چار بڑی طاقتیں اور سیمی فائنل کی جنگ شروع: کون معرکہ مارے گا؟
چار بڑی طاقتیں اور سیمی فائنل کی جنگ شروع: کون معرکہ مارے گا؟
اتوار 12 جولائی 2026 14:30
عامر خاکوانی -صحافی، لاہور
فٹ بال شائقین کو دونوں سیمی فائنل میں فٹبال کے دو مختلف رنگ دیکھنے کو ملیں گے: فوٹو اے ایف پی
عالمی کپ اب اُس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ہر غلطی کی قیمت گھر واپسی ہے، اور یہی دباؤ کھلاڑیوں سے وہ کچھ کرا دیتا ہے جو عام دنوں میں دکھائی نہیں دیتا۔
آٹھ ٹیمیں کوارٹر فائنل مقابلوں کے لیے میدان میں اتری تھیں، اب صرف چار باقی ہیں۔
فرانس نے مراکش کو ہرایا جبکہ سپین نے بلجیئم کو باہر کر دیا۔ دوسری طرف انگلینڈ نے ناروے کو ہرایا اور ارجنٹائن نے سوئٹزرلینڈ کو شکست دی۔
پہلے دو کوارٹر فائنل نسبتاً یک طرفہ رہے۔ فرانس نے مراکش کو دو صفر سے ہرایا۔ حیرت کی بات یہ کہ گیند زیادہ وقت مراکش کے پاس رہی، مگر گول فرانس نے کیے۔
48 فیصد قبضے کے باوجود فرانس نے 22 شاٹ لگائے اور دونوں گول دوسرے ہاف میں چند منٹ کے وقفے سے داغے۔
یہ ایک جملے میں فرانسیسی فلسفے کی تصویر ہے۔ گیند بھلے کم رکھو، مگر موقع ملے تو بے رحمی سے استعمال کرو۔ ویسے مراکشی ٹیم نے اس میچ میں خاصا مایوس کیا۔
انہوں نے فرانس سے میچ کا پریشر زیادہ لے لیا یا ان کی حکمت عملی کام نہ کر سکی، بہرحال مراکشی کھلاڑیوں نے اپنے مداحوں کو صدمہ پہنچایا۔مراکش اپنی صلاحیت کے مطابق کھیل نہ سکا۔
دوسری طرف سپین نے بلجیئم کو دو ایک سے زیر کیا۔ یہ میچ سکور لائن سے زیادہ یکطرفہ تھا۔ سپین نے 68 فیصد وقت گیند اپنے پاس رکھی اور بلجیئم کو، جس کی صفوں میں ڈی بروئنے اور ڈوکو جیسے نام تھے، صرف پانچ شاٹ تک محدود رکھا۔ فیصلہ کن گول 28ویں منٹ کے قریب آیا۔
ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات دو بجے تیسرا اور پھر اتوار کو علی الصبح چھ بجے آخری کوارٹر فائنل ہوا۔ انگلینڈ نے ناروے کو ہرا دیا جبکہ ارجنٹائن نے سوئٹزرلینڈ کو ہرا دیا، اگرچہ یہ میچ بھی کسی حد تک متنازع رہا اور فٹ بال تاریخ میں دکھائے گئے ایک ریڈ کارڈ کی وجہ سے یاد رکھا جائے۔ رات جاگنے والوں نے فٹبال کے یہ دو ایسے میچ دیکھے جو دیر تک یاد رہیں گے۔ خاکسار بھی اُن میں شامل تھا۔
انگلینڈ بمقابلہ ناروے، ارلنگ ہالینڈآف کلر رہا
بدقسمتی کہ ناروے کا سب سے خطرناک کھلاڑی ارلنگ ہالینڈ بری طرح آف کلر رہا: فوٹو اے ایف پی
پہلے انگلینڈ اور ناروے کے میچ کو لیتے ہیں۔ یہ رات کا سب سے سخت جان مقابلہ تھا۔ ناروے وہی ٹیم ہے جو اِس سے پہلے برازیل کو باہر کر چکی تھی، ارلنگ ہالینڈ اور اوڈیگارڈ جیسے کھلاڑیوں کے ساتھ، اِس لیے اِسے ہلکا لینا ممکن ہی نہ تھا۔
ناروے نے 36ویں منٹ میں برتری لے لی ۔ایک لمحے کو لگا کہ ایک اور بڑی ٹیم رخصت ہونے والی ہے۔ انگلینڈ نے عین پہلے ہاف کے آخری لمحے، 45ویں منٹ پر برابری کی، یہ گول انگلش اٹیکنگ مڈ فیلڈر جوڈ بیلنگم نے کیا مگر یہ حقیقت ہے کہ انگلینڈ پورے مقررہ وقت میں ناروے کے مضبوط دفاع کو دوبارہ نہ توڑ سکا۔
تیس منٹ کا اضافی وقت دیا گیا اور فیصلہ ترانوے ویں منٹ پر ہوا، جب انگلینڈ نے وہ گول کر لیا جو اُسے سیمی فائنل تک لے گیا۔
اس بار بھی سکورر جوڈ بیلنگم ہی تھے۔ رات کے میچ کے وہ ہیرو تھے۔ اسی بیلنگم نے پچھلے میچ میں میکسیکو کے خلاف بھی دو گول کیے تھے۔ وہ ایک لمبے عرصے کےبعد ایسے کھلاڑی بنے جس نے دو ناک آوٹ میچز میں مسلسل دو دو گول کیے ہوں، آخری بار یہ کام میرا ڈونا نے کیا تھا، لگ بھگ اٹھائیس تیس سال قبل۔
ناروے کی ٹیم اچھا کھیلی، سخت فائٹ کی، انگلینڈ پر بہت تیز حملے بھی کیے، میچ پنالٹی ککس پر جا سکتا تھا۔ ناروے کی بدقسمتی کہ ان کا سب سے خطرناک کھلاڑی ارلنگ ہالینڈ بری طرح آف کلر رہا۔ اس میچ میں ہالاند وہ کھلاڑی لگ ہی نہیں رہا تھا جس نے ورلڈ کپ میں نام کمایا۔
انگلش دفاع نے تو اسے نیوٹرلائز کیا ہی، مگر اس میں انرجی کی بھی کمی لگی۔ آخری اضافی وقت میں 15 منٹ پہلے ارلنگ ہالینڈ کو باہر بلا لیا گیا۔ ایسے اہم میچ میں اگر ارلنگ ہالینڈ پرفارم کر جاتا تو ناروے میچ جیت سکتا تھا۔
دو ایک کی یہ جیت بتاتی ہے کہ انگلینڈ میں سخت میچ نکالنے کا حوصلہ تو ہے، مگر کسی مضبوط سالڈ ڈیفنس کو توڑنے میں وہ وقت لگاتا ہے، اور یہی بات آگے اُس کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
ارجنٹائن بمقابلہ سوئٹزرلینڈ، ریڈ کارڈ تنازع
کپتان گرانیت ژاکا کا کہنا تھا کہ یہی سرخ کارڈ میچ کا اصل موڑ تھا: فوٹو اے ایف پی
وہ میچ جس پر آج صبح سے عالمی سوشل میڈیا پر شور مچا ہوا ہے وہ ارجنٹائن اور سوئس ٹیم کا کوارٹرفائنل تھا۔ ارجنٹائن نے دسویں منٹ میں برتری لی مگر سوئٹزرلینڈ نے ہمت نہ ہاری اور سرسٹھویں منٹ میں ڈان اینڈوئے کے گول سے برابری کر لی۔ اُس وقت میدان کا پلڑا سوئس ٹیم کی طرف جھک رہا تھا۔ عین اِسی موڑ پر وہ فیصلہ ہوا جس پر رات بھر بحث ہوتی رہی۔
ارجنٹائن کے لیانڈرو پاریدس کو بظاہر ایک رف ٹیکل پر پیلا کارڈ دکھایا گیا، مگر وی اے آر جائزے میں سامنے آیا کہ رابطے سے پہلے ہی سوئس کھلاڑی بریل ایمبولو گر رہا تھا۔ یعنی فاؤل نہیں، فاؤل کا ڈراما تھا۔
اِس عالمی کپ میں رائج ایک نئے ضابطے کے تحت ریفری نے پاریدس کا کارڈ واپس لے کر وہی پیلا کارڈ ایمبولو کو دکھا دیا، اور چونکہ ایمبولو پہلے ہی ایک کارڈ کھا چکا تھا، دوسرا پیلا ریڈ کارڈ میں بدل گیا، یعنی اسے گراؤنڈ سے باہر جانا پڑا۔ سوئٹزرلینڈ باقی میچ 10 کھلاڑیوں سے کھیلا۔ ایمبولو آنکھوں میں آنسو لیے میدان سے باہر گیا۔
10 کھلاڑیوں کے ساتھ بھی سوئس ٹیم نے اضافی وقت تک مزاحمت کی اور دفاعی کھیل کے ذریعے پنالٹی ککس تک پہنچنے کی کوشش کرتی رہی، مگر تھکن اور ایک کھلاڑی کی کمی نے بالآخر رنگ دکھایا۔ ایک سو بارہویں منٹ پر خولیان الویرز نے دور سے شاندار گول کیا اور آخری لمحوں میں لاؤتارو مارتینیز نے تیسرا داغ کر میچ تین ایک پر ختم کر دیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سوئس ٹیم نے رینکنگ میں اپنے سے بہتر ارجنٹائن کی ٹیم کو بہت ٹف ٹائم دیا اور اگر ریڈ کارڈ کے ذریعے اس کا ایک کھلاڑی کم نہ ہوگیا ہوتا تو شائد نتیجہ پنالٹی ککس پر جاتا اور وہاں پر سوئٹزرلینڈ جیت سکتی تھی ۔ سوئس کوچ مراد یاکین ریڈ کارڈ کے فیصلے پر سخت برہم تھے اور اُنہوں نے کہا کہ اِس ضابطے نے اُن کا کھیل تباہ کر دیا۔
کپتان گرانیت ژاکا کا کہنا تھا کہ یہی سرخ کارڈ میچ کا اصل موڑ تھا۔ دلچسپ بات یہ کہ ارجنٹائن کے کوچ سکالونی نے بھی مان لیا کہ حریف کے ایک کھلاڑی کے اخراج سے قسمت اُن کے حق میں رہی۔
یہاں ایک اور پہلو ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ پہلی بار نہیں کہ ارجنٹائن کے میچ میں ریفری کا فیصلہ زیرِ بحث آیا ہو۔ اِس سے پہلے راونڈ آف 16 میں میں مصر بھی ارجنٹائن کے ہاتھوں تین دو سے ہارنے کے بعد ریفرینگ پر کھلی تنقید کر چکا ہے۔ اس سے پہلے کوبے وردے اور الجزائر کی ٹیموں نے بھی ارجنٹائن کےخلاف میچز کے بعد ریفری کے فیصلوں پرشکایت کی۔
خاکسار یہ نہیں کہتا کہ کوئی سازش ہے، فٹبال میں ایسے دعوے آسان اور ثبوت مشکل ہوتے ہیں۔ اتنا مگر ضرور ہے کہ دفاعی عالمی چیمپئن ارجنٹائن کے حق میں فیصلوں کا ایک تاثر بنتا جا رہا ہے، اور یہ تاثر ٹورنامنٹ کے لیے صحت مند نہیں۔
لوگ برملا کہہ رہے کہ اس ورلڈ کپ میں فیفا کی فیورٹ ٹیم ایک ہی ہے اور اسے ہی ہر میچ میں ریفری کے فیصلوں کا ایڈؤانٹیج مل رہا ہے۔ ورلڈ کپ میں ٹیکنالوجی اِس لیے آئی تھی کہ تنازع کم ہوں، مگر لگتا ہے اُس نے بحث کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔
سیمی فائنل مقابلے
بہرحال، اب نقشہ صاف ہے۔ فرانس، سپین، انگلینڈ اور ارجنٹائن ۔ چار بڑی طاقتیں، دو سیمی فائنل۔ آئیے اب اِن مقابلوں کی تکنیکی جھلک دیکھتے ہیں۔
فرانس بمقابلہ سپین
اصل کشمکش ایک سوال پر ہوگی کہ فرانس ایمباپے تک وہ ایک گیند پہنچا پاتا ہے یا نہیں جو میچ پلٹ دے: فوٹو اے ایف پی
پہلا سیمی فائنل فرانس اور سپین کے درمیان ہے، اور یہ محض دو ٹیموں کا نہیں، دو نظریوں، دو گیم تھیوریز کا ٹکراؤ ہے۔
سپین کا نظریہ گیند پر اپنا قبضہ یعنی کنٹرول برقرار رکھنا ہے، وہی ’ٹکی ٹاکا‘ کی نئی شکل، جس میں چھوٹے چھوٹے پاس دے کر مخالف کو تھکایا اور کھینچا جاتا ہے۔
اُن کے کھیل کی دھڑکن نوجوان پیدری ہے، پیچھے سے روڈری کھیل کی رفتار طے کرتا ہے، اور رائیٹ ونگ پر لامین یامال اِس وقت پورے ٹورنامنٹ کا سب سے خطرناک نوجوان ہے۔ سپین کی طاقت یہی روانی اور تازگی ہے۔
کمزوری یہ کہ جب یہ ٹیم پورے دستے سے آگے بڑھتی ہے تو پیچھے خالی جگہ پیدا ہو سکتی ہے۔
فرانس اِسی خالی جگہ کا شکاری ہے۔ اُس کا نظریہ ’پراگمیٹزم‘ ہے، یعنی خوبصورتی نہیں، نتیجہ اہم ہے۔ فرنچ کوچ کا فارمولا ہے کہ گیند پر بے شک قبضہ زیادہ نہ رہے، مگر گول ہوں اور میچ جیتا جائے۔ اسے پراگمیٹزم تھیوری کہا جا رہا ہے۔
اصل کشمکش ایک سوال پر ہوگی۔ سپین اپنے قبضے کو گول میں بدل پاتا ہے یا نہیں: فوٹو اے ایف پی
اس لیے فرانس خوشی خوشی گیند سپین کو دے گا، اپنا دفاع نیچے جمائے گا، اور اصل وار جوابی حملے میں کرے گا۔
یہیں فرانسیی کپتان کلیان ایمباپے کی بجلی جیسی رفتار اور رائیٹ ونگر عثمان ڈیمبلے کا اندر کاٹ کر گول کی طرف بڑھنا سپین کے لیے ڈراؤنا خواب بن سکتا ہے۔
ڈیمبلے کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ رائٹ ونگر ہے مگر اندر ڈاج کر کے وہ بائیں پر سے بہت پاور فل کک لگا کر گول کرتا ہے۔ ویسے عثمان ڈیمبیلے کے دونوں پیر ایک جیسے ہی موثر ہیں جو کہ بہت ہی خطرناک بات بن جاتی ہے دفاع کے لیے۔ فرانس کی طاقت یہی رفتار اور بڑے میچوں کا تجربہ ہے۔ کمزوری یہ کہ اگر سپین نے گیند لمبے عرصے تک روکے رکھی تو فرانس کا مڈ فیلڈ دباؤ میں آ سکتا ہے۔
اصل کشمکش ایک سوال پر ہوگی۔ سپین اپنے قبضے کو گول میں بدل پاتا ہے یا نہیں، اور فرانس ایمباپے تک وہ ایک گیند پہنچا پاتا ہے یا نہیں جو میچ پلٹ دے۔ خاکسار کی رائے میں یہ فرق بہت باریک ہے، اور تجربہ فرانس کو بال برابر آگے رکھتا ہے۔
ارجنٹائن بمقابلہ انگلینڈ
جوڈ بیلنگھم عین وقت پر باکس میں نمودار ہوتا ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں میچ کا فیصلہ ہوتا ہے: فوٹو اے ایف پی
دوسرا سیمی فائنل، ارجنٹائن اور انگلینڈ، محض ایک میچ نہیں، ایک پرانی جنگ کا نیا باب ہے۔ جن قارئین کو انیس سو چھیاسی یاد ہے، اُن کے لیے یہ نام ایک ساتھ سنتے ہی میکسیکو کا وہ کوارٹر فائنل آنکھوں میں گھوم جاتا ہے، جہاں میراڈونا نے پہلے ہاتھ سے گول کیا، جسے وہ خود بعد میں ہینڈ آف گاڈ کہتا رہااور پھر کچھ دیر بعد میراڈونا نے گراونڈ کے سینٹر سے گیند لے کر ڈاجنگ، ڈربلنگ کر کے فٹ بال ہسٹری کے بہترین گولوں میں سے ایک گول کیا۔ اسےگول آف سنچری کہا گیا تھا۔
اُس مقابلے کے پیچھے ارجنٹائن اور انگلینڈ کےدرمیان ہونے والی فاک لینڈ جنگ کی یاد بھی موجود تھی۔ اس لیے وہ میچ صرف کھیل نہ تھا۔ پھر انیس سو اٹھانوے آیا، جب ارجنٹائن نے انگلینڈ کو پنالٹی پر ہرایا اور بیک ہام کو سرخ کارڈ ملا۔
دو ہزار دو میں انگلینڈ نے بیک ہام ہی کی پنالٹی سے وہ حساب چکایا۔ یہ رقابت نسلوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ اور ایک لطیف اتفاق دیکھیے، اُس اٹھانوے والے میچ میں بیک ہام نے جس ارجنٹائنی کھلاڑی کو دھکیلا تھا، یعنی دیگو سیمیونے، اُسی کا بیٹا جولیانو سیمیونے آج اِس ارجنٹائن دستے کا حصہ ہے۔ وقت کا پہیہ کیسے گھومتا ہے۔
ماہرین اس میچ کو تکنیکی انداز میں یوں دیکھ رہے ہیں ۔ ان کے مطابق ارجنٹائن کی سب سے بڑی قوت مڈ فیلڈ ہے جہاں اینزو فرنانڈیز، الیکسس میک الیسٹر اور روڈریگو ڈی پال کھیل کو سنبھالتے ہیں، اور اِن سب سے اوپر لیونل میسی اپنے جادو کے ساتھ موجود ہے۔ میسی اب رفتار سے نہیں، دماغ سے کھیلتا ہے، خالی جگہوں میں آ کر گیند وصول کرتا ہے اور ایک لمحے میں کھیل بدل دیتا ہے۔
انگلینڈ کے لیے سب سے بڑا سوال یہی میسی ہے۔ انگلش ڈیفنڈر ڈیکلن رائس کو اُسے مسلسل تنگ رکھنا ہوگا۔ ارجنٹائن کی ایک اور طاقت اُس کا گول کیپر ایمیلیانو مارتینیز ہے، جو پنالٹی شوٹ آؤٹ کا استاد سمجھا جاتا ہے۔ اگر میچ برابری پر پنالٹی تک گیا تو نفسیاتی برتری ارجنٹائن کے پاس ہوگی، اور انگلینڈ کا پنالٹی سے پرانا کمزور رشتہ کسی سے چھپا نہیں، اگرچہ حالیہ برسوں میں اُس نے بہتری دکھائی ہے۔
انگلینڈ کی اپنی قوت بھی کم نہیں۔ کپتان ہیری کین صرف گول کرنے والا سٹرائیکر ہی نہیں، وہ نیچے آ کر مڈ فیلڈ میں بھی ہاتھ بٹاتا ہے ۔ یہی خوبی ارجنٹائنی کے جارح مزاج مڈ فیلڈر کرسٹیان رومیرو اور لیزانڈرو مارتینیز کے لیے پہیلی بنے گی۔ کین کے پیچھے سے آتا ہوا جوڈ بیلنگھم عین وقت پر باکس میں نمودار ہوتا ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں میچ کا فیصلہ ہوتا ہے۔
دوسرا سیمی فائنل، ارجنٹائن اور انگلینڈ، محض ایک میچ نہیں، ایک پرانی جنگ کا نیا باب ہے: فوٹو اے ایف پی
بیلنگھم اس وقت دنیا کا خطرناک ترین اٹیکنگ مڈ فیلڈر بن چکا ہے۔ وہ پیچھے دفاع میں مدد کے لیے جاتا ہے، مڈ فیلڈ میں کھیلتا ہے اور پھر آگے آ کر مخالف ڈی میں داخل ہو کر نہایت خطرناک بن جاتا ہے۔
رات کے میچ میں بوکایو ساکا بینچ سے آ کر آیا اور تازہ دم ہو کر خاصی محنت کی، دائیں کنارے پر اندر کاٹ کر خطرہ بنایا۔ یہی انگلینڈ کی اصل خاموش طاقت ہے، اُس کے بینچ کی گہرائی۔ بڑے ٹورنامنٹ اکثر ابتدائی 11 نہیں، بینچ کے یہی کھلاڑی جتاتے ہیں۔
فٹ بال شائقین کو دونوں سیمی فائنل میں فٹبال کے دو مختلف رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔ ایک طرف فرانس اور سپین کی مختلف گیم تھیوری کا ٹکراؤ، گیند پر کنٹرول بمقابلہ جوابی وار۔
دوسری طرف ارجنٹائن اور انگلینڈ کا وہ پرانا حساب، تجربہ بمقابلہ توانائی، جادو بمقابلہ جوانی۔
اب سوال صرف یہ نہیں کہ فائنل میں کون پہنچے گا۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ عالمی کپ کھیل کے میدان میں طے ہو گا، یا وی اے آر کی سکرین پر۔
رات کے سرخ کارڈ نے یہ سوال ہمارے سامنے رکھ دیا ہے، اور اِس کا جواب اگلے چند دن دیں گے۔
پہلا سیمی فائنل پاکستانی وقت کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی رات بارہ بجے فرانس اور سپین کے درمیان ہو گا۔ یہ میچ ڈیلاس، امریکہ میں ہوگا۔
دوسرا سیمی فائنل بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات بارہ بجے،ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان ہوگا۔ مقام اٹلانٹا،امریکہ۔
اس کے بعد اگلے دن تیسری پوزیشن کے لیے میچ ہو گا، رات دو بجے۔ سیمی فائنل ہارنے والی دونوں ٹیموں کے درمیان۔
جبکہ اتوار اور پیر کی درمیانی رات بارہ بجے نیوجرسی، امریکہ میں ورلڈ کپ فائنل کھیلا جائے گا۔