کمال کی کاشتکاری: خاتون کی محنت سے خالی زمینوں کی گود پھل پھولوں سے بھر گئی
اتوار 12 جولائی 2026 8:09
الباحہ میں سعودی کاشتکار خاتون فوزیہ الغامدی اپنی محنت اور زرعی تجربے سے خالی پڑی زمین کو لہلاتے کھیتوں میں تبدیل کررہی ہیں۔
سعودی ٹی وی چینل ون کے پروگرام ’ہمارے علاقے کے مہمان‘ میں سعودی خاتون کی کہانی کے ان گوشوں کو اجاگر کیا گیا جن راستوں پر چلتے ہوئے وہ کامیابی کی اس منزل تک پہنچی ہیں۔
فوزیہ الغامدی نے بتایا ’کاشتکاری کے سفر کا آغاز ’عربہ‘ نامی چھوٹے سے قصبے سے کیا اور اب الباحہ کی سرسبز وادیوں میں زرعی تجربے سے خالی پڑی زمین کو آباد کررہی ہیں۔‘
فوزیہ الغامدی نے بتایا ’کھیتی باڑی سے لگاو بچپن سے تھا، اس وقت پودے اگا کر ایسی خوشی محسوس ہوتی جسے بیان کرنا مشکل ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’بچپن میں جب بھی کوئی خالی ڈبا ملتا فورا اس میں مٹی بھر کر کچھ نہ کچھ اگاتی اور مسلسل اس پودے کی دیکھ بھال کرتی، بعض اوقات خالی ڈبے مل جاتے تھے مگر مخصوص مٹی نہیں ملتی تھی۔ گلی سے مٹی جمع کرکے اسے ڈبوں بھی بھرتی اور پودے اگاتی تھی۔‘
’جب بھی کسی ڈبے میں کچھ اگاتی تو سب سے زیادہ خوشی میری دادی کو ہوتی، وہ ہمیشہ میرے اس کام کی تعریف کرتیں جس سے میرا حوصلہ بڑھتا گیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ زراعت اور فطرت سے محبت قدرتی تھی، کیونکہ ہم لوگ اس علاقے میں رہتے تھے جو دیہات سے کافی دور تھا۔
ایک سوال پر فوزیہ الغامدی نے بتایا کہ ’مجھے پھلوں کی کاشتکاری کا بہت شوق ہے، میرے فارم میں سب سے زیادہ پھلوں کے درخت اور بیلیں ہیں، میری کوشش ہوتی ہے کہ وہ پھل اگاوں جو بچپن میں ہم کھایا کرتے تھے، اس سے زیادہ میری کوشش ہوتی ہے کہ پھلوں کے ان ذائقوں اور حجم کو بحال کروں جن سے ہم بچپن میں آشنا تھے۔‘

مصنوعی کھادوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ’ہمارے وقتوں میں مصنوعی کھاد وغیرہ کا تصور نہیں تھا، ہر چیز قدرتی ہوا کرتی تھی، اسی لیے پھلوں کا ذائقہ اورسائز بھی منفرد ہوا کرتا تھا۔‘
اپنے فارم میں موجود درختوں کے بارے میں سوال پر انہوں نے بتایا کہ اس وقت ان کے فارم میں 300 سے زائد پھلوں کے درخت اور بیلیں ہیں جن میں انگور ، خوبانی ، آڑو، بادام ان کے علاوہ کیوی، توت اور دیگر انواع و اقسام کے پھل دار درخت موجود ہیں۔
کاشتکاری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ہر پھل کا ایک سیزن ہوتا ہے۔ کامیاب کاشتکار وہی ہے جو اس وقت اور موسم کے مطابقت سے اپنی فصل کو پروان چڑھائے۔
دسمبر، جنوری اور فروری کے مہینے کاشتکاری کے حوالے سے انتہائی مفید ہوتے ہیں، ان دنوں میں زمین کو ہموار کرنا، اس کی آبیاری کرنا اور کھاد دینے کے بعد بیج کو بونا اور پودہ پھوٹنے کے ساتھ ہی اس کی دیکھ بھال کا آغاز ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا ’ابھی اپنی زرعی اجناس کو ایکسپورٹ نہیں کر رہی البتہ کویت، بحرین اور مشرقی ریجن میں اپنے دوستوں اور جاننے والوں کو تحفے کے طور پر ارسال کرتی ہوں، خاص طور پر وہ پھل جن کا لائف سرکل زیادہ ہوتا تاکہ وہ بحفاظت پہنچ جائیں۔