ارجنٹائن سے شکست پر مصر کا احتجاج،’میسی کی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے دباؤ‘
ارجنٹائن سے شکست پر مصر کا احتجاج،’میسی کی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے دباؤ‘
بدھ 8 جولائی 2026 12:29
مصری فارورڈ مصطفیٰ زیکو نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوا جیسے مقابلہ پہلے ہی طے شدہ تھا۔(فوٹو:اے ایف پی)
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پری کوارٹر فائنل میں ارجنٹائن کے ہاتھوں 3-2 سے ڈرامائی شکست کے بعد مصر کے کھلاڑیوں، کوچ اور فٹبال حکام نے ریفری اور ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) کے فیصلوں پر شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے میچ کے نتائج پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اٹلانٹا میں کھیلے گئے اس مقابلے میں مصر نے 79ویں منٹ تک دو گول کی برتری برقرار رکھی، تاہم دفاعی چیمپیئن ارجنٹائن نے آخری 11 منٹ میں تین گول کر کے سنسنی خیز کامیابی حاصل کر لی۔
میچ کے بعد مصری فارورڈ مصطفیٰ زیکو نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوا جیسے مقابلہ پہلے ہی طے شدہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ مصر کے ساتھ ناانصافی ہوئی، ان کا ایک گول متنازع وی اے آر فیصلے کے ذریعے منسوخ کیا گیا جبکہ کئی اہم فیصلے ارجنٹائن کے حق میں گئے۔
مصری کوچ حسام حسن نے بھی غیرمعمولی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم کو کوارٹر فائنل میں پہنچنے سے محروم کیا گیا۔
ان کے مطابق مصر کے حق میں ایک واضح پنالٹی کا جائزہ وی اے آر نے نہیں لیا جبکہ مصطفیٰ زیکو کا گول بھی ایسے مرحلے پر منسوخ کیا گیا جس نے میچ کا رخ بدل دیا۔
حسام حسن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہیں محسوس ہوا جیسے ٹورنامنٹ میں ارجنٹائن اور لیونل میسی کی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے دباؤ موجود تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’کھیل میں انصاف نظر نہیں آیا۔‘ تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، جبکہ فیفا نے بھی ان الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
مصری کوچ نے میچ کے اختتامی لمحات میں ریفری کی جانب رخ کرتے ہوئے بازوؤں کو کراس کر کے ’ایکس‘ کا اشارہ بھی کیا، جو فیفا نے 2024 میں نسل پرستانہ رویے کی شکایت درج کرانے کے لیے متعارف کرایا تھا۔
حسام حسن واضح نہیں کیا کہ آیا وہ نسل پرستی کی شکایت کر رہے تھے یا ریفری کے فیصلوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرا رہے تھے۔(فوٹو:اے ایف پی)
اس اقدام پر انہیں یلو کارڈ دکھایا گیا۔ تاہم حسام حسن نے بعد ازاں یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ نسل پرستی کی شکایت کر رہے تھے یا ریفری کے فیصلوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرا رہے تھے، جس کے باعث اس اشارے کے مقصد پر عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا میں بحث چھڑ گئی۔
میچ کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی جب مصر کے گول کیپر کوچ صفوان الصغیر کو ریڈ کارڈ دکھایا گیا، جبکہ ٹیم کے ایک رکن نے لیونل میسی کی جانب بڑھنے کی کوشش کی جسے دیگر اہلکاروں نے روک لیا۔ حسام حسن بھی میدان سے باہر جاتے ہوئے شدید غصے میں دکھائی دیے۔
مصری فٹبال فیڈریشن نے بھی ریفری اور وی اے آر کے متنازع فیصلوں کے خلاف فیفا سے باضابطہ شکایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
فیڈریشن کا مؤقف ہے کہ منسوخ کیے گئے گول، ممکنہ پنالٹی اور دیگر فیصلوں کا دوبارہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب فیفا کی جانب سے تاحال نہ تو میچ فکس ہونے کے الزامات پر کوئی ردعمل سامنے آیا ہے اور نہ ہی حسام حسن کے ’ایکس‘ اشارے کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت جاری کی گئی ہے۔