شام کے دارالحکومت دمشق میں فرانسیسی صدر کے ہوٹل کے قریب دھماکے
شام کے دارالحکومت دمشق میں منگل کے روز اس ہوٹل کے قریب بم دھماکے ہوئے جہاں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں ٹھہرے ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانسیسی ایوانِ صدر (ایلیزے) کا کہنا ہے صدر میکخواں نے دھماکوں کی آواز نہیں سنی اور اس کے کچھ ہی دیر بعد انہوں نے شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات بھی کی۔
یہ دھماکے شام کو درپیش سنگین سکیورٹی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں۔ میکخواں، 2024 میں احمد الشرع کی قیادت میں باغیوں کے ہاتھوں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام کا دورہ کرنے والے یورپی یونین کے پہلے سربراہِ مملکت ہیں۔
روئٹرز کے ایک عینی شاہد کے مطابق دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور علاقے سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد سڑکیں بند کر دی گئیں اور سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔
ایلیزے کا کہنا ہے کہ صدارتی قافلے میں دھماکوں کی آواز سنائی نہیں دی، جبکہ میکخواں کے ہمراہ موجود روئٹرز کے صحافی نے بھی صبح کی مصروفیات کے دوران نہ کوئی دھماکا سنا اور نہ ہی غیر معمولی صورتحال دیکھی۔
بعد ازاں سرکاری ٹیلی ویژن نے اطلاع دی کہ صدر میکخواں اور صدر احمد الشرع نے شامی صدارتی محل میں ملاقات کی۔
میکخواں کا دورہ احمد الشرع کی قیادت میں شام میں آنے والی جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ القاعدہ کے سابق کمانڈر احمد الشرع نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مغربی اور مشرقِ وسطیٰ کے ان ممالک سے قریبی تعلقات قائم کیے ہیں جو بشار الاسد کی حکومت سے دوری اختیار کیے ہوئے تھے، جبکہ وہ 13 سالہ جنگ سے تباہ حال ملک کی تعمیرِ نو کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
شام کی خانہ جنگی کے دوران داعش سمیت متعدد شدت پسند گروہوں نے بھی ملک میں اپنی جڑیں مضبوط کی تھیں۔
شام کی سنی اکثریت سے تعلق رکھنے والے احمد الشرع نے بشار الاسد خاندان کی پانچ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط سخت گیر حکمرانی کے خاتمے کے بعد ایک جامع اور شمولیتی نظام قائم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم حکومت نواز فورسز اور مذہبی و نسلی اقلیتوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں، جن میں گزشتہ سال سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے، نے اس وعدے کو سخت آزمائش سے دوچار کر دیا ہے۔
