گذشتہ دنوں ایک سرکاری دفتر میں جانا ہوا۔ مجھ سے آگے ایک بزرگ کھڑے تھے، عمر یہی کوئی پچہتر اسی برس۔ ہاتھ میں کاغذات تھے، انہیں شاید فارم فِل کرنا تھا۔
عینک کے موٹے شیشوں کے پیچھے سے وہ بار بار فارم کو دیکھتے، پھر کاؤنٹر پر بیٹھے بے زار صورت نوجوان سے کچھ پوچھتے۔ نوجوان جھنجھلا رہا تھا، پیچھے کھڑے لوگ اُکتا رہے تھے۔ کسی کے پاس ان بابا جی کے لیے دو منٹ نہیں تھے۔
میں نے آگے بڑھ کر فارم بھر دیا تو انہوں نے یوں دیکھا جیسے میں نے کوئی بڑا احسان کر دیا ہو۔ حالانکہ یہ احسان نہیں، ہمارا فرض تھا۔
مزید پڑھیں
-
پاکستان میں اصل اپوزیشن کون ہے؟ عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 903522
-
برطانوی سیاست میں بھونچال کیوں؟ عامر خاکوانی کا بلاگNode ID: 905615
-
اوڈیسی: سال کی سب سے بڑی فلم یا بڑا رسک؟ عامر خاکوانی کا بلاگNode ID: 905850
اسی دن مجھے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں جس کے پاس اپنے بوڑھوں کے لیے کوئی نظام ہے، نہ منصوبہ، نہ سوچ۔
ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں بزرگ گھر کی رونق ہوتے ہیں، مغرب کی طرح انہیں اولڈ ہومز میں نہیں پھینکا جاتا۔ بات ٹھیک ہے، مگر آدھی۔ سچ یہ ہے کہ ہم نے بوڑھوں کی دیکھ بھال کو کبھی ایک سنجیدہ کام سمجھا ہی نہیں۔
طوفان چپکے سے آرہا ہے
پاکستان کو ہم ایک نوجوان ملک کہتے ہیں اور ہے بھی۔ مگر ماہرین ایک ایسی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جسے ہم نے ابھی دیکھا ہی نہیں۔
سنہ 2019 میں 60 سال سے اوپر پاکستانیوں کی تعداد قریباً ڈیڑھ کروڑ تھی، یعنی آبادی کا 7 فیصد۔ اندازہ ہے کہ 2050 تک یہ تعداد 4 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔
اس وقت بھی یہ 2 کروڑ تو ہو چکی ہوگی۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ سوچیے، پورے آسٹریلیا سے بھی زیادہ لوگ ہمارے ہاں صرف سینیئر سٹیزن ہوں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں؟ میرا جواب ہے بالکل نہیں۔ حال یہ ہے کہ پاکستان میں صرف 2.3 فیصد بزرگوں کو پنشن ملتی ہے۔
باقی سب اولاد کے رحم و کرم پر ہیں اور جہاں اولاد نہ ہو یا وسیلہ نہ ہو، وہاں بڑھاپا ایک سزا بن جاتا ہے۔ 2014 میں سینیئر سٹیزنز ایکٹ ضرور بنا، مگر وہ فائلوں میں پڑا ہے۔ ہمارے ہاں قانون بنانا آسان ہے، اس پر عمل کرانا مشکل۔
کیا ہم اس معاملے میں انڈیا سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟
آج کل میرے اوپر دنیا کے ممتاز اور معروف اخبارات پڑھنے کا بُھوت سوار ہے، روزانہ بارہ چودہ عالمی اخبار پڑھ ڈالتا ہوں، ان میں سے تین چار انڈین اخبارات بھی شامل ہیں۔ بہت کچھ نیا جاننے، سمجھنے کو مل رہا ہے۔

چند دن قبل معروف انڈین اخبار ’فنانشل ایکسپریس‘ میں روپا کڈوا کا ایک کالم پڑھا۔ یہ وہاں کی معروف ماہر مالیات، مصنفہ اور اعلیٰ لیول کی پروفیشنل ہیں۔ ان کے مطابق 2050 تک انڈیا میں بزرگوں کی تعداد 34 کروڑ ہو جائے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کڈوا اسے صرف بوجھ نہیں سمجھتیں، وہ اسے ایک نیا معاشی میدان کہتی ہیں اور اس کا نام رکھتی ہیں ’سلور اکانومی‘۔ یعنی چاندی جیسے سفید بالوں والوں کی معیشت۔
میں نے بعد میں ریسرچ کی تو پتا چلا کہ سلور سکرین پچاس پچپن یا ساٹھ پینسٹھ سال سے زیادہ عمرکے افراد کی ضروریات، خدمات اور مصنوعات پر مبنی معاشی سرگرمی کو کہتے ہیں۔
انڈین مصنفہ کی دلیل سادہ مگر گہری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بوڑھوں کو صحت، دیکھ بھال، خاص رہائش، خاص خوراک، خاص خدمات چاہییں اور یہ سب چیزیں مل کر ایک بہت بڑی مارکیٹ بناتی ہیں۔
سب سے اہم بات جو انہوں نے کہی، وہ مجھے بہت پسند آئی۔ بزرگوں کی دیکھ بھال ایک ایسا کام ہے جسے مصنوعی ذہانت یا مشینیں چھین نہیں سکتیں، کیونکہ اس میں انسانی ہاتھ، انسانی لمس اور انسانی موجودگی چاہیے۔
آج جب ہر طرف یہ خوف ہے کہ روبوٹ ملازمتیں کھا جائیں گے، وہاں یہ ایک ایسا شعبہ ہے جو انسان کے پاس ہی رہے گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہی سوچ ہمیں اپنانا چاہیے۔ ہم بڑھاپے کو رونا دھونا سمجھتے ہیں، حالانکہ ایک اور زاویے سے دیکھا جائے تو یہاں ہزاروں ملازمتیں اور کروڑوں، اربوں کا کاروبار چُھپا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس میں کون کیا کر سکتا ہے۔
پاکستانی حکومت کیا کرے؟
اصل کام یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ حکومت اگر چاہے تو چند بنیادی قدم اٹھا کر پورا میدان کھول سکتی ہے۔
پہلا: ایلڈر کیئر کو باقاعدہ شعبہ تسلیم کیا جائے۔ جیسے نرسنگ اور پیرامیڈکس ہیں، ویسے ہی کیئر گِیور کی سرکاری سند اور ڈپلومہ ہونا چاہیے۔
ٹیوٹا، نیوٹیک اور دیگر ووکیشنل اداروں میں ایلڈر کیئر کے باقاعدہ کورسز شروع کیے جائیں۔ چھ ماہ اور ایک سال کے سرٹیفیکیٹ متعارف کرائے جائیں۔
مغربی دنیا میں ایسے کورسز ہو رہے ہیں، وہاں سے نصاب وغیرہ اور عملی تربیت کے لیے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔ خواتین اور مرد، دونوں کو تربیت دی جائے۔ یہ ایک قدم ہزاروں نوجوانوں کو باعزت روزگار دے سکتا ہے۔
دوسرا: بیرونِ ملک روزگار کا پروگرام۔ اس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ جاپان، جرمنی، برطانیہ اور کینیڈا میں کیئر ورکرز کی شدید کمی ہے۔ اندازہ ہے کہ صرف جاپان کو 2040 تک قریباً 5 لاکھ 70 ہزار کیئر ورکرز چاہییں۔

جرمنی میں 7 لاکھ تک کیئر ورکرز کی کمی ہے اور مجموعی طور پر ترقی یافتہ ملکوں کو کروڑوں کی تعداد میں یہ لوگ درکار ہوں گے۔
اگر پاکستان کے پاس سکلڈ، تجربہ کار ،سمجھدار ٹرینڈ لوگ ہوں جن کی تمام تر تربیت ہی زیادہ عمر کے لوگوں کا خیال رکھنے کی ہو تو اندازہ لگا لیں کہ کتنی بڑی تعداد میں ہم لوگ باہر بھیج سکتے ہیں جو وہاں جا کر باعزت روزگار کما سکیں۔
حکومت کو چاہیے کہ ان ایلڈر کیئر ورکرز کو انگریزی کے ساتھ ایک آدھ دوسری غیر ملکی زبان جیسے جاپانی، جرمن وغیرہ سکھائے۔ بنیادی قسم کے روزمرہ جملے اور عام ضرورت کے نام وغیرہ ہی سکھا دیں۔
پھر بین الاقوامی معیار کی سرٹیفیکیشن کرے اور ان ملکوں سے باقاعدہ روزگار کے معاہدے کرے۔
جیسے ہماری نرسیں دنیا بھر میں جاتی ہیں، بالکل اسی طرح ہم کیئر گیور بھی برآمد کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیے، یہ لوگ جو زرِمبادلہ بھیجیں گے، وہ کسی آئی ایم ایف کے قرض سے کم قیمتی نہیں ہو گا۔
تیسرا: ایک اہم کام مقامی سطح پر یہ کرنا چاہیے کہ جو کمپنیاں بزرگوں کے لیے رہائشی مراکز، طبی سہولتیں یا معاون آلات بنائیں، انہیں ٹیکس میں رعایت دی جائے، بعض دیگر رعایات بھی۔ نیا شعبہ اسی وقت پنپتا ہے جب حکومت شروع میں اُس کی انگلی پکڑ کر چلائے۔

چوتھا: ایجنگ پر ایک باقاعدہ نیشنل پالیسی بنانا۔ پاکستان میں آج تک ایجنگ پالیسی سنجیدگی سے زیرِ بحث نہیں آئی۔ صحت، ٹرانسپورٹ، شہری منصوبہ بندی اور سماجی تحفظ، ان سب کو بزرگ دوست (سینیئر سٹیزن فرینڈلی) بنانا پڑے گا۔ جہاں ان بزرگ افراد کو سہولت دستیاب ہو۔
نجی شعبہ کیا کرے
اصل معاشی موقع دراصل یہیں موجود ہے، اور خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ کام حکومت کے انتظار کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔
الف: ہوم کیئر کمپنیاں۔ گھر جا کر نرسنگ، فزیو تھراپی، طبی معاونت اور تیمارداری فراہم کرنے والی کمپنیاں۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں اس کی مارکیٹ خاموشی سے بن بھی رہی ہے، بس اسے منظم کرنا ہوگا۔
ب: سینیئر لِیونگ کمیونٹیز۔ ہمارے ہاں بزرگوں کے لیے باعزت اور معیاری رہائش کا قریباً فُقدان ہے۔ میں مغربی طرز کے اولڈ ہوم کی بات نہیں کر رہا، جہاں بوڑھوں کو گھر سے نکال کر پھینک دیا جاتا ہے۔
میں ایسی کمیونٹیز کی بات کر رہا ہوں جہاں محفوظ رہائش ہو، ساتھ مسجد ہو، طبی مرکز ہو اور کچھ تفریحی سرگرمیاں بھی ہوں۔ یعنی بڑھاپا تنہائی نہیں، ایک نئی طرح کی رونق بن جائے۔
ج: طبی آلات اور ٹیکنالوجی۔ ہماری لوکل انڈسٹری بزرگوں کے لیے واکر، ویل چیئر، خاص فرنیچر اور گرنے سے بچانے والے آلات بنا سکتی ہے۔

یہ سب ابھی مہنگے داموں باہر سے آتے ہیں۔ ہم انہیں یہیں بنا کر درآمدی متبادل بھی کھڑا کر سکتے ہیں۔
د: ڈیجیٹل خدمات۔ ٹیلی میڈیسن، دواؤں کی ہوم ڈیلیوری اور ایمرجنسی الرٹ سسٹم، بزرگوں کے لیے الگ سے بنائی گئی سروسز۔ ایک بٹن جو دبے تو مدد پہنچ جائے، یہ چھوٹی سی چیز کسی کی جان بچا سکتی ہے۔
فلاحی اور خیراتی ادارے کیا کریں؟
یہ شاید سب سے اہم پہلو ہے، کیونکہ ہر کوئی نجی خدمات کا خرچ نہیں اٹھا سکتا۔ الخدمت اور اخوت جیسے اداروں کو اس طرف بھی توجہ کرنا چاہیے۔
پہلا: تنہائی کے خلاف مہم۔ مغرب کی تحقیق بتاتی ہے کہ تنہائی بزرگوں کے لیے سگریٹ جتنی نقصان دہ اور خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔
فلاحی ادارے وزیٹنگ پروگرام، رضاکار نیٹ ورک اور کمیونٹی سینٹر قائم کر سکتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک بوڑھے کو دوا سے زیادہ کسی کے دو بول درکار ہوتے ہیں۔
دوسرا: ڈے کیئر مراکز۔ ایسی جگہیں جہاں بزرگ دن گزار سکیں، لوگوں سے مل سکیں، پڑھ سکیں، ہنس بول سکیں۔
تیسرا: کم آمدنی والوں کے لیے مفت ہوم کیئر۔ خیراتی ادارے مفت نرسنگ، فزیو تھراپی اور ادویات فراہم کر سکتے ہیں۔













