Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرے گا یا پھر ہم اُن کا ’کام تمام کر دیں گے‘: صدر ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں معاہدہ کرنا پسند کروں گا کیونکہ میں 91 ملین لوگوں کو متاثر نہیں کرنا چاہتا (فوٹو: اے پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ یا تو ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرے گا یا پھر اُن کا ’کام تمام کر دے گا‘، اور یوں انہوں نے فوجی کارروائی کی اپنی دھمکی کو ایک بار پھر دہرایا ہے، جبکہ تہران میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کے بعد ایران کی جانب سے مزاحمتی مؤقف سامنے آ رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات گزشتہ ہفتے بغیر کسی واضح پیش رفت کے ختم ہو گئے، حالانکہ 60 روزہ جنگ بندی کا مقصد سفارتی عمل کے لیے گنجائش پیدا کرنا تھا۔ یہ جنگ بندی امریکہ اور اسرائیل کے ان حملوں کے بعد کی گئی تھی جس کے باعث یہ جنگ شروع ہوئی تھی۔
صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یا تو ہم معاہدہ کریں گے یا پھر ہم کام مکمل کر دیں گے۔ ٹھیک ہے۔ اور یہ کام مکمل کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ میں معاہدہ کرنا پسند کروں گا کیونکہ میں 91 ملین لوگوں کو متاثر نہیں کرنا چاہتا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم ایک گھنٹے میں ان کے پل تباہ کر سکتے ہیں، ہم ان کی توانائی کی فراہمی ختم کر سکتے ہیں، ان کے پاس اب کوئی پیسہ نہیں ہے۔ ہم نے انہیں کوئی رقم نہیں دی۔‘
ٹرمپ نے یہ بات آیت اللہ خامنہ ای کے ویک اینڈ پر جنازے کے بعد کہی، جہاں  28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے باعث شروع ہونے والی جنگ کے باوجود ایرانی عوام کمزور نظر آنے کی بجائے مزاحمت، اتحاد اور آئندہ کے حالات کو خود تشکیل دینے کے عزم کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔
60  روزہ جنگ بندی کا مقصد امریکہ کے نزدیک ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کو دوبارہ زندہ کرنا تھا۔

شیئر: