Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آبنائے ہرمز میں کشیدگی: شہری جہاز پر حملے کے بعد امریکہ کے ایران پر نئے حملے

امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف نئے حملوں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
یہ اعلان سنیچر کو اس وقت کیا گیا جب پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قبرص کے جھنڈے والے مال بردار جہاز ایم وی جی ایف ایس گیلکسی پر حملہ کیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’شہری عملے کا ایک رکن لاپتہ ہے اور جہاز پر لگنے والی آگ اور انجن روم کو پہنچنے والے شدید نقصان کی وجہ سے یہ جہاز اپنا سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ یہ حملے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کیے گئے۔
ایران نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے کیونکہ اس نے آبنائے میں ایک ایسے جہاز کو نشانہ بنانے کا اعتراف کیا تھا جو ’غیر مجاز راستے‘ کا استعمال کر رہا تھا۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا تھا کہ متعدد جہازوں نے ’ہمارے انتباہ اور اپنے راستے کی تصحیح کر کے منظور شدہ راستے پر آگے بڑھنے کی ہدایات کو نظر انداز کیا۔‘
ان میں سے ایک جہاز کو ’انتباہی فائر کا نشانہ بنایا گیا اور اسے روک دیا گیا۔‘
ایران نے موقف اختیار کیا کہ یہ آبنائے ’اگلے نوٹس تک‘ بند رہے گی اور واضح کیا کہ اگر اسے مزید حملوں کا سامنا کرنا پڑا تو وہ ’خطے میں دشمن کے مزید اڈوں‘ کو نشانہ بنانے پر غور کرے گا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ تجارتی جہازوں پر سابقہ ​​حملوں کے لیے جوابدہ ٹھہرائے جانے کے بعد ایران کو مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد ظاہر کرنے کا ایک اور موقع دیا گیا تھا لیکن وہ ’ایک بار پھر ناکام رہا۔‘
سینٹکام کے مطابق ’جواب میں، امریکہ ایران کی جانب سے شہری ملاحوں اور آبنائے سے آزادانہ گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی صلاحیت کو مسلسل کمزور کر کے ایک بھاری قیمت عائد کر رہا ہے۔‘
امریکی فوج کے اس اعلان کے بعد ایرانی میڈیا نے آبنائے ہرمز کے قریب ملک کے ساحلی علاقوں میں دھماکوں کی رپورٹیں دینا شروع کر دیں۔
سرکاری ٹی وی نے اطلاع دی کہ ’بندر عباس میں تین اور سیریک میں دو دھماکے سنے گئے۔‘ جبکہ مہر نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ جزیرہ قشم میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ دیگر میڈیا ہاؤسز نے صوبہ بوشہر، دیر، عسلویہ اور جاسک شہر میں بھی متعدد دھماکوں کی اطلاع دی۔
امریکہ کی جانب سے نئے حملوں کے اعلان کے ساتھ ہی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ ایران کو اپنی ہٹ دھرمی کی قیمت چکانا پڑے گی۔
انہوں نے لکھا’ایران نے ایک غلط انتخاب کیا۔ اب وہ اس کی قیمت چکا رہے ہیں۔‘
یہ حالیہ کشیدگی ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ کے درمیان سنیچر کو ہونے والی اس ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اپنے درمیان واقع آبنائے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
یہ ملاقات بحری جہازوں پر ایرانی حملوں اور امریکی جوابی کارروائی کے چند روز بعد ہوئی جس نے جنگ کے خاتمے کے عبوری معاہدے کو نقصان پہنچایا ہے۔

نئے حملوں سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ انہوں نے عمان میں اپنے ہم منصب سے ملاقات کی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک سامنے نہ آنے والے ایران کے نئے سپریم لیڈر نے اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے بعد اپنے پہلے بیان میں عزم ظاہر کیا کہ ایرانی عوام 28 فروری کو جنگ کے ابتدائی حملوں میں ان کی ہلاکت کا بدلہ لیں گے۔
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان میں کہا ’ایسا انتقام ہماری قوم کی خواہش ہے اور اسے یقیناً پورا کیا جانا چاہیے۔‘
یہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید میزائل حملوں کی دھمکی کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔
ادھر عمان کا کہنا ہے کہ وہ اور ایران آبنائے ہرمز کے بارے میں ’تکنیکی اور سیاسی سطحوں پر‘ بات چیت جاری رکھنے پر متفق ہوئے ہیں۔
نئے حملوں سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ انہوں نے عمان میں اپنے ہم منصب سے ملاقات کی تاکہ ’جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کے لیے مناسب طریقہ کار‘ پر بات چیت کی جا سکے۔

شیئر: