سعودی عرب اور او آئی سی کی جانب سے جنگ بندی کا خیر مقدم، پاکستانی کوششوں کی سپورٹ
امید ہے جنگ بندی ایک جامع اور پائیدار امن کا موقع بنے گی (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزارتِ خارجہ مملکت کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی کوششوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔
بیان میں نے وزیراعظم پاکستان اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اس معاہدے تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی موثر کوششوں کو بھی سراہا گیا۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’سعودی عرب، پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، جن کا مقصد ایک مستقل معاہدے تک پہنچنا ہے، جو خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنائے اور ان تمام مسائل کو حل کرے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے عدم استحکام کا باعث بنے ہیں۔‘
بیان میں زور دیا گیا کہ’ آبنائے ہرمز کو اقوام متحدہ کے کنونشن 1982 کے مطابق کسی پابندی کے بغیر نیویگیشن کے لیے کھلا رکھا جائے۔‘
مملکت کی جانب سے اس امید کا اظہار کیا گیا کہ’ یہ جنگ بندی ایک جامع اور پائیدار امن کا موقع بنے گی، جس سے علاقائی سلامتی کو فروغ ملے گا اور ایسی تمام کارروائیاں اور پالیسیاں ختم ہوں گی جو خطے کے ممالک کی خودمختاری ، سلامتی اور استحکام کو متاثر کرتی ہیں۔‘
علاوہ ازیں اسلامی تعاون تنظیم ’اوآئی سی‘ نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ’ یہ ایک اہم موقع ہے، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سنجیدہ مذاکراتی عمل کی طرف بڑھا جاسکتا ہے۔‘
تاکہ بحران کی بنیادی وجوہ کا حل تلاش کیا جائے اور جنگ بندی مستقل و جامع انداز میں ممکن ہو، جو بین الاقوامی قانون کی پاسداری، ریاستوں کی خودمختاری اور حسن ہمسائیگی کے اصولوں پر مبنی ہو۔
آو آئی سی نے پاکستان سمیت رکن ممالک کی جانب سے کی جانے والی قابل قدر کوششوں کو بھی سراہا اور کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کے موثر کردار کی تعریف کی۔
