حدود شمالیہ میں فالکنری کی راویت کو پر لگ گئے، بازوں کی پروازوں کا فضائی رُوٹ، شکاریوں کا مسکن
حدود شمالیہ میں فالکنری کی راویت کو پر لگ گئے، بازوں کی پروازوں کا فضائی رُوٹ، شکاریوں کا مسکن
اتوار 12 جولائی 2026 8:17
حدودِ شمالیہ کے علاقے میں فالکنری کا ورثہ اُس گہری ثقافتی روایت کا آئینہ دار ہے جو کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ علاقے کا وسیع و عریض صحرا، اِس قدیم روایت کا امین اور محافظ ہے جبکہ یہ مقام فالکنز کی نقل مکانی کے سب سے اہم راستوں میں سے ایک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری مملکت اور خلیجی ریاستوں سے فالکن کے شکاری اس علاقے کو اپنی منزل بناتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کبھی فالکنری لوگوں کو وراثت میں ملا کرتی تھی لیکن اب رویوں اور روایات میں تبدیلی کی وجہ سے اِس کی ہیئت بدل گئی ہے۔ اب فالکنری ایک منظم شعبے کی شکل میں تبدیل ہوچکی ہے جس میں ورثے کا تحفظ، ماحولیات کی پائیداری اور فالکنری کے خصوصی مقابلے ہوتے ہیں جو سعودی وژن 2030 کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اس وژن کے مقاصد میں سے ایک مقصد فالکنری کی قدیم روایت کو محفوظ کرنا اور اِسے قومی میراث کے طور پر فروغ دینا بھی ہے۔
وژن 2030 کے مقاصد میں سے ایک مقصد فالکنری کی قدیم روایت کو محفوظ کرنا بھی ہے
فالکنری کے ٹورنامنٹس میں سعودی فالکنز کلب کا کردار مرکزی نوعیت کا ہوتا ہے جس میں فالکنرز کی تربیت اور عالمی سطح پر اِس شعبے میں ممکت کی حیثیت کو مضبوط بنانے میں فالکنرز کلب انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
حدودِ شمالیہ کے ریجن، بالخصوص الطریف گورنریٹ میں ہر سال فالکن کے میلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں سینکڑوں کی تعداد میں فالکنرز شرکت کرتے ہیں جبکہ ہزراوں شائقین اِن میلوں کو دیکھنے کے آتے ہیں۔
وسیع پیمانے پر منعقد کردہ ان فیسٹیولز میں ایک ہزار سے زیادہ فالکن مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ فیسٹیول میں اِن مقابلوں کے علاوہ، دیگر کئی طرح کے ثقافتی پروگرام بھی ترتیب دیے جاتے ہیں تاکہ مملکت کا ثقافتی ورثہ نوجوان نسل تک منتقل ہوتا رہے۔