امریکہ نے بدھ کی صبح ایران پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق حملوں کا یہ سلسلہ آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد چند گھنٹے بعد شروع کیا گیا۔
اس نئی پیش رفت نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے عبوری معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اس نئی صورت حال نے ان مذاکرات کو یقینی طور پر مشکل میں ڈال دیا ہے جن کا مقصد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا، تہران کے متنازع جوہری پروگرام کو رول بیک کرنا اور 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے مستقل خاتمے تک پہنچنا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا ہے کہ فورسز کی جانب سے یہ حملے ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں معصوم شہریوں پر مشتمل سٹاف تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آایران کی جارحیت غیر ضروری، خطرناک اور جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی تھی۔‘
ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کا ایک ایسا ہی سلسلہ پچھلے مہینے بھی دیکھنے میں آیا تھا جس کے جواب میں امریکہ نے بھی ایران کے خلاف کارروائیاں کی تھیں۔
تین تینکروں کو نشانہ بنائے جانے کے چند گھنٹے بعد امریکہ نے اس لائسنس کو بھی منسوخ کر دیا جو کہ امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے ایک حصے کے طور پر جاری کیا گیا تھا اور جس میں ایرانی تیل کی فروخت دی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق حالیہ حملے اپریل کے بعد سے ایک دن میں ہونے والے حملوں کی سب سے زیادہ تعداد تھی۔
ان حملوں سے آبنائے ہرمز میں ٹریفک کے بہاؤ کے لیے خطرات پیدا ہوئے ہیں جبکہ اس سے قبل فریقین کے علاوہ دوسرے ممالک کو بھی امید تھی کہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو جنگ سے قبل کی صورت حال میں لے جایا جائے گا اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والا تجارتی دباؤ کم ہو جائے گا۔








