Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایمباپے اور ڈیمبیلے نے فرانس کو سیمی فائنل میں پہنچا دیا، مراکش کی مایوس کن شکست

فرانس کو ابتدا میں گول کرنے میں مشکلات پیش آئیں (فوٹو: اے ایف پی)
فرانس نے جمعرات کو افریقی چیمپئن مراکش کو شاندار 2-0 سے شکست دے کر اپنی حیثیت کو ورلڈ کپ کی سب سے مضبوط ٹیم کے طور پر ثابت کیا اور مسلسل تیسرے سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کیلیان ایمباپے نے 60ویں منٹ میں ٹورنامنٹ کا اپنا آٹھواں گول کیا، اس کے چھ منٹ بعد عثمان ڈیمبیلے نے برتری کو دوگنا کر کے بوسٹن کے قریب جلیٹ سٹیڈیم میں ایک آسان فتح مکمل کی۔
یہ کامیابی 2018 کے چیمپئنز کو سیمی فائنل میں لے گئی، جہاں وہ اگلے منگل کو ٹیکساس کے آرلنگٹن میں ڈلاس کاؤبویز کے اے ٹی اینڈ ٹی سٹیڈیم میں سپین یا بیلجیم کا سامنا کریں گے۔
فرانس کے کوچ ڈیدیے ڈیشامپ نے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ مسلسل تین سیمی فائنلز ہیں، جو پہلے ہی ایک اچھی بات ہے۔ یہ منطقی اور فطری لگتا ہے، لیکن پھر بھی آپ کو اسے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے، میرے پاس عظیم کھلاڑی ہیں، ورنہ ہم یہاں نہ پہنچتے۔‘
مراکش کو فرانس کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا جا رہا تھا، لیکن ڈیشامپ کی ٹیم نے ہمیشہ قابو رکھا۔ مراکش کے کھلاڑی 83ویں منٹ تک ایک بھی شاٹ گول پر نہ لگا سکے، جب عزالدین اوناہی کا دور سے مارا گیا شاٹ فرانس کے گول کیپر مائیک میگنان نے روک دیا۔
فرانس کو ابتدا میں گول کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ 28ویں منٹ میں ایمباپے کو پنالٹی ملی لیکن مراکش کے گول کیپر یاسین بونو نے اسے روک لیا۔ ایمباپے کو یہ پنالٹی اُس وقت ملی جب نُصیر مزراوی نے انہیں گرا دیا، لیکن وی اے آر چیک کی وجہ سے انہیں کئی منٹ انتظار کرنا پڑا۔

ایمباپے نے کہا کہ فرانس کو فیورٹ سمجھنا ابھی قبل از وقت ہے (فوٹو: اے ایف پی)

مراکش نے پہلے ہاف تک مزاحمت کی، لیکن فرانس کے مسلسل دباؤ کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹک سکے۔ گول کا انتظار 60ویں منٹ میں ختم ہوا، جب ایمباپے نے ایریا کے کنارے سے دائیں پاؤں کا شاندار شاٹ بونو کے پاس سے گزار دیا۔ پیرس سینٹ جرمین کے سٹار ڈیمبیلے نے 66ویں منٹ میں میچ کو محفوظ بنا دیا، جب وہ مڈفیلڈ سے آگے بڑھتے ہوئے گیند کو نیچے کونے میں ڈالنے میں کامیاب ہوئے۔
ایمباپے، جنہیں ٹخنے کی معمولی چوٹ کے باعث بعد میں تبدیل کیا گیا، نے کہا کہ فرانس کو فیورٹ سمجھنا ابھی قبل از وقت ہے۔ ’ہم سیمی فائنل میں ہیں اور بہت خوش ہیں۔ ابھی لمبا سفر باقی ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ آگے کا مرحلہ مزید مشکل ہوگا، لیکن ہم تیار ہیں۔‘

 

شیئر: