تجزیہ: فائبر آپٹک ڈرونز جدید جنگ کے خدوخال کیسے بدل رہے ہیں؟
پیر 13 جولائی 2026 5:50
جوناتھن گورنل -تجزیہ کار
بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ہتھیار نے جدید جنگ کو بنیادی طور پر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
حزب اللہ کی جانب سے فائبر آپٹک ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے اسرائیل کے دفاعی نظام میں ایک خطرناک خلا کو بے نقاب کر دیا ہے اور اب اسرائیل میدانِ جنگ کے اس نئے خطرے سے نمٹنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے۔
بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ہتھیار نے جدید جنگ کو بنیادی طور پر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔
سستے، مشکل سے پکڑ میں آنے والے اور الیکٹرانک جیمنگ (سگنل بلاک کرنے والے نظام) سے محفوظ یہ ڈرونز یوکرین کی جنگ کے فیصلہ کن ہتھیاروں میں سے ایک بن چکے ہیں اور اب جنوبی لبنان سمیت دیگر تنازعات میں بھی نظر آ رہے ہیں۔
26 اپریل کو اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کو فائبر آپٹک ڈرون کے ہاتھوں اپنی پہلی جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جب جنوبی لبنان میں ان کی پوزیشن پر حملے کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہو گئے۔ بعد میں حزب اللہ نے اس حملے کی ویڈیو بھی جاری کی جو خود اسی ڈرون سے فلمائی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق مارچ میں لبنان میں دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک ان ڈرونز کے ذریعے کم از کم ایک درجن اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
روایتی فرسٹ پرسن ویو (FPV) ڈرونز کے برعکس فائبر آپٹک ڈرونز ایک انتہائی باریک کیبل کے ذریعے اپنے آپریٹر سے جڑے ہوتے ہیں جو ان کے اڑتے ہی پیچھے کھلتی چلی جاتی ہے۔
یہ کیبل آپریٹر کے کنٹرول کنسول اور ڈرون کے درمیان ایک نال (Umbilical cord) کا کام کرتی ہے جو ریڈیو سگنلز پر انحصار کیے بغیر احکامات اور ہائی ڈیفینیشن (HD) ویڈیو منتقل کرتی ہے جنہیں جیم (بلاگ) نہیں کیا جا سکتا۔
ان میں سے کچھ ڈرونز اپنے ساتھ 50 کلومیٹر تک لمبی کیبل لے جا سکتے ہیں۔ نیچی پرواز، تیز رفتاری اور تقریباً خاموشی کے ساتھ اڑنے کی وجہ سے انہیں تلاش کرنا، ٹریک کرنا یا مار گرانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
یوکرین کے لیے قائم کردہ آرگنائزیشن 'ڈیفنس ٹیک فار یوکرین'(ڈی ٹی یو) کے صدر جوناتھن لپرٹ کے مطابق ’فوجیوں نے ڈی ٹی یو کو بتایا ہے کہ اب دشمن کے 70 فیصد یا اس سے زیادہ فرسٹ پرسن ویو ڈرون حملے فائبر ڈرونز کے ذریعے ہو رہے ہیں اور یہ مجموعی ہلاکتوں میں سے آدھی سے زیادہ کا سبب بن رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’آج تک، چھپنے کے علاوہ، فائبر ڈرونز کے خلاف بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والا کوئی قابلِ بھروسہ دفاعی نظام موجود نہیں ہے۔‘
جوناتھن لپرٹ نے کہا کہ فائبر آپٹک ڈرون ’یقینی طور پر گیم چینجر ہے۔‘
ریڈیو فریکوئنسی سے چلنے والے ڈرونز کے مقابلے میں ’اس کے آنے کا پتہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے، اس لیے اس سے اچانک حیران رہ جانا اور اس کے خلاف کچھ نہ کر پانا بہت عام بات ہے۔‘
یوکرین میں دونوں اطراف تیزی سے ان ڈرونز کو گھات لگا کر حملہ کرنے والے ہتھیاروں کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ آپریٹرز انہیں سڑکوں کے کناروں یا ممکنہ گزرگاہوں پر لے جاتے ہیں اور بجلی بچانے کے لیے ان کے تقریباً تمام آن بورڈ سسٹمز کو ’سٹینڈ بائی موڈ‘ پر ڈال دیتے ہیں۔
چونکہ فائبر کے ذریعے سگنل بھیجنے میں ریڈیو کے مقابلے میں بہت کم توانائی خرچ ہوتی ہے، اس لیے یہ ڈرون 24 گھنٹے تک انتظار کر سکتا ہے اور اس دوران بھی ’بہترین ہائی ڈیفینیشن ویڈیو‘ بھیجتا رہتا ہے۔
جب کوئی ہدف سامنے آتا ہے تو یہ محض چند سیکنڈ کے نوٹس پر حملہ کر دیتا ہے۔
ڈی ٹی یو نے اپنی ویب سائٹ پر روسی فائبر ڈرون کے حملے میں زخمی ہونے والے ایک یوکرینی فوجی کا تجربہ شیئر کیا ہے۔
اس فوجی نے بتایا ’ہماری ٹیم ریڈیو فریکوئنسی سے چلنے والے ڈرونز کو مار گرانے میں کافی ماہر ہو چکی تھی کیونکہ وہ اتنے فاصلے اور اونچائی سے آتے تھے کہ ہمیں نشانہ باندھنے اور کئی گولیاں چلانے کا کافی وقت مل جاتا تھا۔‘
’لیکن فائبر ڈرون کے اس حملے میں، اس کے حرکت شروع کرنے سے لے کر دھماکے تک مجموعی طور پر مشکل سے تین سیکنڈ کا وقت ملا۔‘
اگرچہ فائبر سپول (تار کے رول) کے اضافی وزن کی وجہ سے اس میں بارود لے جانے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے لیکن یہ ڈرونز فوجیوں، ہلکی گاڑیوں اور دفاعی پوزیشنوں کے خلاف بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
جوناتھن لپرٹ کہتے ہیں ’یہ افرادی قوت، ہلکی بکتر بند گاڑیوں اور ذخائر کے خلاف سب سے زیادہ مؤثر ہے۔‘
ان کی لچکدار نقل و حرکت انہیں خاص طور پر خطرناک بناتی ہے۔
انہوں نے کہا ’یہ ان ڈھانچوں کے اندر جانے کے لیے واقعی بہترین ہیں جہاں عام طور پر پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔ آپ فضائی حملے اور ہوا سے محفوظ ایک مضبوط بنکر کے کھلے دروازے سے داخل ہو سکتے ہیں، سرنگوں کے اندر گھومتے ہوئے موڑ مڑ سکتے ہیں، جو آپ ریڈیو فریکوئنسی ڈرون کے ساتھ کبھی نہیں کر سکتے۔ اسے دیکھنا واقعی حیران کن ہے۔‘
’میں نے انہیں خندقوں میں نیچے جاتے، بائیں مڑتے، ڈھکے ہوئے حصے کے داخلے سے گزرتے اور گہرائی میں جا کر کسی ایسے شخص کو نشانہ بناتے دیکھا ہے جو یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ بالکل محفوظ ہے۔‘
یہ ٹیکنالوجی پہلی بار 2024 میں یوکرین میں سامنے آئی۔
جوناتھن لپرٹ کا کہنا ہے کہ فائبر آپٹک سے چلنے والے ڈرونز کو ’اصل میں چینیوں نے موجودہ شکل میں ڈھالا تھا۔ میری معلومات کے مطابق وہ (یوکرین پر) بڑے پیمانے پر حملے سے پہلے ہی ان کی مارکیٹنگ کر رہے تھے لیکن اس وقت ان کی کوئی مانگ نہیں تھی۔‘
یہ صورتحال مارچ 2024 میں اس وقت تبدیل ہوئی جب روسی افواج نے اپنا ورژن متعارف کرایا۔ روس نے اگست 2024 میں یوکرین کے کرسک (Kursk) پر حملے کے دوران ان ڈرونز کی اثر پذیری کا مظاہرہ کیا۔
جوناتھن لپرٹ نے بتایا ’اسے سوشل میڈیا پر کچھ تشہیر ملی، ہمارے نیٹ ورک میں سے کسی نے اسے دیکھا اور یوکرین تک پہنچانے کے لیے اس کی ریورس انجینئرنگ (نقل تیار کرنے) کا بیڑا اٹھایا۔‘
ڈی ٹی یو نے اس کوشش کی حمایت کی۔
’یوکرین کی طرف سے پہلا کامیاب استعمال میری تنظیم کے تعاون سے ہوا... اور وہ اکتوبر 2024 کے آغاز میں تھا۔‘
آج کے بارے میں ان کا کہنا ہے ’میرے خیال میں روسیوں کو اب بھی برتری حاصل ہے، لیکن اب یہ کوئی ایسی برتری نہیں ہے جسے ختم نہ کیا جا سکے۔ اب دونوں تقریباً برابر آ چکے ہیں۔‘
اگرچہ یہ ڈرون آج کے میدانِ جنگ کو بدل رہے ہیں، لیکن ان کے پیچھے کارفرما اصول دوسری جنگِ عظیم جتنا پرانا ہے۔
نازی جرمنی نے 'Ruhrstahl X-4' تیار کیا تھا جو دنیا کا پہلا وائر گائیڈڈ (تار کی مدد سے چلنے والا) فضا سے فضا میں مار کرنے والا میزائل تھا جسے اس لیے ڈیزائن کیا گیا تھا تاکہ لوفٹ وافے (جرمن فضائیہ) کے طیارے اتحادیوں کے بمبار طیاروں پر ان کی دفاعی گنوں کی رینج سے باہر رہ کر حملہ کر سکیں۔
اگرچہ اسے کبھی جنگ میں استعمال نہیں کیا گیا لیکن اس نے بعد کے نظاموں کو متاثر کیا جس میں BGM-71 TOW میزائل شامل ہے جو ’ٹیوب سے لانچ ہونے والا، آپٹیکلی ٹریک کیا جانے والا، اور تار کے ذریعے گائیڈ ہونے والا‘ میزائل ہے اور ویتنام کی جنگ سے لے کر آج تک زیرِ استعمال ہے۔
یہ ٹیکنالوجی یوکرین بھر میں ایک اور وراثت بھی چھوڑ رہی ہے۔
جب یہ ڈرونز پھٹتے ہیں تو فائبر کیبل کھیتوں، جنگلات اور شہروں میں بکھری رہ جاتی ہے، جس سے پلاسٹک کے کچرے کے وسیع جال بن رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں مناظر کو ان چھوڑی ہوئی تاروں سے ڈھکا ہوا دیکھا جا سکتا ہے یہاں تک کہ پرندوں نے بھی ان کیبلز سے اپنے گھونسلے بنانا شروع کر دیے ہیں۔
جوناتھن لپرٹ نے اس ماحولیاتی نقصان کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ’یہ بدقسمتی ہے لیکن جب آپ اپنی آزادی اور طرزِ زندگی کے لیے لڑ رہے ہوں تو اس طرح کی چیزیں ہوتی ہیں۔‘
ماحولیاتی ادارے ’کونفلکٹ اینڈ انوائرمنٹ آبزرویٹری‘ نے خبردار کیا ہے ’فائبر آپٹک ڈرونز سے پھیلنے والی پلاسٹک کی آلودگی آنے والے کئی سالوں تک جنگلی حیات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔‘
سمندر میں چھوڑی گئی مچھلی پکڑنے والی ڈوریوں کی طرح ’فائبر آپٹک کیبل جانوروں کے گلوں میں لپٹ سکتی ہے، جس سے ان کے اعضاء کٹ سکتے ہیں، دم گھٹ سکتا ہے یا وہ بھوک سے مر سکتے ہیں۔‘
انسان اور گاڑیاں بھی ان کیبلز میں پھنس رہے ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ نے مؤثر جوابی اقدامات کے لیے ایک بین الاقوامی تلاش کو جنم دیا ہے۔
مارچ میں برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے فائبر آپٹک سے چلنے والے بغیر پائلٹ کے ہوائی نظاموں کا پتہ لگانے اور انہیں ناکارہ بنانے کے لیے نئے آئیڈیاز طلب کیے۔
نیٹو نے بھی فائبر آپٹک ایف پی وی ڈرونز کا پتہ لگانے اور انہیں شکست دینے پر مرکوز ایک انوویشن چیلنج شروع کیا جس میں جیتنے والی تجاویز آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) سے لیس ریڈار سافٹ ویئر سے لے کر خودکار گن ٹاورز اور ریموٹ ویپن سٹیشنز تک شامل ہیں۔
دریں اثناء اسرائیل فوری حل کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔
کچھ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ حزب اللہ تھری ڈی پرنٹنگ اور تجارتی طور پر دستیاب عام پرزوں کا استعمال کرتے ہوئے یہ ڈرون مقامی طور پر تیار کر رہی ہے۔
جبکہ اسرائیلی دفاعی کمپنیاں تکنیکی جوابی اقدامات پر کام کر رہی ہیں، تب تک فوجیوں کو جالی دار نیٹ اور یہاں تک کہ شاٹ گنز (بندوقوں) پر تکیہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
لیکن اس سب کے لیے پہلے انہیں ان ڈرونز کو آتے ہوئے دیکھنا ہو گا۔
