بلوچستان کے ضلع خضدار میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میر شفیق الرحمان مینگل بدھ کو اپنی رہائش گاہ پر ہونے والے ایک منظم خودکش اور منظم مسلح حملے میں محفوظ رہے، تاہم حملے میں ان کے محافظوں سمیت کم سے کم 12 افراد ہلاک جبکہ 10 سے زائد زخمی ہوگئے۔
حکام کے مطابق حملہ بدھ کی دوپہر خضدار کے علاقے پولیس لائن سے متصل شہزاد ٹاؤن میں واقع میر شفیق مینگل کی رہائش گاہ پر کیا گیا۔
ایس ایس پی خضدار دوستین دشتی نے رہائش گاہ پر خودکش حملے کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
مزید پڑھیں
خضدار میں تعینات ایک سینیئر سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی رہائش گاہ کے مرکزی دروازے سے ٹکرا دی۔
بارود سے بھری گاڑی ٹکرانے سے زوردار دھماکہ ہوا اور مرکزی گیٹ تباہ ہوگیا۔ دھماکے میں سکیورٹی پر تعینات کئی محافظ اور پولیس اہلکار موقع پر ہی جان سے گئے۔
ان کے مطابق ابتدائی دھماکے کے فوراً بعد چار سے پانچ مسلح حملہ آور کمپاؤنڈ میں داخل ہوگئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جبکہ کچھ دیر بعد ایک اور دھماکے کی آواز بھی سنی گئی۔
سرکاری افسر کا کہنا تھا کہ باقی حملہ آور بھی خودکش جیکٹیں پہنے ہوئے تھے اور ان کے پاس دستی بم سمیت جدید اسلحہ موجود تھا۔
حملے کے وقت میر شفیق مینگل گھر میں موجود تھے تاہم وہ محفوظ رہے۔ دھماکے کے بعد ان کے ذاتی محافظوں اور سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں لا حملہ آوروں کے ساتھ مقابلہ ہوا۔ پولیس ذرائع کے مطابق قریباً تین گھنٹے تک شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
میر شفیق مینگل کی رہائش گاہ کے قریب سابق وزیراعلٰی بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کا گھر اور پولیس لائن بھی واقع ہے۔
فائرنگ کی آواز سن کر وہاں موجود پولیس اہلکار اور محافظوں نے بھی فائرنگ شروع کردی جس کے باعث پورا علاقہ کئی گھنٹوں تک دھماکوں اور فائرنگ کی آوازوں سے گونجتا رہا۔
خضدار پولیس کے ایک افسر نے تصدیق کی کہ حملے میں پولیس کے پانچ اہلکار بھی جان سے گئے، تاہم انہوں نے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی۔ اب تک سرکاری طور پر واقعے کی تفصیلات بھی جاری نہیں کی گئیں۔
میر شفیق مینگل کے ترجمان اور قریبی ساتھی ندیم الرحمان نے اردو نیوز کو بتایا کہ حملے میں میر شفیق مینگل کے 12 ساتھی اور محافظ جان سے گئے۔

ان کے مطابق حملے کے وقت میر شفیق مینگل خود گھر میں موجود تھے اور انہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر حملہ آوروں کا مقابلہ کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملہ پانچ خودکش حملہ آوروں نے کیا۔ ایک حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی مرکزی گیٹ سے ٹکرا کر دھماکہ کیا، دوسرے حملہ آور نے کچھ فاصلے پر خود کو دھماکے سے اُڑایا جبکہ خودکش جیکٹیں پہنے باقی تین حملہ آور فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔
ایک پولیس افسر کے مطابق واقعے کے بعد میر شفیق مینگل نے پولیس کی فورینزک اور تفتیشی ٹیموں کو فوری طور پر جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے سے روک دیا۔
ان کا مؤقف تھا کہ پولیس جائے وقوعہ پر تاخیر سے پہنچی اور حملہ آوروں کا مقابلہ انہیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ تنہا کرنا پڑا۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملے میں 10 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے جن میں میر شفیق مینگل کے چچا اور ضلع خضدار ڈسٹرکٹ کونسل کے وائس چیئرمین اقبال بلوچ اور ان کے قریبی ساتھی یاسر بھی شامل ہیں۔
میر شفیق مینگل نے بھی حملے میں اپنے متعدد ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے تعداد نہیں بتائی۔
کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی اس کے خودکش ونگ ’مجید بریگیڈ‘ نے انجام دی۔













