پاسپورٹ دفاتر میں فیسوں کی ادائیگی آن لائن، صرف فیس اور ڈیلیوری کا ڈیجیٹل نظام مسائل کا حل؟
پاسپورٹ دفاتر میں فیسوں کی ادائیگی آن لائن، صرف فیس اور ڈیلیوری کا ڈیجیٹل نظام مسائل کا حل؟
بدھ 8 جولائی 2026 7:40
صالح سفیر عباسی -اردو نیوز، اسلام آباد
پاکستان کے محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کی جانب سے پاسپورٹ فیس کی ادائیگی کو مکمل طور پر ’کیش لیس‘ کرنے کے اعلان کے بعد اب ملک بھر کے پاسپورٹ دفاتر میں فیسوں کی وصولی آن لائن طریقے سے کی جا رہی ہے۔
اس نئے طریقہ کار کے تحت، پاسپورٹ کے حصول کے لیے مطلوبہ مراحل مکمل ہوتے ہی شہریوں کو ایک ٹوکن جاری کر دیا جاتا ہے، جس پر درج مخصوص کیو آر کوڈ کو سکین کر کے فیس ادا کی جا سکتی ہے۔
شہری اس کوڈ کو کسی بھی ڈیجیٹل والٹ (موبائل بینکنگ ایپ یا ایزی پیسہ/جیز کیش وغیرہ) کے ذریعے سکین کر کے اگلے 72 گھنٹوں کے اندر مقررہ فیس جمع کروا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کی جانب سے بیرونِ ملک مقیم سمندر پار پاکستانیوں کو فراہم کی جانے والی سہولت کی طرز پر اب پاکستان میں موجود شہریوں کے لیے بھی پاسپورٹ گھروں میں وصول کرنے کی سہولت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
عوام کو کیا سہولت ملی ہے اور اب بھی کون سے تکنیکی و انتظامی چیلنجز موجود؟
محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے ڈپٹی ڈائریکٹر کوآرڈینیشن عطا الرحمٰن واہلہ نے اردو نیوز کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی ہدایات کے مطابق جولائی 2026 سے ملک بھر میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے وژن کے تحت محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے بھی آن لائن ادائیگیوں کے اس اہم نظام کا آغاز کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب ملک بھر کے پاسپورٹ دفاتر میں آنے والے شہریوں کو یہ سہولت میسر ہے کہ وہ فیس جمع کرانے کے لیے بینکوں کے چکر کاٹنے کے بجائے، پاسپورٹ آفس میں ہی یا پھر اگلے 72 گھنٹوں کے دوران گھر بیٹھے بھی کیو آر کوڈ کے ذریعے فیس ادا کر سکتے ہیں۔
پرانے نظام کی پیچیدگیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے عطا الرحمن کا کہنا تھا کہ ’اس سے قبل شہریوں کو پاسپورٹ کے حصول یا تجدید کے لیے پراسس مکمل کرنے کے بعد فیس کی ادائیگی کی خاطر نیشنل بینک کی طویل لائنوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ بعض اوقات بینک میں فیس جمع کروانے کے بعد جب درخواست گزار واپس ٹوکن کاؤنٹر پر آتا، تو کسی تکنیکی خامی کے باعث اسے دوبارہ بینک بھیج دیا جاتا تھا جس سے شہریوں کا وقت ضائع ہوتا تھا۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ انہی عوامی شکایات کے پیشِ نظر اب شہریوں کو بینکوں کے چکروں سے نجات دلا دی گئی ہے۔ نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت، پاسپورٹ کا پراسس مکمل ہوتے ہی سائل کو کیو آر کوڈ کا حامل ایک ٹوکن دے دیا جاتا ہے، جسے وہ اگلے 72 گھنٹوں کے دوران اپنے موبائل والٹ سے سکین کر کے کہیں سے بھی فیس کی فوری ادائیگی کر سکتا ہے۔
شہری کسی بھی ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے 72 گھنٹوں کے اندر مقررہ فیس جمع کروا سکتے ہیں: فوٹو اردو نیوز
سمندر پار پاکستانیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر نے بتایا کہ وپ پہلے ہی پاسپورٹ فیسوں کی ادائیگی مینوئل کے بجائے ڈیبٹ کارڈ، کریڈٹ کارڈ یا دیگر آن لائن ذرائع سے ہی کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کی جانب سے پاکستان میں مقیم شہریوں کے لیے اب پاسپورٹ کی ہوم ڈیلیوری سروس کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔
اب پاسپورٹ بنوانے والے درخواست گزار فارم جمع کرواتے وقت ’ہوم ڈیلیوری‘ کا آپشن منتخب کر سکتے ہیں، جس کے بعد مقررہ اضافی چارجز کی ادائیگی پر پاسپورٹ طے شدہ مدت کے اندر ان کے گھر پہنچا دیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے پاسپورٹس آفس کے مینیجر ڈسٹری بیوشن رائے رضا جہانگیر نے بتایا کہ پاکستان میں شہریوں کو پاسپورٹ کی ترسیل کے لیے ’ٹی سی ایس‘ جبکہ بیرونِ ملک ڈیلیوری کے لیے ’ڈی ایچ ایل‘ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
’ہوم ڈیلیوری کا انتخاب کرنے والے شہریوں کے پاسپورٹ پروڈکشن یونٹ سے تیار ہوتے ہی ڈسٹری بیشن سیکشن میں آتے ہیں جہاں سے براہِ راست کوریئر کمپنی کے سپرد کر دیے جاتے ہیں، جہاں سے وہ انتہائی محفوظ پیکجنگ میں درخواست گزار کے دیے گئے پتے پر پہنچا دیے جاتے ہیں۔‘
رائے رضا جہانگیر کے مطابق نئے نظام کے تحت ارجنٹ پاسپورٹ کی ہوم ڈیلیوری کے لیے 4 دن اور نارمل پاسپورٹ کے لیے 14 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے، جبکہ سمندر پار پاکستانیوں کے لیے بیرونِ ملک ترسیل کا وقت متعلقہ ملک کے جغرافیائی حالات کے تناظر میں طے کیا جاتا ہے۔
جب ان سے ہوم ڈیلیوری کے چارجز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ فیس کوریئر کمپنی کی اپنی مقرر کردہ ہے جو شہروں کے فاصلے کے حساب سے مختلف ہوتی ہے، تاہم محکمہ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ یہ فیس کمپنیوں کے عام کمرشل ریٹس کی نسبت نمایاں طور پر کم اور رعایتی ہو۔
اسلام آباد کے ریجنل پاسپورٹ آفس میں موجود ان شہریوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اب وہ گھر بیٹھے بھی اگلے 72 گھنٹوں میں کسی بھی وقت آسانی سے فیس جمع کروا سکتے ہیں۔
شہریوں کو پاسپورٹ کی فیس ادا کرنے کے بینکوں میں لائنوں میں لگنا پڑتا تھا: فوٹو اے ایف پی
تاہم، وہاں کچھ ایسے شہری بھی موجود تھے جن کا کہنا تھا کہ جدید نظام تو رائج کر دیا گیا ہے، لیکن بار بار سکین کرنے کے باوجود بعض اوقات سسٹم یا انٹرنیٹ اوور لوڈ ہونے کی وجہ سے فیس کی فوری ادائیگی میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان شہریوں کو یہ خدشہ بھی تھا کہ فیس کی ادائیگی کی تصدیق لیٹ ہونے سے ان کا پاسپورٹ مقررہ وقت پر تیار نہیں ہو پائے گا۔ اس حوالے سے اُنہوں نے تجویز دی کہ پاسپورٹ دفاتر کے اندر انٹرنیٹ سروسز دستیاب ہونی چاہییں تاکہ وہاں ہی فیس کی فوری ادائیگی ممکن ہو سکے۔
اس اقدامات پر گفتگو کرتے ہوئے اسلام آباد میں مقیم ماہرِ امیگریشن اور قانون دان بیرسٹر ساجد مرید چوہدری نے بتایا کہ محکمے کے یہ اقدامات بنیادی طور پر درخواست گزاروں کی دفتری مشقت کو کم کرنے اور انہیں ایک ہی چھت تلے تمام سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعارف کرائے گئے ہیں، جو کہ یقیناً ایک خوش آئند اور مثبت پیش رفت ہے۔
تاہم، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس اندرونی ڈیجیٹلائزیشن سے عالمی سطح پر پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ (عالمی درجہ بندی) میں بہتری کے حوالے سے کوئی براہِ راست مدد نہیں ملے گی۔
ماہرینِ امیگریشن کا کہنا ہے کہ صرف فیس اور ڈیلیوری کے نظام کو ڈیجیٹل کرنا کافی نہیں، بلکہ محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کو شہریوں کی روزمرہ شکایات، دفاتر میں غیر معمولی رش اور پرنٹنگ میں تاخیر جیسے دیرینہ مسائل کے مستقل حل کے لیے بھی انقلابی اصلاحات لانا ہوں گی تاکہ سائلین کی مشکلات کا حقیقی ازالہ ہو سکے۔