اورماڑہ کے قریب نجی کمپنی کا کارگو طیارہ لاپتا، سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری
اورماڑہ کے قریب نجی کمپنی کا کارگو طیارہ لاپتا، سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری
منگل 7 جولائی 2026 23:12
زین الدین احمد -اردو نیوز، کوئٹہ
طیارے میں کیپٹن، فرسٹ آفیسر، فلائٹ انجینیئر اور لوڈ ماسٹر سمیت عملے کے پانچ ارکان سوار تھے (فائل فوٹو: کے ٹو ایئرویز)
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے اورماڑہ کے قریب ایک نجی کمپنی کا طیارہ لاپتا ہوگیا۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات ایک بیان میں طیارے کے لاپتا ہونے کی تصدیق کی۔
’متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ سے کراچی آنے والی کے ٹو ایئرویز کی بوئنگ 737 کارگو پرواز کو پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی رات 9 بج کر 18 منٹ پر دورانِ پرواز نیویگیشن سسٹم میں خرابی پیش آئی۔‘
بیان کے مطابق ’طیارے میں خرابی کی اطلاع ملنے کے بعد کراچی ایریا کنٹرول سینٹر (اے سی سی) نے فوری طور پر جہاز کی رہنمائی شروع کی۔‘
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق رات 9 بج کر 21 منٹ پر ریڈار پر طیارے کو تیزی سے بلندی کھوتے اور اچانک سمت تبدیل کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
اس کے بعد کراچی سے قریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارے سے ریڈار اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہوگیا۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق یہ آخری معلوم پوزیشن بلوچستان کے علاقے اورماڑہ سے قریباً 53 ناٹیکل میل دُور ہے۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق نیویگیشن میں خرابی کی اطلاع کے بعد طیارے نے اچانک دائیں جانب رُخ موڑا اور تیزی سے بلندی کھونا شروع کر دی۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طیارہ سمندر میں گر گیا ہے، تاہم اب تک اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
پی اے اے کے مطابق واقعے کے فوری بعد ریسکیو کوآرڈی نیشن سینٹر کو فعال کر دیا گیا اور مختلف اداروں کے تعاون سے سمندر میں مشترکہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔ اتھارٹی نے بتایا کہ طیارے میں عملے کے پانچ ارکان سوار تھے۔
پی این ایس ذوالفقار کو اس علاقے کی جانب روانہ کیا گیا ہے جہاں طیارے کے لاپتا ہونے کا خدشہ ہے (فائل فوٹو: پاکستان نیوی)
فلائٹ جنرل ڈیکلریشن کے مطابق طیارے میں کیپٹن، فرسٹ آفیسر، فلائٹ انجینیئر اور لوڈ ماسٹر سمیت عملے کے پانچ ارکان سوار تھے۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 نے اپنی ویب سائٹ پر اس واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’خود کار ٹریکنگ ڈیٹا (ADS-B) کے مطابق طیارے نے پہلے بُلندی کھوئی اور پھر کچھ دیر کے لیے دوبارہ بلندی حاصل کی۔‘
’تاہم اس کے فوراً بعد وہ اچانک انتہائی تیزی سے نیچے آنے لگا۔ موصول ہونے والا آخری ڈیٹا یونیورسل ٹائم چار بج کر 21 منٹ (پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی رات 9 بج کر 21 منٹ) پر ریکارڈ ہوا۔‘
فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق ’اس وقت طیارہ سطح سمندر سے قریباً 1100 فٹ کی بلندی پر تھا جبکہ اس کی عمودی رفتار 22 ہزار 400 فٹ فی منٹ کی غیر معمولی رفتار سے نیچے کی جانب تھی۔
طیارے کی تلاش کی سرگرمیوں میں پاکستانی فضائیہ اور پاکستانی بحریہ بھی حصہ لے رہی ہیں۔
پاکستانی بحریہ نے جنگی جہاز پی این ایس ذوالفقار کو اس علاقے کی جانب روانہ کیا ہے جہاں طیارے کے لاپتا ہونے کا خدشہ ہے۔
اس کے علاوہ پاکستانی فضائیہ کا ایک نگرانی کرنے والا طیارہ بھی تلاشی مشن میں حصہ لے رہا ہے جبکہ پاکستان بحریہ کا اے ٹی آر طیارہ تربت سے اُڑان بھر کر سرچ آپریشن میں شامل ہو چکا ہے۔
پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن نے بھی اپنا تجارتی جہاز لاہور تلاش اور امدادی کارروائیوں میں معاونت کے لیے روانہ کر دیا ہے۔