افغانستان کے ثقافتی دارالحکومت ہرات کے ویران بازار، ’عورت نہیں تو کوئی بازار بھی نہیں‘
افغانستان کے ثقافتی دارالحکومت ہرات کے ویران بازار، ’عورت نہیں تو کوئی بازار بھی نہیں‘
اتوار 12 جولائی 2026 7:29
درزی رامین غفوری نے معاشی سچائی کو ان الفاظ میں سمیٹا ’بازار کا سارا چکر خواتین کے دم سے ہی چلتا ہے۔‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں طالبان حکمرانوں کی امر بالمعروف و نہی عن المنکر وزارت کی جانب سے خواتین کے لباس (ڈریس کوڈ) پر حالیہ سختی کے بعد کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
دکانداروں، رکشہ ڈرائیوروں اور مقامی شہریوں کے مطابق خواتین نے گرفتاری اور پوچھ گچھ کے خوف سے گھروں سے نکلنا انتہائی کم کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جون کے اوائل میں طالبان حکومت کی پولیس نے درجنوں خواتین کو مبینہ طور پر چادر یا برقع نہ پہننے اور سرکاری لباس کے قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات میں حراست میں لیا تھا۔
ان پابندیوں کے خلاف ہرات میں ہونے والے ایک نایاب احتجاج کو مبینہ طور پر طاقت کے ذریعے منتشر کیا گیا جس میں اقوامِ متحدہ کے مطابق کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے۔
ہرات میں کپڑوں کی سلائی کا کاروبار کرنے والے 26 سالہ رامین غفوری نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’جب سے یہ واقعات پیش آئے ہیں، بازاروں سے خواتین غائب ہو گئی ہیں۔‘ عام طور پر ہرات کے ہلچل سے بھرے بازاروں میں خریداروں کی اکثریت خواتین پر مشتمل ہوتی ہے۔
جوتے کی دکان چلانے والے نذیر احمد عظیمی کہتے ہیں ’ہماری 90 فیصد فروخت خواتین کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ مردوں کے لیے بھی خواتین ہی خریداری کرتی ہیں کیونکہ مرد کام کاج میں مصروف رہتے ہیں۔‘
ان کا اندازہ ہے کہ حالیہ سختیوں کی وجہ سے شہر کے بازاروں کا کاروبار آدھا رہ گیا ہے۔
سال 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے طالبان حکام نے خواتین کی عوامی زندگی پر متعدد پابندیاں عائد کی ہیں جن میں اعلیٰ تعلیم، مخصوص شعبوں میں ملازمتوں اور پارکوں میں جانے پر پابندی شامل ہے۔
خواتین کو معیشت سے بے دخل کرنے کی پالیسیوں سے افغان معیشت کو سالانہ ایک ارب ڈالر کا نقصان پہنچ سکتا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ہرات کی ایک 28 سالہ رہائشی نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ’میں اب اپنے ہی شہر میں خود کو اجنبی محسوس کرتی ہوں۔ پولیس کے خوف نے ہمیں گھروں میں محصور کر دیا ہے۔‘
ہرات کو کسی زمانے میں افغانستان کا ثقافتی دارالحکومت کہا جاتا تھا اور یہاں یونیورسٹیوں میں طالبان کے آنے سے قبل طالبات کی تعداد لڑکوں سے زیادہ تھی، اب مکمل طور پر بدل چکا ہے۔
اقوامِ متحدہ کا تخمینہ ہے کہ خواتین کو معیشت سے بے دخل کرنے کی پالیسیوں سے افغان معیشت کو سالانہ ایک ارب ڈالر کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ہرات کی خواتین کا کہنا ہے کہ وہ اب صرف انتہائی ضرورت کے تحت ہی باہر نکلتی ہیں۔ ایک 21 سالہ رکشہ ڈرائیور فرشید کریمی نے بتایا کہ پہلے وہ روزانہ 9 ڈالر کما لیتے تھے لیکن اب بمشکل 4 ڈالر ہی بن پاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’جب خواتین باہر ہی نہیں نکلیں گی تو ہمارے لیے روزگار کہاں سے آئے گا؟"
ہرات کے بازاروں میں ویرانی کی صورتحال پر درزی رامین غفوری نے معاشی سچائی کو ان الفاظ میں سمیٹا ’بازار کا سارا چکر خواتین کے دم سے ہی چلتا ہے۔ اگر مارکیٹ میں عورت نہیں ہو گی تو کوئی بازار بھی نہیں رہے گا۔‘