Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اگر الکُر نہ ہوتا تو دہائیوں پہلے کسان کھجور کے درخت پر کیسے چڑھتے؟

سعودی عرب میں کھجوروں کی کاشت سے وابستہ روایتی آلات میں الکُر ایک خاص حیثیت رکھتا ہے کیونکہ جدید مشینوں کے آنے سے پہلے، کسان اِسے دہائیوں سے استعمال کر تے ہوئے کھجور کے درختوں پر چڑھتے رہے ہیں۔
 آج بھی الکُر بہت سے فارمز پر استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ اِس کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ یہ استعمال میں آسان بھی ہے جس سے کسان کھجور کے درخت کے سب سے اوپر والے حصے تک پہنچ جاتے ہیں اور کھجور کی صفائی اور کاٹ چھانٹ سمیت کئی ضروری زرعی امور نمٹاتے ہیں۔
الکُر، سعودی عرب کے زرعی ورثے کا جزوِ لازم ہے۔ یہ طلاع کے پیشے سے بہت ملتا جُلتا ہے جو کھجور کے درخت پر چڑھنے کے ہنر کا ماہر کہلاتا ہے۔ برسوں کی مشق اور تجربے کے بعد کھجور کے درخت پر چڑھنے والے اپنے کام میں طاق ہو جاتے ہیں اور اُن میں اِس مشکل عمل کے لیے ضروری جسمانی طاقت اور توازن پیدا ہوجاتا ہے۔
 کھجور کے درخت کی چوٹی پر چڑھنے کے بعد، کسان کھجور کو چھیلتے ہیں، صفائی کرتے ہیں، تراش خراش کرتے ہیں اور کھجور کے نر حصے سے زرِگُل مادہ حصے تک منتقل کرتے ہیں تاکہ نئے بیج اور پھل پیدا ہو سکیں۔
 قصیم ریجن میں جہاں کھجور کے درختوں کے جُھنڈ کے جُھنڈ قطار در قطار پھیلے ہوئے ہیں، زرعی خدمات کے لیے اور کاشت کے زمانے میں الکُر تھامے کھجور کے تنے کے ذریعے درخت پر چڑھتے ہوئے کسی کسان کا نظر آنا عام سے بات ہے۔

 
یہ اُس زرعی روایت کا تسلسل ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہے۔ اِس راویت میں تجربے، مہارت اور کھجور کے درخت کے لیے جو قومی شناخت اور فیاضی کی علامت بھی ہے، احترام کے احساس کا ایک امتزاج نظر آتا ہے۔
 روایتی طور پر الکُر ایک ایسی پیٹی یا بیلٹ ہوتی ہے جسے درخت پر چڑھنے والے کی کمر اور تنے کے اردگرد لپیٹا جاتا ہے۔ یہ کھجور کے پتوں سے حاصل کردہ ریشوں اور فائبر اور مضبوط رسی سے بنایا جاتا ہے۔
 حالیہ برسوں میں اِس کی بناوٹ میں دھاتی تاریں، آرام دہ تہوں کے لیے کپڑا اور پائیدار مصنوعی مواد بھی کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ لیکن جدت کے باوجود اِس آلے کے بنیادی مقصد کو محفوظ رکھا گیا ہے یعنی چوٹی پر جانے والا انسان محفوظ انداز میں درخت کے تنے کے سہارے اوپر جا سکے اور محفوظ طریقے سے نیچے اُتر سکے۔

الکُر سعودی عرب کے زرعی ورثے کا جزوِ لازم ہے (فوٹو: العربیہ)

درخت پر چڑھنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ بیلٹ کو کھجور کے تنے کے ارد گرد باندھ دیا جاتا ہے۔ پھر درخت پر چڑھنے والا اپنے پاؤں تنے پر رکھ کر اسے نیچے کی طرف دباتے ہوئے اوپر جانا شروع کرتا ہے۔ اس عمل میں وہ مرحلہ وار بیلٹ کو بھی اوپر سرکاتا رہتا ہے تا وقتیکہ وہ درخت کے سب سے اوپر کے حصے تک پہنچ جائے۔ اِس پورے عمل میں ہاتھوں اور پیروں کے مابین مکمل طور پر درست رابطے کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ساتھ ساتھ تنے کی موٹائی کے مطابق خود کو ڈھالنا اور توازن قائم رکھنا انتہائی اہم ہوتا ہے۔
 الکُر ایک ایسے آلے کی کہانی ہے جو ڈیزائن میں سادہ لیکن اثر میں حیرت انگیز ہے۔ دہائیوں سے اس آلے نے کھجور کے لاکھوں درختوں کی حفاظت اور نگہداشت میں مدد کی ہے اور ایک ایسے پیشے کو بچا کے رکھا ہے جس کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ وقت نے اس آلے کی افادیت کی گواہی دی ہے۔
 یہ پیشہ کاشتکاروں کی یاد میں آج بھی زندہ ہے اور سعودی عرب کے زرعی ورثے کے ساتھ ساتھ لوگوں اور کھجور کے درخت کے درمیان طویل تعلق کی صداقت کا امین ہے جو مدتوں سے انسانی صحت کا ضامن بھی رہا ہے اور اُس کے روزگار کا ذریعہ بھی۔

شیئر: