پہلی نظر میں یہ ایک عام سا چوہا لگتا ہے، لیکن اینڈیز کا لیف ایئرڈ ماؤس قدرت کا ایک ایسا عجوبہ ہے جس نے سائنس دانوں کو حیران کر رکھا ہے۔
یہ ننھا ممالیہ جانور اینڈیز کے پہاڑوں میں 6 ہزار 700 میٹر سے زیادہ بلندی پر زندہ رہ سکتا ہے۔ ایسی بلندی جہاں آکسیجن انتہائی کم ہوتی ہے اور انسان بھی زیادہ دیر تک نہیں ٹھہر سکتا۔
چھ برس پہلے جب اس چوہے کو دنیا کی چند بلند ترین چوٹیوں پر دریافت کیا گیا تو ماہرین کے لیے یہ ایک غیر متوقع انکشاف تھا کیونکہ اس سے پہلے سمجھا جاتا تھا کہ اتنی بلندی پر کوئی ممالیہ جانور زندہ نہیں رہ سکتا۔
مزید پڑھیں
-
چینی خلابازوں کے ساتھ پہلی بار چوہے بھی خلا میں جائیں گےNode ID: 896590
اب بین الاقوامی سائنس دانوں کی ایک ٹیم اس غیرمعمولی جانور کی جسمانی ساخت اور جینیاتی خصوصیات کا مطالعہ کر رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ انتہائی سخت ماحول میں کیسے زندہ رہتا ہے۔
امریکی ریاست مونٹانا کی یونیورسٹی میں حیاتیات کے محقق اور اس ہفتے سائنسی جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے شریک مصنف زیکری شیورون نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ چوہا دنیا کا سب سے زیادہ بلندی پر رہنے والا ممالیہ جانور ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایسے علاقوں میں بھی زندہ رہتا ہے جہاں کوہ پیما صرف مختصر وقت کے لیے ہی جا سکتے ہیں۔
اس سے پہلے سب سے زیادہ بلندی پر رہنے والے ممالیہ جانور کا اعزاز ’ہمالیائی پیکا‘ کے پاس تھا مگر اینڈیز کے اس چوہے کو اس سے بھی سینکڑوں میٹر زیادہ بلندی پر پایا گیا۔
اس جانور کی ایک اور حیران کن خصوصیت اس کا وسیع مسکن ہے۔
جو نوع لاطینی امریکہ میں چلی کی بلند ترین چوٹیوں پر رہتی ہے، وہی سمندر کی سطح پر بھی پائی جاتی ہے۔ زیکری شیورون کے مطابق بلندی کے اعتبار سے اتنے وسیع علاقے میں رہنے والا کوئی اور ممالیہ جانور موجود نہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس جانور کی غیر معمولی برداشت اور مختلف ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت ہی اسے اتنے مختلف خطوں میں زندہ رہنے کے قابل بناتی ہے۔ ان کے خیال میں اس تحقیق سے حاصل ہونے والی معلومات مستقبل میں انسانی بیماریوں کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

کم آکسیجن میں زندہ رہنے کی صلاحیت
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ نشیبی علاقوں اور بلند پہاڑوں پر رہنے والے یہ چوہے جینیاتی طور پر ایک دوسرے سے بہت مختلف نہیں۔
البتہ برف پوش پہاڑوں پر رہنے والے چوہوں میں چند ایسے جینز ضرور پائے گئے ہیں جن کا تعلق کم آکسیجن والے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے سے ہے۔ یہی جینز تبتی آبادی میں بھی شناخت کیے جا چکے ہیں، جو صدیوں سے بلند پہاڑی علاقوں میں آباد ہے۔
یونیورسٹی آف نیبراسکا کے ارتقائی حیاتیات کے ماہر جے سٹورز کے مطابق ان چوہوں نے کم آکسیجن والے ماحول میں زندہ رہنے کی غیر معمولی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔
تجربات سے معلوم ہوا کہ یہ چوہے شدید سردی میں بھی اپنے جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے میں بہت مؤثر ہیں۔
ابتدائی نتائج یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ دوسرے ممالیہ جانوروں کی طرح یہ زیادہ سرخ خون کے خلیات پیدا نہیں کرتے بلکہ نسبتاً تیزی سے سانس لیتے ہیں، جبکہ اس کے ممکنہ منفی اثرات سے بچنے کے لیے ان کے جسم میں ایک خاص قسم کا خامرہ (اینزائم) موجود ہوتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم ابتدائی نتائج مستقبل کی طبی تحقیق کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔













