Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی اور قطری آئل ٹینکروں پر حملے، مملکت کی جانب سے ایران کی شدید مذمت

’ناقابل قبول حملے‘ گلوبل انرجی سپلائی لائن کی سکیورٹی پر حملہ ہیں۔ ( فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب نے منگل کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے سعودی آئل ٹینکر ’ودیان‘ کو نشانہ بنائے جانے پر ایران کی شدید مذمت کی ہے۔
مملکت نے قطری مائع قدرتی گیس کے ٹینکر ’الرکیات‘ کو نشانہ بنائے جانے کی بھی مذمت کی اور کہا ’یہ ’ناقابل قبول حملے‘ انٹرنیشنل نیویگیشن سکیورٹی، سیفٹی اور گلوبل انرجی سپلائی لائن کی سکیورٹی پر حملہ ہیں۔‘
سعودی عرب نے ان حملوں اور ان کے اثرات کا ذمہ دار مکمل طور پر ایران کو ٹہرایا ہے۔
میری ٹائم مانیٹرز نے منگل کو کہا کہ آبنائے ہرمز میں ’ودیان‘ اور ’الرکیات‘ سمیت تین آئل ٹینکروں کو چند گھنٹوں کے اندر نشانہ بنایا گیا ہے۔
یاد رہے یہ واقعات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب چند روز قبل ہی امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت اور جنگ بندی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔
اس کا مقصد تنازع کا مستقل خاتمہ اور توانائی کے ذرائع کی تجارت کے لیے اہم ترین سمجھی جانے والی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔
وزارت خارجہ نے بیان میں کہا ’ایران کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری رہنا، بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘
’یہ اقدامات سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر2817 کے بھی منافی ہیں، اس قرارداد میں فریڈم آف نیویگیشن اور محفوظ آبی گزر گاہوں کی ضمانت دی گئی ہے۔‘

وزارت نے بیان میں مطالبہ کیا کہ ’ایران فوری طور پر وہ تمام سرگرمیاں بند کرے، جن سے خطے کی سکیورٹی، انٹرنیشنل نیویگیشن اور انرجی سپلائیز کی سیٹفی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔‘
علاوہ ازیں قطر نے منگل کو ایران کے نائب سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ سفارتی نوٹ ایرانی نائب سفیر کے حوالے کیا گیا، جس میں اس واقعہ پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔
ایران پر زور دیا گیا کہ وہ فوری طور پر خطے کی سکیورٹی کو نقصان پہچانے والی کسی بھی کارروائی کو روکے جبکہ انٹرنیشنل شپنگ اور گلوبل انرجی سپلائیز کی سیفٹی خطرے میں ڈالنے سے گریز کرے۔
قبل ازیں دوحہ کی وزارت خارجہ نے بیان میں اس حملے کا الزام ایران پر عائد کیا تھا۔

 

شیئر: