Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے پاس تمام ہتھیاروں کا کنٹرول ہونا چاہیے: غزہ بورڈ آف پیس

بورڈ آف پیس نے کہا ہے کہ تمام ہتھیار نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کے کنٹرول میں دیے جائیں (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس نے پیر کے روز کہا ہے کہ غزہ کا نظم و نسق سنبھالنے کے لیے قائم فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے پاس تمام ہتھیاروں کا کنٹرول ہونا چاہیے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب حماس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ پر حکمرانی کرنے والے اپنے سابقہ ادارے کو تحلیل کر دیا ہے۔
بورڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’بنیادی اصول بدستور ایک ہی ہے: ایک اختیار، ایک قانون اور ایک ہتھیار۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام ہتھیار نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (این سی اے جی) کے کنٹرول میں دیے جائیں۔‘
نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کا صدر دفتر قاہرہ میں ہے جسے بورڈ آف پیس کی جانب سے قائم کیا گیا تھا۔ یہ بورڈ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر 2025 میں غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے بعد تشکیل دیا تھا۔
حماس کے اہلکاروں نے غزہ کی پٹی کی گورننگ باڈی کو تحلیل کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔
یہ پیش رفت شدت پسند گروپ حماس کی جانب سے ایک اہم سیاسی تبدیلی ہے۔ حماس کا غزہ کی پٹی پر کنٹرول سنہ 2007 سے جاری ہے جب اس کے جنجگوؤں نے فلسطینی حریف تنظیم فتح سے کنٹرول چھین لیا تھا۔
حماس نے گزشتہ سال اکتوبر میں غزہ میں اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کے بعد سے بارہا یہ کہا ہے کہ وہ روزہ مرہ کی حکمرانی سے خود کو علیحدہ کرنے پر تیار ہے۔
رواں سال جنوری میں ہی اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے بالواسطہ مذاکرات میں ثالثی کرنے والے مصر نے 15 رکنی فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا جو ’بورڈ آف پیس‘ کی نگرانی میں کام کرے گی جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔

شیئر: