’فرانسیسی ریفری کو ورلڈ کپ سے باہر کیا جائے‘، مصری فٹبال فیڈریشن کا فیفا سے مطالبہ
’فرانسیسی ریفری کو ورلڈ کپ سے باہر کیا جائے‘، مصری فٹبال فیڈریشن کا فیفا سے مطالبہ
بدھ 8 جولائی 2026 12:29
مصری فارورڈ مصطفیٰ زیکو نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوا جیسے مقابلہ پہلے ہی طے شدہ تھا۔(فوٹو:اے ایف پی)
مصر کی فٹبال فیڈریشن نے فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ فیفا ورلڈ کپ میں مصر اور ارجنٹائن کے درمیان کھیلے گئے پری کوارٹر فائنل میچ میں فرائض انجام دینے والے ریفری اور ان کی پوری آفیشل ٹیم کو ٹورنامنٹ سے خارج کیا جائے۔
اے ایف پی کے مطابق بدھ کو فیڈریشن کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ’مصری فٹبال فیڈریشن کے صدر ہانی ابو ریدہ نے فرانسیسی ریفری فرانسوا لیٹیکسیئر کے خلاف فیفا میں باضابطہ شکایت درج کرائی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ریفری ٹیم کی سنگین غلطیوں اور دوہرے معیار کی تحقیقات کی جائیں، جن کے باعث مصری ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ورلڈ کپ سے باہر ہوگئی۔‘
منگل کو کھیلے گئے میچ میں جب مصر کو 1-0 کی برتری حاصل تھی تو مصطفیٰ زیکو کا ایک گول وی اے آر کی مداخلت کے بعد مسترد کر دیا گیا۔ ویڈیو ریویو میں اس اٹیک کے آغاز میں ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز پر ہونے والے ایک فاؤل کی نشاندہی کی گئی، جس کی بنیاد پر گول کو کالعدم قرار دیا گیا۔
چند ہی منٹ بعد مصطفیٰ زیکو نے دوبارہ گول کرکے مصر کو 2-0 کی برتری دلا دی، جس کے بعد ٹیم پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی کے قریب پہنچ گئی تھی۔
تاہم انجری ٹائم میں کرسٹیان رومیرو اور لیونل میسی کے گولز نے ارجنٹائن کو مقابلہ برابر کرنے کا موقع دیا، جبکہ بعد ازاں اینزو فرنانڈیز کے فاتحانہ گول سے قبل ایک اور متنازع لمحہ سامنے آیا۔
مصری ٹیم کا مؤقف ہے کہ اینزو فرنانڈیز کے گول سے پہلے الیکسس میک ایلسٹر نے حمدی فتحی کو کھینچا تھا، جس پر مصر کو پنالٹی ملنی چاہیے تھی۔
فیڈریشن کے بیان میں مزید کہا گیا ’ہانی ابو ریدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف میدان میں موجود ریفریز بلکہ ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) ٹیم کی بھی تحقیقات کی جائیں، کیونکہ انہوں نے واضح غلطیاں کیں اور ایسے کئی مناظر کا جائزہ لینے سے گریز کیا جو ہماری نظر میں مصری ٹیم کے حق میں تھے۔ ہمارا ماننا ہے کہ مصر کا ایک درست گول اور ایک واضح پنالٹی نظر انداز کی گئی۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ فیڈریشن کے صدر نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے اور ان غلطیوں کے ثابت ہونے کے بعد ریفری اور ان کی پوری ٹیم کو ورلڈ کپ سے خارج کیا جائے، کیونکہ ان کے بقول مصری قومی ٹیم کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا۔
یہ مؤقف مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن کے میچ کے فوراً بعد دیے گئے سخت ردعمل سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔
حسام حسن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’میں اسے صرف بدقسمتی قرار نہیں دینا چاہتا۔ آج ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، ہمیں دھوکا دیا گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’آج ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، ہمیں دھوکا دیا گیا ہے۔ اس میچ میں نہ احترام دکھایا گیا اور نہ ہی کھیل کے اصولوں کی پاسداری کی گئی۔‘
بی اِن سپورٹس سے گفتگو میں حسام حسن نے کہا ’شاید وہ چاہتے تھے کہ عالمی چیمپئن ٹورنامنٹ میں برقرار رہیں، شاید وہ چاہتے تھے کہ لیونل میسی ٹائٹل کی دوڑ میں موجود رہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’فٹبال میں بعض اوقات ایسے بیرونی عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں جو صرف تکنیکی معاملات تک محدود نہیں ہوتے۔ عالمی چیمپئن ٹیم کو ہر سطح پر حمایت حاصل رہی۔‘
حسام حسن واضح نہیں کیا کہ آیا وہ نسل پرستی کی شکایت کر رہے تھے یا ریفری کے فیصلوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرا رہے تھے۔(فوٹو:اے ایف پی)
واضح رہے مصری کوچ نے میچ کے اختتامی لمحات میں ریفری کی جانب رخ کرتے ہوئے بازوؤں کو کراس کر کے ’ایکس‘ کا اشارہ بھی کیا، جو فیفا نے 2024 میں نسل پرستانہ رویے کی شکایت درج کرانے کے لیے متعارف کرایا تھا۔
اس اقدام پر انہیں یلو کارڈ دکھایا گیا۔ تاہم حسام حسن نے بعد ازاں یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ نسل پرستی کی شکایت کر رہے تھے یا ریفری کے فیصلوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرا رہے تھے، جس کے باعث اس اشارے کے مقصد پر عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا میں بحث چھڑ گئی۔
میچ کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی جب مصر کے گول کیپر کوچ صفوان الصغیر کو ریڈ کارڈ دکھایا گیا، جبکہ ٹیم کے ایک رکن نے لیونل میسی کی جانب بڑھنے کی کوشش کی جسے دیگر اہلکاروں نے روک لیا۔ حسام حسن بھی میدان سے باہر جاتے ہوئے شدید غصے میں دکھائی دیے۔
دوسری جانب فیفا کی جانب سے تاحال نہ تو میچ فکس ہونے کے الزامات پر کوئی ردعمل سامنے آیا ہے اور نہ ہی حسام حسن کے ’ایکس‘ اشارے کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت جاری کی گئی ہے۔