اے آئی اداکارہ ٹِلی نورووڈ اب فیچر فلم ’مس الائنڈ‘ میں جلوہ گر ہوں گی
اے آئی اداکارہ ٹِلی نورووڈ جلد ایک فیچر فلم میں مرکزی کردار کرتی ہوئی نظر آئیں گی (فوٹو: ڈیڈلائن)
ورچوئل اداکارہ ٹِلی نورووڈ، جنہیں اپنے کیریئر کے آغاز (2025) کے بعد اب تک کسی فلم میں کاسٹ نہیں کیا گیا، ہالی وڈ کی جانب سے بے رُخی برتنے کے باوجود بالآخر اپنا بڑا بریک تھرو کردار حاصل کرنے جا رہی ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ٹِلی نورووڈ کے تخلیق کار سٹوڈیو پارٹیکل 6 نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ ان کے لیے ایک فیچر فلم تیار کریں گے جس میں وہ مرکزی کردار ادا کریں گی۔ یہ فلم مکمل طور پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کی جائے گی، تاہم اس کے مصنف، تکنیکی ماہرین اور کچھ اداکار انسان ہوں گے۔
فلم کا عنوان ’مس الائنڈ‘ اس تصور کی عکاسی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو انسانی اقدار اور مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ایک جدوجہد ہے۔
پارٹیکل 6 کی سی ای او اور بانی ایلین وان ڈر ویلڈن نے کہا کہ ’اے آئی اعلیٰ معیار کی کہانی پر مبنی فلم سازی میں مدد دے سکتی ہے، لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب اس میں انسانی ہنر، مہارت، فیصلے کی صلاحیت اور وقت کی بھرپور شمولیت ہو۔ یہ ٹیکنالوجی کی کمزوری نہیں، بلکہ اصل مقصد ہی یہ ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’آئندہ دہائی میں وہ فلم ساز ہی کامیاب ہوں گے جو اپنی کہانی سنانے کی صلاحیت کو ان جدید اوزاروں کے ساتھ جوڑ سکیں گے، اور ’مس الائنڈ‘ وہ منصوبہ ہے جہاں ہم اس صلاحیت کو مکمل فیچر فلم کی سطح پر آزما رہے ہیں۔‘
پارٹیکل 6 کے ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ فلم کو سنیما گھروں میں ریلیز کیا جائے گا یا سٹریمنگ پلیٹ فارمز پر، اور نہ ہی ریلیز کی تاریخ کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہا جا سکتا ہے۔‘
ہالی وڈ کی یونینز اور سکارلٹ جوہانسن، کیٹ بلانشیٹ سمیت دیگر معروف اداکاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ کاپی رائٹ شدہ فنکارانہ کام پر مصنوعی ذہانت اور اس کے تخلیقی ٹولز کے استعمال پر واضح اجازت حاصل کیے بغیر پابندی عائد کی جائے۔
