امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ’امریکی فوج نے بدھ کی رات ایران پر نئے حملے شروع کیے ہیں جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو ٹریفک کے لیے کھلا رکھنا ہے۔‘
عرب نیوز کے مطابق اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا عبوری معاہدہ ’ختم‘ ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں
امریکہ نے منگل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد حملوں کی نئی لہر کا آغاز کیا، جس نے ایران کے جنوبی ساحل کے کئی شہروں کو ہلا کر رکھ دیا، کچھ علاقے بجلی سے محروم ہوگئے۔
سینٹ کام نے ایکس اکاونٹ پر پوسٹ میں لکھا ’ امریکی سینٹرل کمانڈ کی فورسز نے ایران کے خلاف مزید حملے شروع کیے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز میں انٹرنیشنل نیویگیشن کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔‘
’امریکہ کمرشل شپنگ اور ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے آزادانہ گزرنے والے سویلین عملے کے خلاف حالیہ بلاجواز کارروائیوں پر ایران کو جوابدہ ٹھہرا رہا ہے۔‘
آبنائے ہرمز پر کنٹرول نے، جہاں سے بین الاقوامی انرجی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، تہران کو بہت زیادہ فائدہ دیا ہے۔ اسے موثر طریقے سے دنیا کی سب سے طاقتور فوج کے ساتھ ڈیڈ لاک کے قابل بنایا ہے۔

اگرچہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ایران ایسی کارروائیوں کا استعمال امریکہ کے ساتھ ایک طویل مدتی معاہدے پر بات چیت کے دوران فائدہ اٹھانے کے لیے کرتا ہے۔
تازہ ترین کشیدگی نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں 17جون کو دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی امیدوں کو سبوتاژ کیا ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ اس نے بدھ کو بحرین اور کویت میں امریکہ کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

انقرہ میں بدھ کو نیٹو کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ جنگ بندی ختم ہو گئی ہے؟ کیا مفاہمتی یادداشت اب ختم ہو چکی ہے؟
اس پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ ختم ہو چکا ہے، میں ان کے ساتھ بات چیت نہیں کرنا چاہتا، ان کے ساتھ بات چیت محض وقت کا ضیاع ہے۔‘
’اگر ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کریں تو مجھے یقین نہیں کہ یہ قائم بھی رہے گا۔‘

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے جنوبی ساحل کے کئی علاقوں جس میں بندر عباس، چا بہار اور کونارک شہر شامل ہیں، دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، چا بہار کے کچھ حصوں میں بجلی منقطع ہوگئی۔
علاوہ ازیں نور نیوز جو ایران کی اعلی سکیورٹی ایجنسی سے منسلک ہے، نے ایک ایرانی فوجی ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے دعوی کیا کہ ایران جلد ہی خطےمیں امریکی فوجی اڈوں پر ایک ’بڑا حملہ‘ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔











