’انویسٹ پاک‘، سٹیٹ بینک کا نیا پورٹل اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری کا کیسا متبادل؟
ہفتہ 11 جولائی 2026 5:34
رائے شاہنواز - اردو نیوز، لاہور
سٹیٹ بینک کے مطابق اس پورے عمل میں ٹیکسیشن اور منافع کی واپسی کا ایک شفاف نظام وضع کیا گیا ہے (فائل فوٹو: ایس بی پی)
پاکستان میں سرمایہ کاری کے روایتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کو براہِ راست ملکی معیشت کا حصہ بنانے کے لیے حال ہی میں حکومت نے کچھ نئے اقدامات کیے ہیں۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے 6 جولائی کو باقاعدہ طور پر ایک نیا ڈیجیٹل پورٹل متعارف کرایا ہے جسے’انویسٹ پاک‘ کا نام دیا گیا ہے۔
مرکزی بینک کی جانب سے اس سکیم کے نفاذ کا باقاعدہ سرکلر بھی جاری کر دیا گیا ہے جس میں اس نئے پلیٹ فارم کو حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کا ایک آسان اور مربوط ڈیجیٹل ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سکیم خصوصاً خلیجی ممالک اور دنیا کے دیگر خطوں میں رہنے والے لاکھوں ہنر مند اور برسرِ روزگار پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری کا ایک بہترین متبادل بن کر سامنے آئی ہے جس سے نہ صرف اوورسیز پاکستانی بلکہ ملک کے اندر موجود عام چھوٹے سرمایہ کار بھی یکساں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اور انویسٹ پاک میں بنیادی فرق
اس نئے پورٹل کے سامنے آنے کے بعد سمندر پار پاکستانیوں کے ذہنوں میں یہ سوال ابھر رہا ہے کہ یہ پلیٹ فارم پہلے سے موجود ’روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ‘ سے کس طرح مختلف ہے۔
مالیاتی امور کے ماہر ڈاکٹر علی رزاق کہتے ہیں کہ ’روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ بنیادی طور پر ایک مخصوص بینکنگ چینل یا اکاؤنٹ ہے جس کے ذریعے غیر مقیم پاکستانی پاکستان میں رقم بھیجتے ہیں یا مخصوص سرٹیفیکیٹس خریدتے ہیں۔ اس کے برعکس انویسٹ پاک ایک باقاعدہ اور براہِ راست ڈیجیٹل پورٹل ہے جو سرمایہ کاروں کو حکومت کی تمام سیکیورٹیز جیسے ٹریژری بلز اور انویسٹمنٹ بانڈز کی وسیع مارکیٹ تک براہِ راست رسائی دیتا ہے۔ اوورسیز پاکستانی اسے ایک اضافی اور زیادہ لچکدار متبادل کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں، جہاں انہیں اپنی بچتوں پر براہِ راست مارکیٹ کے مطابق زیادہ مسابقتی منافع حاصل کرنے کے مواقع ملیں گے۔‘
طریقہ کار، اہلیت اور کم سے کم سرمایہ کاری کی حد
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس پورٹل کے ذریعے سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو انتہائی سادہ اور عام فہم رکھا ہے۔ دنیا بھر میں مقیم تمام غیر مقیم پاکستانی اور ملک کے اندر موجود مقامی خوردہ سرمایہ کار اس سکیم میں حصہ لینے کے اہل ہیں۔
اس نظام کو چلانے کے لیے سٹیٹ بینک نے ملک کے بڑے تجارتی بینکوں کو شراکت دار کے طور پر اس نیٹ ورک کا حصہ بنایا ہے۔ سرمایہ کار اپنے موجودہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ یا انویسٹ پاک سے منسلک بینک اکاؤنٹس کے ذریعے اس پورٹل پر لاگ ان ہو سکتے ہیں جہاں ان کی بنیادی معلومات کی تصدیق کے بعد سرمایہ کاری کا راستہ کھل جاتا ہے۔
چھوٹے بچت کاروں کی سہولت کے لیے کم سے کم سرمایہ کاری کی حد کو محض 10 ہزار روپے رکھا گیا ہے تاکہ اب ایک عام تنخواہ دار شخص بھی اس کا حصہ بن سکے۔
سرمایہ کاری کی مدت، شرحِ منافع اور اسلامی متبادل
ماہرین کا کہنا ہے مدت کے اعتبار سے یہ پورٹل سرمایہ کاروں کو زبردست لچک فراہم کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص مختصر عرصے کے لیے رقم رکھنا چاہتا ہے تو وہ تین ماہ، چھ ماہ یا بارہ ماہ کے ٹریژری بلز کا انتخاب کر سکتا ہے اور اگر کوئی طویل مدت کا منصوبہ رکھتا ہے تو اس کے لیے تین سال، پانچ سال، دس سال یا اس سے بھی زائد عرصے کے انویسٹمنٹ بانڈز دستیاب ہیں۔
جہاں تک شرحِ منافع کا تعلق ہے تو یہ براہِ راست سٹیٹ بینک کی بنیادی پالیسی ریٹ سے جڑی ہوتی ہے۔
پاکستان میں موجودہ دور کے مالیاتی اشاریوں اور شرحِ سود کے لگ بھگ گیارہ فیصد کے بینچ مارک کو مدِنظر رکھتے ہوئے ان سیکیورٹیز پر ملنے والا منافع انتہائی پرکشش اور مستحکم ہے۔ اس کے علاوہ وہ سرمایہ کار جو سود سے پاک اور حلال منافع کمانا چاہتے ہیں، ان کے لیے انویسٹ پاک پورٹل پر شریعت کے اصولوں کے مطابق تیار کردہ اسلامک سیکیورٹیز اور سکوک بانڈز بھی دستیاب کرائے گئے ہیں جس سے خلیجی ممالک میں رہنے والے ان روایتی پاکستانیوں کا اعتماد بحال ہو گا جو طویل عرصے سے کسی ایسے محفوظ سرکاری پلیٹ فارم کے منتظر تھے۔
تجارتی بینکوں کی سیونگ سکیموں سے موازنہ: لوگ اس کا رخ کیوں کریں؟
ڈاکٹر علی رزاق سے یہ جب یہ سوال کیا گیا کہ جب ملک میں پہلے سے درجنوں تجارتی بینک اپنی بچت سکیمیں چلا رہے ہیں تو لوگ ان کو چھوڑ کر انویسٹ پاک کا رخ کیوں کریں گے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’پہلا اور سب سے بڑا فرق سیکیورٹی اور ضمانت کا ہے۔ جب آپ کسی عام بینک میں پیسہ رکھتے ہیں تو آپ کی رقم اس بینک کی مالیاتی صحت اور نجی کاروباری خطرات سے جڑی ہوتی ہے جبکہ انویسٹ پاک کے ذریعے خریدی جانے والی سیکیورٹیز کی ضامن براہِ راست ریاستِ پاکستان ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہاں نقصان کا خطرہ صفر ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’دوسرا بڑا فرق منافع کی شرح اور کٹوتیوں کا ہے۔ تجارتی بینک عام طور پر بچت کھاتوں پر جو منافع دیتے ہیں، اس میں سے وہ اپنے انتظامی اخراجات، سروس چارجز اور پوشیدہ فیسوں کی مد میں ایک بڑی رقم کاٹ لیتے ہیں، جس کے بعد سرمایہ کار کے ہاتھ میں بہت کم رقم آتی ہے۔ اس کے برعکس انویسٹ پاک کے ذریعے سرمایہ کار کو مارکیٹ کا اصل اور پورا منافع ملتا ہے کیونکہ اس میں کسی نجی بینک کا درمیانی کمیشن یا بھاری سروس چارجز شامل نہیں ہوتے۔‘
ٹیکسیشن، منافع کی واپسی اور شکایات کا ازالہ
ترجمان سٹیٹ بینک کے مطابق سرمایہ کاری کے اس پورے عمل میں ٹیکسیشن اور منافع کی واپسی کا ایک شفاف ترین نظام وضع کیا گیا ہے۔
اس سکیم کے تحت ہونے والے منافع پر لاگو ہونے والے ٹیکسوں کی کٹوتی کو خودکار اور واضح رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام کی گنجائش نہ رہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے رقم اور حاصل ہونے والے منافع کی بیرونِ ملک واپسی یعنی ریپیٹریشن کے عمل کو مکمل طور پر خودکار اور تیز رفتار بنا دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ سرمایہ کار جب چاہیں اپنا منافع یا اصل رقم بغیر کسی تاخیر یا بوجھل قانونی ضابطوں کے اپنے غیر ملکی بینک اکاؤنٹس میں واپس منتقل کر سکتے ہیں۔
اگر کسی سرمایہ کار کو پورٹل کے استعمال یا رقم کی منتقلی میں کوئی تکنیکی مسئلہ درپیش ہو تو سٹیٹ بینک نے ایک مخصوص اور براہِ راست ڈیجیٹل شکایت سیل بھی قائم کیا ہے جہاں آن لائن شکایت درج کروا کر فوری حل حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان تمام پہلوؤں کے ساتھ انویسٹ پاک سکیم پاکستان کے اندر سرمایہ کاری اور بچت کے روایتی کلچر کو بدلنے اور سمندر پار پاکستانیوں کو ایک محفوظ متبادل دینے کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہونے جا رہی ہے۔
