Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لگاتار 16 کامیابیوں کے بعد انڈیا ٹی20 کرکٹ میں ناکامی کا سامنا کیوں کر رہا ہے؟

ٹی20 ورلڈ کپ کا کامیابی سے دفاع کرنے کے بعد انڈیا مسلسل دو سیریز اور پانچ میچ ہار چکا ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
مسلسل تین برس تک ٹی20 کرکٹ میں ناقابلِ شکست رہنے والی انڈین ٹیم کے لیے حالیہ ناکامیاں ایک بڑا جھٹکا ثابت ہوئی ہیں۔
’ای ایس پی این کرک انفو‘ کے مطابق ٹی20 ورلڈ کپ کے کامیاب دفاع سمیت 16 سیریزز میں لگاتار فتوحات کے بعد انڈیا مسلسل دو سیریز اور پانچ میچ ہار چکا ہے، جس نے ٹیم کی کئی تکنیکی اور حکمتِ عملی سے متعلق کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ اگلا ٹی20 ورلڈ کپ دو سال بعد آسٹریلیا میں کھیلا جائے گا، اس لیے انڈین ٹیم کے پاس اپنی خامیوں کو دور کرنے اور نئی حکمتِ عملی کے ساتھ مضبوط واپسی کا مناسب وقت موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق انڈیا کی طویل فتوحات کے دوران بھی ٹیم مکمل طور پر متوازن نہیں تھی، لیکن ہُوم کنڈیشنز نے ان کمزوریوں کو چھپا رکھا تھا۔
نچلے مڈل آرڈر کی غیر مستحکم کارکردگی، جسپریت بمراہ اور ہاردک پانڈیا پر حد سے زیادہ انحصار، ورون چکرورتی کی فارم میں کمی اور فٹنس مسائل بیرونِ ملک مختلف کنڈیشنز میں واضح طور پر سامنے آئے ہیں۔ نسبتاً زیادہ باؤنس اور مختلف رفتار والی پچز پر انڈین بلے باز اور بولرز دونوں مشکلات کا شکار دکھائی دیے۔
انڈیا کے اسسٹنٹ کوچ ریان ٹین ڈوشیٹ کا کہنا ہے کہ ’ٹیم کو صرف مختلف حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی بات کرنے کے بجائے عملی طور پر اس پر کام کرنا ہوگا۔‘
ان کے مطابق ’اصل امتحان یہ ہے کہ انڈیا صرف اپنی ہوم کنڈیشنز میں بڑے سکور بنانے والی ٹیم نہ رہے بلکہ انگلینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک کی مختلف پچز پر بھی کامیاب کھیل پیش کرے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اگلے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کو ذہنی طور پر بھی مختلف حالات کے لیے تیار کرنا ضروری ہے۔‘

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ انڈین کرکٹ میں ٹاپ آرڈر میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، لیکن معیاری آل راؤنڈرز کی تعداد محدود ہے۔ آئی پی ایل میں امپیکٹ پلیئر قانون کی وجہ سے کئی آل راؤنڈرز کو باقاعدگی سے بولنگ کا موقع نہیں ملتا، جس کے باعث بین الاقوامی سطح پر متوازن کھلاڑی تیار کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ساتھ ہی ٹیم مینجمنٹ کو پلیئنگ الیون، بیٹنگ کمبی نیشن اور بولنگ حکمتِ عملی پر بھی ازسرِ نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ انڈیا کی ٹی20 کرکٹ میں طویل عرصے تک قائم رہنے والی برتری اب ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے، تاہم ٹیم کے پاس نوجوان کھلاڑیوں کو تیار کرنے، بیک اپ آپشنز پیدا کرنے اور مختلف کنڈیشنز کے مطابق اپنی حکمتِ عملی بہتر بنانے کے لیے کافی وقت موجود ہے۔ اگر انڈین ٹیم ان خامیوں پر بروقت قابو پا لیتی ہے تو وہ آسٹریلیا میں ہونے والے اگلے ٹی20 ورلڈ کپ میں ایک مرتبہ پھر مضبوط دعوے دار بن سکتی ہے۔

شیئر: