عمران خان سخت سکیورٹی میں اڈیالہ جیل راولپنڈی سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل
عمران خان سخت سکیورٹی میں اڈیالہ جیل راولپنڈی سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل
جمعرات 20 اگست 2026 23:18
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
عمران خان کو سخت سکیورٹی میں اڈیالہ جیل راولپنڈی سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کیا گیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک کے انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم پر اڈیالہ جیل راولپنڈی سے اسلام آباد کے نجی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب عمران خان کو سخت سکیورٹی میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ میں واقع شفا انٹرنیشنل ہسپتال لایا گیا۔
عمران خان کی اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال منتقلی کے دوران راستوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اڈیالہ جیل سے لے کر اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ میں واقع ہسپتال تک سکیورٹی رُوٹ لگایا گیا تھا۔
ہسپتال کے اطراف اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، جہاں گاڑیوں کے ساتھ ساتھ غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر بھی مکمل پابندی ہے۔
علاوہ ازیں ہسپتال کے باہر بھی اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، جبکہ باہر بکتر بند گاڑیاں اور قیدیوں کی وین بھی موجود ہے۔
اسلام آباد پولیس کی جانب سے ہسپتال کے باہر پی ٹی آئی کے کارکنوں کی عدم موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ آنے جانے والے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کی بھی تلاشی لی جا رہی ہے۔ ’ڈاکٹروں کی 6 رکنی ٹیم عمران خان کا طبی معائنہ کرے گا‘
شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ابتدائی طبی معائنہ ڈاکٹروں کی 6 رُکنی ٹیم کرے گی، جس کے بعد اُن کی طبی رپورٹس کا جائزہ لے کر انہیں ہسپتال میں زیرِ علاج رکھنے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال کے ایف بلاک کی چوتھی منزل پر منتقل کیا جائے گا، جہاں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
ہسپتال حکام کا کہنا ہے کہ ایف بلاک کی چوتھی منزل ایگزیکٹیو فلور ہے، جہاں اس سے قبل سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی زیرِ علاج رہ چکے ہیں۔
شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے باہر بھی اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی (فوٹو: اے ایف پی)
اسی منزل پر گُردوں اور جگر کے ٹیسٹوں کی خصوصی سہولیات میسر ہیں، جبکہ بانی پی ٹی آئی ہائی بلڈ پریشر، آنکھوں اور پٹھوں کے عارضے میں مبتلا ہیں۔
خیال رہے کہ منگل کو سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو علاج کی غرض سے 48 گھنٹے میں شفاء ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
عدالت کی جانب سے انتظامیہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ ہسپتال منتقلی کے دوران سخت سکیورٹی کے تمام اقدامات کیے جائیں تاکہ امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔
عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’بانی پی ٹی آئی کے علاج اور ان کی طبی حالت پر کسی صورت سیاست نہیں ہونی چاہیے۔‘
عدالتی کارروائی کے دوران پاکستان تحریکِ انصاف نے یقین دہانی کرائی تھی کہ عمران خان کی شفاء ہسپتال منتقلی اور ان سے ملاقاتوں کے وقت ہسپتال کے اطراف کوئی سیاسی سرگرمی نہیں ہو گی۔