’سیالکوٹ کے ہنرمندوں کو خراجِ تحسین‘، پاکستانی برینڈ ’راستہ‘ کا ہاتھ سے تیارکردہ منفرد فٹ بال
رستہ کے مطابق یہ فٹ بال اب تک کے ’سب سے پیچیدہ اور تکنیکی طور پر مشکل منصوبوں‘ میں سے ایک تھی۔(فوٹو:انسٹاگرام)
پاکستانی سٹریٹ ویئر برینڈ ’راستہ‘ نے نیویارک میں اپنے پاپ اَپ شوکیس سے قبل ہاتھ سے تیار ایک منفرد فٹ بال متعارف کرائی ہے۔
یہ فٹ بال سیالکوٹ کے ان ہنرمندوں کو خراجِ تحسین ہے، جو کئی دہائیوں سے فیفا ورلڈ کپ سمیت دنیا کے بڑے فٹبال ٹورنامنٹس کے لیے فٹبالز تیار کر رہے ہیں۔
راستہ کے مطابق اس منصوبے کا آغاز تقریباً تین ہفتے قبل ایک ایسے سوال سے ہوا کہ ’اگر ہم مکمل طور پر ہاتھ سے ایک فٹ بال تیار کریں تو کیسا ہوگا؟‘
اس خیال کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کمپنی کے ڈیزائنرز اور ہنرمندوں نے روایتی پاکستانی دستکاری کو جدید انداز کے ساتھ یکجا کیا۔
برینڈ کا کہنا ہے کہ یہ فٹ بال ان کے اب تک کے ’سب سے پیچیدہ اور تکنیکی طور پر مشکل منصوبوں‘ میں سے ایک تھی، کیونکہ اس کی تیاری میں مختلف روایتی فنونِ دستکاری کو ایک ہی ڈیزائن میں سمویا گیا۔
اس خصوصی فٹ بال میں سندھ کی روایتی ’اجرک بلاک پرنٹنگ‘، ہاتھ کی کڑھائی، روایتی آرائش، مختلف اقسام کے کپڑے، بروکیڈ اور کناروں پر موتیوں کی نفیس کڑھائی شامل کی گئی ہے، جس سے یہ صرف کھیل کا سامان نہیں بلکہ پاکستانی ثقافت اور ہنرمندی کی علامت بن گئی ہے۔
راستہ نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں کہا کہ اس منصوبے کی اصل تحریک سیالکوٹ کے وہ ہزاروں ہنرمند ہیں جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران فیفا ٹورنامنٹس کے لیے لاکھوں فٹ بالز تیار کیں، مگر عالمی سطح پر انہیں وہ شناخت نہیں مل سکی جس کے وہ مستحق ہیں۔
برینڈ کے مطابق دنیا جب ورلڈ کپ کے تاریخی لمحات اور یادگار گولز کا جشن مناتی ہے تو ان لمحات کے پیچھے پاکستانی کاریگروں کی محنت بھی شامل ہوتی ہے، لیکن وہ اکثر اس کہانی کا حصہ نہیں بن پاتے۔
سیالکوٹ 1950 کی دہائی سے بین الاقوامی مارکیٹ کے لیے فٹ بال تیار کر رہا ہے اور آج بھی دنیا کے معروف سپورٹس برینڈ ’ایڈیڈاس‘ کے لیے میچ فٹبالز تیار کیے جاتے ہیں، جن میں فیفا ورلڈ کپ کے لیے استعمال ہونے والے فٹبالز بھی شامل ہیں۔
راستہ کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف سیالکوٹ کے فٹبال ساز ہنرمندوں بلکہ ان پاکستانی دستکاروں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہے جو صدیوں پرانے روایتی فنون کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
برینڈ کے مطابق ان کا یقین ہے کہ ’روایت کو عجائب گھر کی شیشے کی الماریوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے وقت کے ساتھ ارتقا پذیر ہونا چاہیے تاکہ وہ نئی شکلوں میں دنیا کے سامنے آسکے۔‘
رستہ اس سے قبل ’لندن فیشن ویک‘ میں اپنی کلیکشن پیش کرنے والا پہلا پاکستانی فیشن برینڈ بن چکا ہے، جبکہ اس کے ملبوسات عالمی شہرت یافتہ شخصیات ’جسٹن بیبر‘ اور’ ٹموتھی شالامے‘ بھی پہن چکے ہیں۔