Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایک چھوٹا سا چوہا سائنس دانوں کو زندگی کی بقا کے نئے راز بتا رہا ہے

یہ چوہا ایسے علاقوں میں بھی زندہ رہتا ہے جہاں کوہ پیما صرف مختصر وقت کے لیے ہی جا سکتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پہلی نظر میں یہ ایک عام سا چوہا لگتا ہے، لیکن اینڈیز کا لیف ایئرڈ ماؤس قدرت کا ایک ایسا عجوبہ ہے جس نے سائنس دانوں کو حیران کر رکھا ہے۔
یہ ننھا ممالیہ جانور اینڈیز کے پہاڑوں میں 6 ہزار 700 میٹر سے زیادہ بلندی پر زندہ رہ سکتا ہے۔ ایسی بلندی جہاں آکسیجن انتہائی کم ہوتی ہے اور انسان بھی زیادہ دیر تک نہیں ٹھہر سکتا۔
چھ برس پہلے جب اس چوہے کو دنیا کی چند بلند ترین چوٹیوں پر دریافت کیا گیا تو ماہرین کے لیے یہ ایک غیر متوقع انکشاف تھا کیونکہ اس سے پہلے سمجھا جاتا تھا کہ اتنی بلندی پر کوئی ممالیہ جانور زندہ نہیں رہ سکتا۔
اب بین الاقوامی سائنس دانوں کی ایک ٹیم اس غیرمعمولی جانور کی جسمانی ساخت اور جینیاتی خصوصیات کا مطالعہ کر رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ انتہائی سخت ماحول میں کیسے زندہ رہتا ہے۔
امریکی ریاست مونٹانا کی یونیورسٹی میں حیاتیات کے محقق اور اس ہفتے سائنسی جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے شریک مصنف زیکری شیورون نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ چوہا دنیا کا سب سے زیادہ بلندی پر رہنے والا ممالیہ جانور ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایسے علاقوں میں بھی زندہ رہتا ہے جہاں کوہ پیما صرف مختصر وقت کے لیے ہی جا سکتے ہیں۔
اس سے پہلے سب سے زیادہ بلندی پر رہنے والے ممالیہ جانور کا اعزاز ’ہمالیائی پیکا‘ کے پاس تھا مگر اینڈیز کے اس چوہے کو اس سے بھی سینکڑوں میٹر زیادہ بلندی پر پایا گیا۔
اس جانور کی ایک اور حیران کن خصوصیت اس کا وسیع مسکن ہے۔
جو نوع  لاطینی امریکہ میں چلی کی بلند ترین چوٹیوں پر رہتی ہے، وہی سمندر کی سطح پر بھی پائی جاتی ہے۔ زیکری شیورون کے مطابق بلندی کے اعتبار سے اتنے وسیع علاقے میں رہنے والا کوئی اور ممالیہ جانور موجود نہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس جانور کی غیر معمولی برداشت اور مختلف ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت ہی اسے اتنے مختلف خطوں میں زندہ رہنے کے قابل بناتی ہے۔ ان کے خیال میں اس تحقیق سے حاصل ہونے والی معلومات مستقبل میں انسانی بیماریوں کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

تجربات سے معلوم ہوا کہ یہ چوہے شدید سردی میں بھی اپنے جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے میں بہت مؤثر ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

 کم آکسیجن میں زندہ رہنے کی صلاحیت
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ نشیبی علاقوں اور بلند پہاڑوں پر رہنے والے یہ چوہے جینیاتی طور پر ایک دوسرے سے بہت مختلف نہیں۔
البتہ برف پوش پہاڑوں پر رہنے والے چوہوں میں چند ایسے جینز ضرور پائے گئے ہیں جن کا تعلق کم آکسیجن والے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے سے ہے۔ یہی جینز تبتی آبادی میں بھی شناخت کیے جا چکے ہیں، جو صدیوں سے بلند پہاڑی علاقوں میں آباد ہے۔
یونیورسٹی آف نیبراسکا کے ارتقائی حیاتیات کے ماہر جے سٹورز کے مطابق ان چوہوں نے کم آکسیجن والے ماحول میں زندہ رہنے کی غیر معمولی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔
تجربات سے معلوم ہوا کہ یہ چوہے شدید سردی میں بھی اپنے جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے میں بہت مؤثر ہیں۔
ابتدائی نتائج یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ دوسرے ممالیہ جانوروں کی طرح یہ زیادہ سرخ خون کے خلیات پیدا نہیں کرتے بلکہ نسبتاً تیزی سے سانس لیتے ہیں، جبکہ اس کے ممکنہ منفی اثرات سے بچنے کے لیے ان کے جسم میں ایک خاص قسم کا خامرہ (اینزائم) موجود ہوتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم ابتدائی نتائج مستقبل کی طبی تحقیق کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

زیکری شیورون کے مطابق اس تحقیق سے سرطان کے علاج میں بھی مدد مل سکتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

انسانی بیماریوں کے علاج میں مدد؟
جے سٹورز کے مطابق دل کی بہت سی بیماریوں میں جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن کی مناسب مقدار نہیں پہنچ پاتی۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ لیف ایئرڈ ماؤس کم آکسیجن میں کس طرح زندہ رہتا ہے تو اس سے ایسے مریضوں کے علاج کے نئے طریقے سامنے آ سکتے ہیں جنہیں اسی نوعیت کی جسمانی کیفیت کا سامنا ہوتا ہے۔
زیکری شیورون کے مطابق اس تحقیق سے سرطان کے علاج میں بھی مدد مل سکتی ہے، کیونکہ کئی رسولیوں کے اندر بھی کم آکسیجن والا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔
تاہم اس تحقیق کی اہمیت صرف طب تک محدود نہیں۔
اینڈیز کا یہ چوہا برف اور چٹانوں پر مشتمل سخت ماحول میں نہ صرف زندہ رہتا ہے بلکہ وہاں اگنے والے محدود اور بعض اوقات زہریلے پودوں پر بھی گزارا کرتا ہے۔
محققین نے اس کے جینوم میں ایسے جینز بھی دریافت کیے ہیں جو خوراک میں موجود زہریلے مادوں کو جسم میں تحلیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جےاسٹورز کے مطابق اس تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ زندگی کی قوت مزاحمت ہماری توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔
ان کے بقول اب سائنس دانوں کو اندازہ ہو رہا ہے کہ ریڑھ کی ہڈی رکھنے والے جانور کس حد تک سخت ماحول میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔

شیئر: