوہ سلیمان ڈویژن کے نام پر اعتراض اٹھایا تھا۔
یاد رہے کہ وزیراعلیٰ نے چند ماہ قبل ڈیرہ بگٹی کو تقسیم کر کے اپنے آبائی علاقے بیکڑ کو ویسٹ ڈیرہ بگٹی کے نام سے نئے ضلع کا درجہ دیا تھا۔
سردار عبدالرحمان کھیتران نے اپنے آبائی ضلع بارکھان کے بعض علاقوں کو ویسٹ ڈیرہ بگٹی میں شامل کیے جانے کی بھی مخالفت کی تھی۔
اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر سردار عبدالرحمان کھیتران نے برطرفی کے معاملے پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اس وقت یورپی ملک یونان کی سیر سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وطن واپسی پر وہ اس حوالے سے بات کریں گے۔
پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملہ حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ہونے والے مشاورتی اجلاس میں بھی زیر بحث آیا تھا جس کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان نے دونوں جماعتوں کی اہم سیاسی شخصیات کو اعتماد میں لے کر سردار عبدالرحمان کھیتران کو کابینہ سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔
عبدالرحمان کھیتران کون ہیں؟
سردار عبدالرحمان کھیتران بلوچستان کی سیاست میں ایک متنازع لیکن بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں ۔وہ مختلف ادوار میں تعلیم، محکمہ مواصلات سمیت جیسی اہم وزارتوں پر فائز رہے۔
عبدالرحمان کھیتران ان کا تعلق ضلع بارکھان سے ہے اور وہ کھیتران قبیلے کے سربراہ ہیں۔
وہ 1997 میں پہلی بار رکن بلوچستان اسمبلی منتخب ہوئے اور صوبائی وزیر تعلیم رہے۔
پرویز مشرف دور میں انہیں کرپشن کے الزام میں گرفتار اور پھر نا اہل قرار دیا گیا جس پر وہ 2002 کا انتخاب نہیں لڑسکے اور ان کی جگہ ان کی اہلیہ نسرین کھیتران رکن اسمبلی منتخب ہوئیں۔ وہ ق لیگ کا حصہ رہے۔
بعد ازاں 2013 میں جمعیت علماء اسلام(ف) اور 2018 میں بلوچستان عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر اسمبلی پہنچے ۔ 2024 کے انتخابات میں وہ ن لیگ کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے رکن بنے۔
فروری 2023 میں عبدالرحمان کھیتران پر بارکھان میں مبینہ نجی جیل چلانے اور تین افراد کے قتل کا الزام سامنے آیا جس کے بعد انہیں گرفتار کیا گی تاہم بعد میں عدالت نے مقدمات میں انہیں بری کر دیا۔ اس سے قبل 2014 میں بھی ان پر نجی جیل چلانے کے الزامات لگے تھے جس میں وہ تقریبا پانچ سال قید میں رہے اور 2018 میں بری ہوئے۔
