Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اگر ایران نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ’قتل‘ کیا تو امریکہ کیا جواب دے سکتا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران اُنہیں دی جانے والی قتل کی دھمکیوں پر عمل کرتا ہے تو ایسی صورت میں اُس کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے امریکہ کی فوج کو پہلے سے ہدایات دے رکھی ہیں کہ میں ایران کے خلاف ایسی تباہ کن کارروائی کی جائے ’جو اُس نے پہلے کبھی نہ دیکھی ہو۔‘
تاہم امریکی حکومت کے پاس ایسا کوئی خودکار نظام موجود نہیں ہے جسے ’ڈیڈ مینز سوئچ‘ کہا جاتا ہے، جو صدر کے قتل کی صورت میں فوری طور پر ازخود فوجی کارروائی شروع کر دے۔
اس کے بجائے اگر صدر ٹرمپ قتل ہو گئے تو اقتدار کی منتقلی امریکی آئین کی 25 ویں ترمیم اور 1947 کے صدارتی جانشینی کے قانون کے تحت ہوگی۔ 
ایسی صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس فوری طور پر امریکہ کے صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بن جائیں گے اور کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی کا اختیار اُن ہی کے پاس ہوگا۔
ایسی صورت حال میں جے ڈی وینس، صدر ٹرمپ کی خواہش کے مطابق ایران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں، تاہم وہ یہ فیصلہ بھی کر سکتے ہیں کہ سابق صدر کی ہدایات پر عمل نہ کریں یا مختلف نوعیت کا جواب اختیار کریں۔
امریکی صحافی اور مصنف گیرل ایم گراف کے مطابق ’امریکہ نے مختلف وجوہات کی بنا پر کبھی بھی ایسا تکنیکی ’ڈیڈ مینز سوئچ‘ نظام اختیار نہیں کیا جو صدر کے مرنے کی صورت میں خودکار فوجی کارروائی شروع کر دے۔‘
 

شیئر: