Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ کی نئی بمباری کے بعد ایران کے قطر، بحرین اور امارات پر میزائل اور ڈرون حملے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عبوری جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے بعد ایران نے اتوار کو قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کر کے فوجی مہم کا دائرہ خلیج تک پھیلا دیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے ایرانی اہداف پر کی جانے والی تیسرے دور کی بمباری کے محض چند گھنٹوں بعد سامنے آئی ہے۔
امریکہ نے یہ فضائی حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کیے تھے۔
اتوار کی شب قطر کے دارالحکومت دوحہ کی فضاؤں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جہاں خبر رساں ادارے اے ایف پی کے صحافیوں نے رات کے اندھیرے میں فضا میں میزائلوں کو تباہ ہوتے (انٹرسیپشن) دیکھا۔ اس دوران شہریوں کو موبائل فونز پر ہنگامی الرٹس موصول ہوئے جن میں انہیں گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
دوسری جانب امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر، بحرین میں بھی میزائل حملے کے سائرن گونج اٹھے جبکہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بھی متوقع میزائل اور ڈرون حملوں کے بارے میں عوامی انتباہ جاری کیا۔
اماراتی حکام نے فوری طور پر نشانہ بننے والے مقامات یا کسی جانی نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔
تازہ ترین حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ عبوری جنگ بندی کے ’خاتمے‘ کا اعلان کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن مستقل تصفیے کے لیے مذاکرات کے حق میں ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا گیا کیونکہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قبرص کے جھنڈے والے ایک مال بردار جہاز پر حملہ کیا تھ، جس سے اس کے انجن روم کو شدید نقصان پہنچا اور عملے کا ایک رکن لاپتہ ہو گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا مؤقف ہے کہ کئی جہازوں نے منظور شدہ راستوں کی ہدایات کو نظر انداز کیا جس پر ایک جہاز کو انتباہی فائر کر کے روکا گیا۔ تہران نے آبنائے ہرمز کو اگلے نوٹس تک بند رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر مزید امریکی حملے ہوئے تو وہ خطے میں دیگر امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
تاہم امریکہ نے آبنائے ہرمز پر ایران کے خصوصی کنٹرول کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مذاکرات کے لیے جہاز رانی کی آزادی کی ضمانت اور تجارتی جہازوں پر حملوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

اماراتی حکام نے فوری طور پر نشانہ بننے والے مقامات یا کسی جانی نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں (فوٹو: اماراتی وزارت دفاع، ایکس)

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی مستقبل کے جوہری معاہدے کے لیے ایران کو اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
توار کے یہ حملے اس سے قبل بحرین، کویت اور اردن پر کیے جانے والے ایرانی حملوں کا تسلسل ہیں، جہاں کویت نے 4 میزائل اور 10 ڈرونز جبکہ اردن نے 8 میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان حملوں پر خلیجی اور عرب ممالک کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
سعودی عرب نے پڑوسی ممالک کی خودمختاری کی ایرانی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ متحدہ عرب امارات، قطر اور مصر نے بھی تحمل کی اپیل کی ہے۔
قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے الگ الگ رابطے کر کے سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا۔
ادھر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بحرین کے سفیر جمال الروائعی نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ سفارت کاری کو صرف وقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے جبکہ زمین پر اس کی جارحیت، بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کی شکل میں جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے جون میں دستخط کیے گئے اسلام آباد میمورنڈم اور سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کی ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی یہ فوجی کارروائیاں قطر، عمان اور پاکستان جیسے ثالثوں کی ان کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں جو جنگ بندی کی بحالی اور خطے میں استحکام کے لیے کوشاں ہیں۔

 

شیئر: