Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیلی کارروائیاں رُکوانے کے لیے فرانس کی مدد پر انحصار کر رہے ہیں: شامی صدر

دمشق میں فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں اور شامی صدر احمد الشرعہ کی ملاقات ہوئی (فوٹو: اے ایف پی)
شام کے صدر احمد الشرع نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں اور کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے فرانس کے فعال کردار پر انحصار کر رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق دمشق میں فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احمد الشرع نے اسرائیل کی جانب سے ہونے والے ’منظم حملوں‘ کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم اس کشیدگی کو روکنے اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے فرانس کے فعال کردار کے منتظر ہیں۔‘
شامی صدر نے اس موقعے پر اعلان کیا کہ ان کی اور فرانسیسی صدر کے درمیان دونوں ممالک میں سفیروں کی دوبارہ تعیناتی پر اتفاق ہوا ہے۔ شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد فرانس نے سنہ 2012 میں دمشق میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔
صدر احمد الشرع نے کہا کہ ’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ آج ہم نے دمشق اور پیرس کے درمیان جلد سے جلد مستقل سفیروں کے تبادلے کا عمل شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہوگی۔‘
اس موقع پر ایمانویل میکخواں نے کہا کہ ’فرانس شام کی معیشت اور بینکاری کے شعبے کی بحالی میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
فرانسیسی صدر نے کہا کہ ’ہم بینکاری کے شعبے کی تنظیمِ نو کے عمل پر کام جاری رکھنا چاہتے ہیں۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’فرانس شامی مرکزی بینک کی معاونت کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔‘

ایمانویل میکخواں نے کہا کہ ’فرانس شام کی معیشت اور بینکاری کے شعبے کی بحالی میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے‘ (فوٹو: اے ایف پی)

ایمانویل میکخواں نے زور دیا کہ ان کے تاریخی دورۂ دمشق کے دوران ہونے والے دھماکوں کو شام کے استحکام پر اثرانداز نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ان دھماکوں میں 18 افراد زخمی ہوئے تھے۔
فرانسیسی صدر نے مزید کہا کہ ’ہمیں ان حملوں کے بعد خود کو غیرمستحکم نہیں ہونے دینا چاہیے۔‘
دوسری جانب احمد الشرع نے دھماکوں کے باوجود اپنا دورہ جاری رکھنے پر ایمانویل میکخواں کے ’حوصلے اور جُرات‘ کو سراہا۔

شیئر: