نورستان کی خواتین کسان، برف پوش پہاڑوں کے درمیان زندگی کا سہارا
نورستان کی خواتین کسان، برف پوش پہاڑوں کے درمیان زندگی کا سہارا
بدھ 1 جولائی 2026 10:45
خواتین کے مطابق کھیتی باڑی سخت کام ہے لیکن بچوں کے لیے کرنا پڑتا ہے: فوٹو اے ایف پی
افغانستان کے شمال مشرقی صوبے نورستان کے ایک دور افتادہ گاؤں میں خواتین کسان نہ صرف اپنے خاندانوں بلکہ پوری برادری کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اشتیوی گاؤں میں بچپن سے کھیتی باڑی کرنے والی 46 سالہ حبیبہ کے مطابق گندم، لوبیا، آلو اور مکئی کی فصل کاٹ کر گھر لانے کی خوشی ہی ان کی محنت کا صلہ ہے۔
افغانستان میں طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد زیادہ تر شعبوں میں خواتین پر پابندیاں ہیں تاہم خواتین کو کھیتی باڑی کی اب بھی اجازت ہے۔
مقامی کسان اور زراعت میں گریجویٹ محمد یحییٰ فیضی کے مطابق وہ خواتین کے کام کی عزت کرتے ہیں کیونکہ اگر وہ کھیتوں میں کام نہ کریں تو سردیوں میں گاؤں کے لیے خوراک کا حصول مشکل ہو جائے۔
نورستان کے اس پہاڑی علاقے میں خواتین کئی نسلوں سے بیج بونے، آبپاشی، فصل کی دیکھ بھال اور گھریلو کام انجام دیتی ہیں، جبکہ مرد ہل چلاتے، مویشی سنبھالتے اور سخت سردیوں کے لیے ایندھن جمع کرتے ہیں کیونکہ برف باری کے باعث یہ گاؤں تقریباً چھ ماہ تک بیرونی دنیا سے کٹ جاتا ہے۔
خواتین کسانوں کے مطابق انھیں بچوں کے لیے مشکل حالات میں کام کرنا پڑتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
حبیبہ صبح چار بجے اٹھ کر نماز ادا کرتی ہیں، پھر اپنی بیٹیوں کے ساتھ لکڑی کے چولہے پر ناشتہ تیار کرتی ہیں۔ ان کی 11 سالہ بیٹی ناہیدہ سکول جاتی ہے لیکن افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم 12 سال کی عمر کے بعد بند ہونے کی وجہ سے وہ بھی جلد تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جائے گی۔
لوبیا اور آلو کاشت کرنے والی 70 سالہ بی بی جان کہتی ہیں کہ ’کھیتی باڑی سخت مشقت کا کام ہے کیونکہ ہمارے ہاتھ زخمی ہو جاتے ہیں، لیکن بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے یہ سب کرنا پڑتا ہے۔‘
پاکستان سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی 28 سالہ ناجیہ کے مطابق کاشت کاری ایک شاندار پیشہ ہے اور صرف مردوں کے لیے نہیں۔
ناجیہ کے کا کہنا ہے کہ مقامی کسانوں کو جدید زرعی آلات اور اپنی پیداوار فروخت کرنے کے بہتر مواقعوں کی کمی کا سامنا ہے۔
ان کے مطابق اکثر فصل ضرورت سے زیادہ پیدا ہوتی ہے، لیکن دور افتادہ علاقے میں منڈی کا باقاعدہ نظام نہ ہونے کی وجہ سے کسان مناسب قیمت حاصل نہیں کر پاتے۔
انھوں نے کہا کہ ’سات کلو آلو کی قمیت 70 افغانی ملتی ہے لیکن بہتر آمدن کے لیے کم از کم 150 افغانی کی ضرورت ہوتی ہے۔‘
نورستان کے پہاڑی علاقے میں خواتین کئی نسلوں سے بیج بونے، آبپاشی، فصل کی دیکھ بھال اور گھریلو کام انجام دیتی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
اقوام متحدہ نے گاؤں میں فصل محفوظ رکھنے کے لیے ذخیرہ گاہیں تعمیر کرائی ہیں اور بہتر معیار کے بیج بھی فراہم کیے ہیں۔
اس کے علاوہ درختوں اور فصلوں کو ایک ساتھ اگانے کے منصوبوں کے ذریعے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تاہم موسمیاتی تبدیلی بھی مقامی کسانوں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ بے وقت بارش، غیر متوقع برف باری اور اچانک آنے والے سیلاب فصلوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
مشکلات کے باوجود ناجیہ کا کہنا ہے کہ ’خواتین مل کر کام کرنا پسند کرتی ہیں۔‘
انہوں نے کہا، ’ہم ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں اور اپنے ہاتھوں سے اگائی گئی خوراک سب سے زیادہ صحت بخش ہوتی ہے۔‘
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت نے 2026 کو بین الاقوامی سال برائے خاتون کسان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کسان خوراک کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، لیکن ان کی خدمات کو اکثر مناسب اہمیت نہیں دی جاتی۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً ایک تہائی آبادی ہنگامی غذائی امداد کی محتاج ہے۔